آئی ایم ایف کے مطالبے پر پیٹرولیم مصنوعات پر کاربن ٹیکس عائد کرنے کی تجویز

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے مطالبے پر حکومت پیٹرولیم مصنوعات پر کاربن ٹیکس عائد کرنے پر غور کر رہی ہے۔

میڈیا رپورٹس  کے مطابق آئی ایم ایف کی جانب سے دستاویزات اور ڈیجیٹلائزیشن کے لیے ویلیو ایڈڈ ٹیکس (وی اے ٹی) کے فوائد حاصل کرنے کے لیے انٹیگریٹڈ جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کے لیے دباؤ کے نتیجے میں حکومت کی جانب سے اس اقدام پر غور کیا جارہا ہے۔

ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ کاربن ٹیکس ان اقدامات کا حصہ ہے جس کے ذریعے مختلف اداروں سے نئے امدادی آلات بشمول گرین اور ای بانڈز، سستے قرضے اور گرانٹس کے لیے مالی مدد حاصل کی جاسکتی ہے، مزید کہا کہ مستقبل کے ترقیاتی پروگرامز کو پہلے ہی ماحولیاتی عوامی سرمایہ کاری کے انتظام کے معیارات سے ہم آہنگ کیا جا رہا ہے۔

آئی ایم ایف پیٹرولیم مصنوعات پر 60 روپے فی لیٹر پیٹرولیم لیوی کے علاوہ معیاری جی ایس ٹی کی بحالی کے بارے میں غور کررہا ہے، جو اس کے وسیع تر پروگرامز کے مقاصد میں سے ایک ہے تاکہ کسی بھی شعبے کے ساتھ ترجیحی سلوک یا بغیر کسی رعایت کے موجودہ جی ایس ٹی اسکیم کو پوری معیشت میں ٹیکس کے عالمی (وی اے ٹی) موڈ کے ساتھ تبدیل کیا جاسکے۔

تاہم حکام نے تجویز دی کہ کاربن ٹیکس کو دوبارہ متعارف کرایا جائے یا آنے والے بجٹ میں پیٹرولیم لیوی کی حد کو 100 روپے فی لیٹر تک بڑھایا جائے تاکہ پیٹرولیم مصنوعات سے زیادہ سے زیادہ ریونیو حاصل کیا جاسکے کیونکہ جی ایس ٹی کے برعکس جو زیادہ تر صوبوں کو جاتا ہے، اس کی آمدنی مکمل طور پر وفاقی کے کھاتے میں جاتی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کو دوبارہ متوازن کرنے کے مقابلے میں وفاقی ریونیو کے آلات، جیسے پیٹرولیم لیوی اور کاربن ٹیکس کو اکٹھا کرنا آسان اور اس سے مالیاتی مشکلات حل ہوں گی۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ حکومت اور آئی ایم ایف نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے تحت سماجی بہبود کے مختلف اقدامات کے حجم میں اضافے اور مہنگائی کے ساتھ ماہانہ وظیفے کو بڑھانے پر بھی تبادلہ خیال کیا، تاکہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے اثرات کا مقابلہ کیا جا سکے۔

حکام کے مطابق آمدن بڑھانے کے لیے ڈیجیٹلائزیشن اور دستاویزات پر توجہ مرکوز کی جائے گی اور چھوٹے دکانداروں کو تاجر دوست اسکیم کے تحت رضاکارانہ طور پر رجسٹر کرنے کی ترغیب دی جائے گی اور آئندہ مالیاتی بل میں انکم ٹیکس قوانین میں ترامیم کے ذریعے ان پر جرمانے اور دیگر سزاؤں کا تعین کیا جائے گا۔

اسی طرح نان فائلرز پر بینک ٹرانزیکشن پر زیادہ ود ہولڈنگ ٹیکس عائد کیا جائے گا، فی الحال نان فائلرز 50 ہزار روپے سے زیادہ کی ٹرانزیکشن پر 0.6 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس دیتے ہیں جو آئندہ بجٹ میں ایک فیصد کردیا جائے گا۔

مشہور خبریں۔

جادوئی چراغ ؛ میدان جنگ میں اسرائیلی فوج کے کمانڈروں کے لیے ایک گائیڈ

?️ 18 اپریل 2025سچ خبریں: صہیونی میڈیا نے مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی پر انحصار کرتے ہوئے

حکومت نے آئی ایم ایف کی ایک اور شرط پوری کردی

?️ 1 نومبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی حکومت نے ڈومور کا مطالبہ مان کر

توہین مذہب اور سائبر کرائم کے الزام میں ملزم کو سزائے موت اور عمر قید کی سزا

?️ 13 اکتوبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد کی خصوصی عدالت نے گجر خان

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مزید بڑھنے کا خدشہ ہے:وزیر اعظم

?️ 24 جنوری 2022اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان نے ایک بار پھر پٹرول

فلسطینی کارکن کے ساتھ اسرائیلی فوجی کے رویے پر نیویارکر کا رپورٹر حیران

?️ 14 فروری 2023سچ خبریں:نیویارکر میگزین کے رپورٹر لارنس رائٹ نے ٹویٹر پر پیغامات اور

ہمارے پاس سعودی عرب اور امارات کی سرزمین کو نشانہ بنانے کی صلاحیت: انصاراللہ

?️ 6 اکتوبر 2022سچ خبریں:  یمن کی انصار اللہ تحریک کے سیاسی دفتر کے رکن

پنجاب میں بلدیاتی انتخابات ای وی ایم پر ہوں گے

?️ 1 دسمبر 2021لاہور(سچ خبریں) پنجاب حکومت نے بلدیاتی انتخابات الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر کروانے

عراق اور شام کی سرحدوں پر 10 ہزار دہشت گردوں کی موجودگی

?️ 12 اگست 2022سچ خبریں:اقوام متحدہ نے عراق اور شام کی سرحدوں پر 10,000 دہشت

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے