یوٹیوب کی نئی مونیٹائزیشن پالیسی کا اعلان، اے آئی ویڈیوز سے کمائی بند

?️

سچ خبریں: ویڈیو اسٹریمنگ پلیٹ فارم یوٹیوب نے اپنی نئی مونیٹائزیشن پالیسی جاری کرتے ہوئے تخلیق کاروں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ری ایکشن، کمنٹری اور کلپ ویڈیوز اب بھی مونیٹائزیشن کے لیے اہل ہیں بشرط یہ کہ ان میں تخلیقی اور اصل مواد شامل ہو۔

نئی پالیسی کا مقصد غیر معیاری، کم محنت سے تیار کردہ اور مصنوعی ذہانت (AI) سے بنائے گئے مواد کی روک تھام ہے جو پلیٹ فارم پر تیزی سے پھیل رہا ہے۔

یوٹیوب نے رواں ماہ کے آغاز میں اپنی پالیسیز میں تبدیلی کا عندیہ دیا تھا، جس کے بعد متعدد تخلیق کاروں میں یہ خدشہ پیدا ہوا تھا کہ کہیں ری ایکشن یا کلپ چینلز کو مونیٹائزیشن سے نہ ہٹا دیا جائے۔ تاہم اب یوٹیوب نے باضابطہ طور پر گائیڈ لائنز کو واضح کردیا، جن کے مطابق ری ایکشن ویڈیوز متاثر نہیں ہوں گے۔

’ریپیٹیٹیو کنٹینٹ‘ کی جگہ ’ان آتھینٹک کنٹینٹ‘ کا لفظ

پہلے ”Repetitious Content“ یعنی بار بار دہرائے جانے والے مواد کی اصطلاح کو اب ”Inauthentic Content“ یعنی غیر اصل مواد سے بدل دیا گیا ہے تاکہ یوٹیوب کے معیاری اور تخلیقی مواد کے عزم کو بہتر طریقے سے بیان کیا جا سکے۔

یوٹیوب کے ہیلپ پیج پر جاری نوٹ میں کہا گیا ہے کہ اس قسم کا مواد پہلے ہی سے ہماری پالیسیز کے تحت مونیٹائزیشن کے لیے نااہل ہے، ہم صرف اصل اور مستند مواد پر تخلیق کاروں کو انعام دیتے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ری یوزڈ کنٹینٹ پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے، جس میں کمنٹری، کلپس، کمپائلیشنز اور ری ایکشن ویڈیوز شامل ہیں۔

غیر اصلی (Inauthentic) مواد کیا ہے؟

یوٹیوب نے اب واضح مثالیں دی ہیں کہ کون سا مواد ’غیر اصلی‘ تصور ہوگا اور مونیٹائزیشن کے قابل نہیں ہوگا۔

صرف ویب سائٹس یا نیوز فیڈز کا متن پڑھنے والی ویڈیوز۔

سلائیڈ شوز یا سکرولنگ ٹیکسٹ جن میں کوئی اضافی کمنٹری، بیانیہ یا تعلیمی پہلو نہ ہو۔

ایسے ویڈیوز جو مشینی انداز میں تیار کیے گئے ہوں اور جن میں تخلیق کار کی ذاتی شمولیت نظر نہ آئے۔

یوٹیوب کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات اے آئی سے بنائے گئے ایسے مواد کو کم کرنے کے لیے ہیں جو انسانوں کے تیار کردہ ویڈیوز کی نقل کرتا ہے مگر اس میں اصل تخلیقی عنصر موجود نہیں ہوتا۔

یوٹیوب نے خبردار بھی کیا کہ ایسے مواد کو پوسٹ نہ کیا جائے جو پہلے ہی بڑے پیمانے پر شیئر ہو چکا ہو یا جو بغیر کسی تبدیلی کے دوبارہ اپلوڈ کیا گیا ہو۔

مشہور خبریں۔

جموں کشمیر کے تنازع پر پاکستان کے اصولی مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے

?️ 3 اپریل 2021اسلام آباد(سچ خبریں) ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ

لاپتا افراد کے کیسز کیلئے لارجر بینچ تشکیل کرنے کیلئے چیف جسٹس کو لکھ رہا ہوں، جسٹس محسن اختر

?️ 7 جون 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آبادہائیکورٹ نے شاعر احمد فرہاد کی بازیابی

عرب دنیا کے ساتھ شام کے تعلقات کی بحالی؛ دمشق کو الگ تھلگ کرنے کے منصوبے کی ناکامی

?️ 22 مارچ 2024سچ خبریں: عرب دنیا کے ممالک کے ساتھ شام کے تعلقات کی

نیتن یاہو کی اتحادی حکومت کے ختم ہونے کا خدشہ بڑھ گیا

?️ 28 جولائی 2025نیتن یاہو کی اتحادی حکومت کے ختم ہونے کا خدشہ بڑھ گیا

مسرور بیس پر حملے کا ماسٹر مائنڈ افغانستان میں مقیم 

?️ 12 اپریل 2025سچ خبریں: جیو نیوز سمیت پاکستانی میڈیا اداروں کی رپورٹس کے مطابق

27 پاور پلانٹس میں تکنیکی مسائل یا خرابی کی وجہ سے لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے

?️ 15 اپریل 2022اسلام آباد(سچ خبریں)وزیر اعظم شہبازشریف کو جمعرات کو بتایا گیا کہ 7

قوم پر مسلط لوگوں نے کسی حلقہ میں بھی 30 فیصد ووٹ نہیں لیے

?️ 11 مئی 2024لاہور:(سچ خبریں) امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ

امریکی کسے ووٹ دیں؟ امریکی میگزین کا مشورہ

?️ 28 دسمبر 2023سچ خبریں: امریکہ میں نئے سال میں دو فیصلہ کن انتخابات کے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے