کورونا وائرس اس سے پہلے بھی دنیا میں آیا، نئی تحقیق میں انکشاف

کورونا وائرس اس پہلے بھی دنیا میں آیا، نئی تحقیق میں انکشاف

?️

نیویارک(سچ خبریں)عالمی وبا کورونا وائرس کے بارے میں آسٹریلیا اور امریکی سائنسدانوں پر مشتمل ٹیم نے یہ دریافت کیا ہے کہ لگ بھگ 25 ہزار سال قبل مشرقی ایشیا میں کورونا وائرس کی ایک وبا پھوٹ پڑی تھی جو 20 ہزار سال تک جاری رہی تھی۔کرنٹ بائیولوجی میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق اس انکشاف کے شواہد خطے کے موجودہ لوگوں کے جینوم میں دیکھے جاسکتے ہیں۔

سال2002میں چین میں پھیلنے والی کورونا وائرس کی پہلی وبا کو سارس (سیویر ایکیوٹ ریسپائریٹری سنڈروم) کا نام دیا گیا تھا جس کے نتیجے میں 8 ہزار افراد متاثر جبکہ 800 ہلاک ہوئے تھے۔جس کے چار سال بعد مڈل ایسٹ ریسپائریٹری سنڈروم نامی (ایم ای آر ایس) کورونا وائرس کی وبا کے نتیجے میں 2400 افراد متاثر جبکہ 850سے زائد ہلاک ہوئے تھے اور ان دنوں دنیا کو “کو سار-کو وی-ٹو” کی متعدد اقسام کا سامنا ہے جو کوویڈ-19 نامی بیماری کی وجہ بن رہی ہیں۔

تحقیق کے شریک مصنف اور کوئنز لینڈ یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی میں حیاتیاتی ماہر کیریل الیگزینڈرو نے کہا کہ اس وائرس نے آبادی میں ایک بڑی تباہی پھیلائی تھی اور اہم جینیاتی داغ بھی چھوڑا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ کسی درخت پر موجود دائروں کی طرح ہمارا جینیٹک کوڈ بھی ہمارے قدیم ماضی کی داستان سناسکتا ہے۔ ہمارے جینز میں ہونی والی میوٹیشنز کا مطلب ہے کچھ لوگ فطری طور پر وائرسز سے جلدی متاثر ہوسکتے ہیں یا ان میں بیماری کی سنگین علامات ظاہر ہوسکتی ہیں۔

ڈاکٹر سولیمی اور ان کے ساتھیوں نے یہ معلوم کرنے کے لیے تحقیق کی ماضی قدیم میں بھی انسان کورونا وائرسز کا شکار ہوئے تھے یا نہیں اور یہ چیز ہمارے جینوم کے ذریعے سامنے آسکتی ہے۔لہٰذا انہوں نے دنیا بھر سے ہزاروں انسانوں کے جینومز کا سروے کیا اور اسے1000 جینوم پروجیکٹ ڈیٹا بیس میں محفوظ کیا۔

ویتنام، چین اور جاپان سے تعلق رکھنے والے افراد میں کورونا وائرس سے تعلق رکھنے والی جینیاتی علامات پائی گئیں تاہم یہ علامات دنیا کے دیگر حصوں کے لوگوں کے جینز میں ظاہر نہیں ہوئی۔ڈاکٹر سولیمی نے کہا کہ یہ علامات ظاہر ہونے کے بعد ہم نے یہ جاننے کے لیے مختلف ٹولز استعمال کیے کہ اس خطے کے لوگوں میں یہ جینیاتی تبدیلیاں کتنا عرصہ پرانی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ تبدیلیاں لگ بھگ 25 ہزار سال قبل رونما ہونا شروع ہوئیں۔

محقیقین کے مطابق ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ وائرس نے پانچ ہزار سال قبل جینومز پر ارتقائی دباؤ ڈالنا چھوڑدیا تھا جس کا مطلب ہے کہ یہ وبا 20 ہزار سال تک جاری رہی تھی۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک وائرس یا وائرسز کی سیریز بھی ہوسکتا ہے جنہوں نے ایک ہی مالیکیولر مشینری استعمال کی کیونکہ ایک اور تحقیق میں بھی یہ بات سامنے آئی تھی کہ “سارس-کووی-ٹو” کی وائرل فیملی تقریبا 23 ہزار سال پہلے سامنے آئی تھی۔

مشہور خبریں۔

پنجاب؛ گندم کے کاشتکاروں کیلئے 100 ارب کے بلاسود قرض اور ٹارگٹڈ سبسڈی کی تجویز

?️ 9 اگست 2025لاہور (سچ خبریں) وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر گندم

خلا سے سمندر پر لینڈنگ کا تجربہ انتہائی چیلنج تھا

?️ 7 مئی 2021نیویارک( سچ خبریں)چار خلا باز بین الاقوامی خلائی سٹیشن میں 160 دن

پاکستان کا مصنوعی ذہانت کے اخلاقی استعمال کیلئے ’بائنڈنگ‘ فریم ورک کا مطالبہ

?️ 25 نومبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) سیکریٹری خارجہ سائرس قاضی نے مصنوعی ذہانت اور

ڈیم بنانے کیلئے اپنی تمام سیاسی قوت استعمال کروں گا۔ ملک محمد احمد خان

?️ 30 اگست 2025لاہور (سچ خبریں) اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا

جرمنی میں گیس کی قلت

?️ 20 مارچ 2022سچ خبریں:جرمن حکام کا کہنا ہے کہ روس یوکرین جنگ کی وجہ

قومی سلامتی کمیٹی کا کالعدم جماعت کیساتھ مذاکرات جاری رکھنے کا فیصلہ

?️ 29 اکتوبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں)وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ہونے والے قومی سلامتی

برکس ممبران کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط بنانے پر زور

?️ 11 جون 2024سچ خبریں: روس کے شہر نزنی نووگوروڈ میں پہلے دن کے اختتام پر

لاہور ہائیکورٹ میں حمزہ شہباز کی حلف برداری کے خلاف درخواستوں پر سماعت

?️ 1 جون 2022لاہور(سچ خبریں)لاہور ہائیکورٹ نے وزیراعلیٰ پنجاب کی حلف برداری کے خلاف درخواستوں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے