پاکستان میں پہلی بار مقامی اے آئی ڈیٹا سینٹر اور خودمختار کلاؤڈ کا آغاز

?️

سچ خبریں: پاکستان میں پہلی بار مقامی طور پر ہوسٹ کیا گیا اے آئی ڈیٹا سینٹر اور خودمختار کلاؤڈ متعارف کروا دیا گیا ہے، جس سے ملک میں صحت، مالیات، عوامی تحفظ اور دیگر شعبوں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال میں تیزی آنے کی توقع ہے اور ساتھ ہی سائبر سیکیورٹی اور ڈیٹا شفافیت بھی مضبوط ہوگی۔

ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق ٹیلی نار نے ڈیٹا والٹ کے تعاون سے ملک میں پہلی بار مقامی طور پر ہوسٹ کیا گیا مصنوعی ذہانت (اے آئی) ڈیٹا سینٹر اور خودمختار اے آئی کلاؤڈ لانچ کردیا ہے، جس سے صحت، مالیات اور عوامی تحفظ سمیت مختلف شعبوں میں پاکستان میں اے آئی کے استعمال میں تیزی آنے کی توقع ہے، جب کہ سائبر سیکیورٹی اور ڈیٹا شفافیت بھی مضبوط ہوگی۔

نویدیا کے سرکٹس کی دستیابی سے کاروباری اداروں کو ترقی یافتہ گرافکس پروسیسنگ یونٹس (جی پی یوز) تک رسائی حاصل ہوگی، جو کمپیوٹنگ اور مقامی طور پر ہوسٹ کی گئی اے آئی انفراسٹرکچر کے لیے اہم ہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا نے تجارتی جنگ کے باعث نویدیا کو خاص طور پر چین کو اپنے اے آئی چپس برآمد کرنے سے روک رکھا ہے، تاہم ڈیٹا والٹ کا کہنا ہے کہ انہیں اپنے جی پی یوز کے لیے نویدیا سے خصوصی منظوری حاصل ہے۔

برآمدی پابندیوں کے علاوہ عالمی سطح پر جی پی یوز کی کمی اور درآمدی لاگت میں اضافے نے بھی پاکستان کی اعلیٰ معیار کی اے آئی ٹیکنالوجی اپنانے کی صلاحیت کو محدود کیا ہے۔

تاہم، سخت جانچ پڑتال کے بعد منظور ہونے والا یہ منصوبہ پاکستان کو نویدیا ایکسلریٹرز سے فائدہ اٹھا کر اپنی اے آئی صلاحیت کو اُجاگر کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

اس اقدام سے مالیات، صحت، مینوفیکچرنگ، عوامی تحفظ، لاجسٹکس، زراعت اور سرکاری خدمات سمیت مختلف شعبوں میں پاکستان کے اے آئی استعمال میں نمایاں بہتری آئے گی، کیونکہ اس سے جدید اے آئی ایپلیکیشنز کے لیے درکار ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ طاقت اور مطابقت رکھنے والا ماحول میسر آئے گا۔

ڈیٹا والٹ کی سی ای او مہوش سلمان علی نے بتایا کہ ڈیٹا والٹ پاکستان کا واحد ڈیٹا سینٹر ہے جو جی پی یو سروسز فراہم کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ یہ مشکل ہے، لیکن ہم نے 3 ہزار سے زائد جی پی یوز حاصل کیے ہیں اور انہیں بطور سروس فراہم کر رہے ہیں اور مزید کہا کہ اس طرح ہم ملک کا واحد اے آئی فعال ڈیٹا سینٹر بن چکے ہیں۔

مہوش علی کے مطابق ڈیٹا والٹ پاکستان کے پاس نویدیا کی جانب سے جی پی یوز کے لیے باضابطہ اور خصوصی منظوری موجود ہے اور یہ جی پی یوز وہ نویدیا کے پارٹنرز سے خریدتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر جی پی یوز کی شدید کمی ہے اور امریکی برآمدی پابندیاں بھی موجود ہیں، پاکستان بھی پابندی والے ممالک کی فہرست میں شامل ہے، اس لیے عام حالات میں کوئی بھی پاکستانی کمپنی قانونی طور پر ان جی پی یوز کو نہیں خرید سکتی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کی کمپنی نے اس مقصد کے لیے بہت سخت تکنیکی، تعمیل اور مالی جانچ کا سامنا کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے یہ عمل بہت پہلے شروع کیا، کئی سال کے پروگرام کے لیے عزم ظاہر کیا اور نویدیا کے مجاز پارٹنرز کے ذریعے کام کیا، اسی لیے ہمارا منصوبہ منظور ہوا۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ جی پی یو ایک خصوصی الیکٹرانک سرکٹ ہے جو ڈیجیٹل امیج پروسیسنگ اور کمپیوٹر گرافکس کی رفتار بڑھانے کے لیے تیار کیا گیا ہے، یہ یا تو ڈسکریٹ گرافکس کارڈ پر نصب ہوتا ہے یا مدربورڈ، موبائل فونز، پرسنل کمپیوٹرز، ورک سٹیشنز اور گیم کنسولز میں استعمال ہوتا ہے۔

ڈیٹا پروٹیکشن

کمپنی کا کہنا ہے کہ مقامی طور پر دستیاب خودمختار جی پی یو انفراسٹرکچر سے پاکستانی محققین، اسٹارٹ اپس، کاروباری اداروں اور یونیورسٹیوں کو اردو اور علاقائی زبانوں کے لیے ایل ایل ایمز تیار کرنے میں مدد ملے گی، ساتھ ہی فِن ٹیک سمیت شعبہ جاتی ضروریات پر مبنی اے آئی بھی بنائی جا سکے گی، چونکہ اے آئی ہر صنعت کو تبدیل کر رہی ہے، اس انقلاب کی بنیاد جی پی یو کمپیوٹنگ ہے۔

مزید یہ کہ تمام ڈیٹا کو پاکستان کے اندر رکھنے سے سائبر سیکیورٹی، دفاع، شفافیت، آڈٹ کے قابل عمل نظام، رسائی کنٹرول، آئیڈنٹیٹی منیجمنٹ، پرائیویسی اور قومی ڈیٹا پروٹیکشن مضبوط ہوگا۔

چونکہ ڈیٹا پروسیسنگ مکمل طور پر پاکستان کی سرحدوں کے اندر ہوگی اور ڈیٹا والٹ کے ہائی ڈینسٹی اے آئی ڈیٹا سینٹر میں ہوسٹ کیا جائے گا، اس لیے حساس ڈیٹا جیسے مالیاتی لین دین، ہیلتھ کیئر امیجنگ، ٹیلی کام ڈیٹا اور سرکاری ریکارڈ کو ملک سے باہر منتقل کرنے کے خطرات ختم ہو جائیں گے۔

اس وقت ملک میں کئی خودمختار کلاوڈ سروسز موجود ہیں، جنہیں بنیادی طور پر ٹیلی کام کمپنیاں چلاتی ہیں، جن میں ریاستی ملکیت پی ٹی سی ایل اور نیشنل ٹیلی کمیونی کیشن کارپوریشن (این ٹی سی) شامل ہیں۔

تاہم، پاکستانی کاروباری ادارے اور سرکاری ادارے اے آئی ورک لوڈز کے لیے اب بھی آف شور کلاوڈ ریجنز پر انحصار کرتے ہیں۔

مشہور خبریں۔

قابض صیہونی فلسطینیوں کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتے:عراقی رہنما

?️ 7 اگست 2022سچ خبریں:عراق کی قومی حکمت تحریک کے رہنما نے غزہ میں ہونے

معروف فلسطینی ڈاکٹر کی اغوا پر حکومتِ غزہ اور حماس کا شدید ردعمل

?️ 22 جولائی 2025غزہ میں اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں معروف فلسطینی ڈاکٹر کی اغوا پر

ملک بھر میں انٹرنیٹ کی سست روی کا مسئلہ حل کردیا گیا، پی ٹی سی ایل کا دعویٰ

?️ 17 جنوری 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان ٹیلی کمیونیکشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی

بلوچستان میں ریاستی پالیسی درست نہیں، شاہ محمود قریشی

?️ 3 ستمبر 2024راولپنڈی: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی

بن زاید اور بن سلمان کے درمیان کیا چل رہا ہے؟

?️ 25 جولائی 2023سچ خبریں:انگریزی اخبار ٹیلی گراف نے مشرق وسطیٰ کے ایک رپورٹر جیمز

سوڈان میں جنگ بندی جاری رکھنے کا بین الاقوامی مطالبہ

?️ 21 اپریل 2023سچ خبریں:سوڈان میں عارضی جنگ بندی کے اعلان کے بعد جنگ بندی

اسرائیلی حکومت کو ہتھیار پہنچانے والی کمپنی کا دفتر بند کریں: تیونس

?️ 25 نومبر 2024سچ خبریں: تیونس کے شہری ڈنمارک کی کمپنی Maersk کے دفتر کے

افغان سرزمین سے پاکستان کیخلاف دہشتگردی ڈھکی چھپی نہیں۔ طارق فضل چودھری

?️ 26 فروری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چودھری نے کہا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے