?️
سڈنی (سچ خبریں) ماہرین نے پہلی بار دنیا کا نایاب ترین ممالیہ جانور دریافت کرلیا ہے، یہ اڑنے والی گلہری ہے اور اسے پہلی بار ہمالیہ کے دامن میں دیکھا گیا ہے۔ سائنس دان اسے تقریباً 130 سالوں سے جانتے ہیں، لیکن پہلے سمجھا جاتا تھا کہ اس کی واحد انتہائی نایاب قسم پاکستان کی دور دراز وادیوں میں ہی رہتی ہے، لیکن اب آسٹریلیا اور چین کے محققین نے اس اڑن گلہری کی دو مزید اقسام کا پتہ چلایا ہے، جن کے بارے میں سائنس کو پہلے علم نہیں تھا۔
بین الاقوامی ویب سائٹ کے مطابق آسٹریلوی سائنس دانوں نے ہمالیہ کے دامن میں دنیا کا نایاب ترین ممالیہ جانور دریافت کیا ہے۔ یہ ایک اڑن گلہری ہے جو ایک میٹر سے زیادہ لمبی ہوتی ہے اور اس کا وزن 2.5 کلو ہوتا ہے۔
آسٹریلین میوزیم کے اہم سائنس دان پروفیسر کرسٹوفر ہیلگن اور ریسرچ ایسوسی ایٹ اسٹیفن جیکسن کی یہ دریافت پیر کو زولوجیکل جرنل آف لینن سوسائٹی میں شائع ہوئی ہے۔اون رکھنے والی اس اڑتی گلہری کے عجائب گھر میں موجود نمونوں سے حاصل کردہ معلومات استعمال کرتے ہوئے اور اب تک کی گئی عملی مہمات کا ڈیٹا استعمال کر کے ان کی ٹیم نے تصدیق کی ہے کہ یہ بڑی اور روئیں دار گلہریاں تین علیحدہ مقامات پر مختلف اقسام کی آبادیاں بنا چکی ہیں، جن میں سے دو اقسام بالکل نئی ہیں۔
انہیں تبت کی اونی اڑن گلہری اور چینی صوبہ یونان کی اونی اڑن گلہری کے نام دیے گئے ہیں۔پروفیسر ہیلگن کہتے ہیں کہ یہ دریافت ماہرینِ حیوانات کو نئی سائنس بلکہ نئے ممالیہ جانوروں کی طرف لے جائے گی، یہ دنیا کی سب سے بڑی گلہریاں ہیں اور حیرت کی بات یہ ہے کہ ان کو سنہ 2021 میں سائنسی نام دیا جا رہا ہے۔
نرم رواں رکھنے والی گلہریوں کی یہ نئی اقسام جینیاتی اور جسمانی اعتبار سے دوسری گلہریوں سے کافی مختلف ہیں۔ پھر یہ دنیا کی چھت پر رہتی ہیں یعنی ہمالیہ کے دامن اور تبت کی سطح مرتفع پر۔ڈاکٹر جیکسن کے مطابق یہ گلہریاں 4 ہزار 800 میٹرز کی بلندی پر رہتی ہیں، یہ ماؤنٹ ایورسٹ کی آدھی بلندی بنتی ہے، جہاں زیادہ تر علاقہ انسانی آبادی سے خالی ہے اور بہت کم جانور یہاں آباد ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک میٹر لمبی ریشمی رواں رکھنے والی یہ گلہری دنیا میں سب سے بڑی ہے۔ یہ رات کو جاگنے والا جانور ہے اور اس کی لومڑی جیسی لمبی دم ہے۔چین میں ان اونی اڑن گلہریوں کی آبادی کے حوالے سے شبہات تو پہلے سے موجود تھے لیکن اس کا کوئی دستاویزی ثبوت نہیں تھا۔ مشرقی ہمالیہ کے خطے میں جو یونانی اونی اڑن گلہری دریافت ہوئی ہے، وہ عالمی حیاتی تنوع کے تین مقامات کا سنگم ہے، ہمالیہ، جنوب مغربی چین کے پہاڑ اور ہند برما۔
دوسری نئی قسم، تبتی اونی اڑن گلہری، جنوبی سطح مرتفع تبت میں پائی جاتی ہے جو چین کے علاقے تبت اور بھارتی ریاست سکم کے درمیان ہے۔سائنس دانوں کو امید ہے کہ تبتی اونی اڑن گلہری اب بھی چین، بھارت اور بھوٹان کے اونچے مقامات پر ہوگی۔ اس گلہری کی تینوں اقسام ان مقامات سے اوپر ہی رہتی ہیں جہاں درخت اگ سکتے ہیں یعنی 24 سو میٹر سے اوپر۔
ڈاکٹر جیکسن نے کہا کہ ابھی بہت سی معلومات موجود نہیں ہیں، لیکن دانت بہت ہی خاص ہوتے ہیں اور یہ صنوبر کے باریک پتوں سے خوراک حاصل کرتی ہیں، جو ایک غیر معمولی خوراک ہے۔یہ دور دراز علاقوں میں رہتی ہیں اور ان کی تمام ہی اقسام شکار، اپنے قدرتی مساکن سے محروم ہونے اور درجہ حرارت بڑھنے کی وجہ سے مسائل سے دو چار ہیں۔


مشہور خبریں۔
حزب اللہ کو بھی دیگر سیاسی جماعتوں کی طرح کام کرنے کا حق ہے: لبنانی وزیر اعظم
?️ 28 دسمبر 2021سچ خبریں:لبنانی وزیر اعظم نجیب میقاتی نے یہ کہتے ہوئے کہ لبنان
دسمبر
اسحاق ڈار کا او آئی سی میں بیان
?️ 8 اگست 2024سچ خبریں: وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے خبردار کیا ہے کہ فلسطین
اگست
اسرائیلی نصر اللہ سے اتنا خوفزدہ کیوں ہیں؟
?️ 19 اگست 2023سچ خبریں:2006 کی جنگ کی 17ویں سالگرہ کے موقع پر پیر کی
اگست
استقامتی محاذ کے خلاف مشترکہ جنگ
?️ 5 اکتوبر 2022سچ خبریں:ان دنوں صرف ایران ہی کو فسادات کا سامنا نہیں ہے
اکتوبر
پاکستان میں دہشتگردی کا پشت پناہ بھارت، جنگ منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔ فیلڈ مارشل
?️ 30 مئی 2025لاہور (سچ خبریں) چیف آٖف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے
مئی
بھوک اور پیاس کے ڈراؤنے خواب کے درمیان شہریوں کا مسلسل قتل
?️ 9 اپریل 2025سچ خبریں: غزہ کی پٹی کے خلاف صیہونی حکومت کی وحشیانہ جنگ کے
اپریل
بالی وڈ کے معروف جوڑے کا 18 سال بعد الگ ہونے کا فیصلہ
?️ 31 جولائی 2023سچ خبریں: بالی وڈ اداکار فردین خان اور ان کی اہلیہ نتاشا
جولائی
ہمارے نظام حکومت میں اچانک تبدیلی سہنے کی سکت نہیں ہے: وزیر اعظم
?️ 11 فروری 2022اسلام آباد(سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہمارے نظام
فروری