سیارے میں زندگی سے متعلق سائنسدانوں کی بڑی کامیابی

سیارے میں زندگی سے متعلق سائنسدانوں کی بڑی کامیابی

?️

لندن (سچ خبریں)محققین نے انکشاف کیا ہے کہ سیارے زہرہ کے بادلوں میں زندگی کے آثار ملے ہیں سائنسدانوں  کا کہنا ہے کہ زہرہ کے بادلوں میں بیکٹیریا کی زندگی کے ثبوت سامنے آنے کے بعد اس بات کا امکان ہے کہ اُسے مزید زندگی کے قابل جگہ بنایا جاسکے۔زمین پر تیزابی ماحول میں زندگی نمو پا سکتی ہے لیکن جتنے تیزابی زہرہ کے بادل ہیں اتنے تیزابی کچھ بھی نہیں۔

اس حوالے سے کارڈف یونیورسٹی، ایم آئی ٹی اور کیمبرج یونیورسٹی کی مشترکہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ زمین سے چار کروڑ 73 لاکھ کلو میٹر کے فاصلے پر موجود اس سیارے کے بادلوں میں نائیٹروجن اور ہائیڈروجن سے بنی بے رنگ گیس، جس کو امونیا کے نام سے جانا جاتا ہے، ہوسکتی ہے۔

سائنس دانوں نے ایک سیٹ پر کیمیکل عمل دِکھایا کہ اگر سیارے زہرہ پر امونیا موجود ہوگی تو کس طرح کیمیکل ری ایکشن کا تواتر اطراف میں موجود سلفیورک ایسڈ کے قطروں کو نیوٹرل کرتا ہوگا۔اس کے نتیجے میں بادلوں کی تیزابیت منفی 11 سے اتر کر صفر پر آ جاتی ہوگی۔ اگرچہ پی ایچ اسکیل پر یہ اب بھی بہت تیزابی صورتحال ہے لیکن یہ ایسی سطح ہوگی جہاں زندگی ممکنہ طور پر باقی رہ سکے گی۔

کارڈف یونیورسٹی کے اسکول آف فزکس اینڈ آسٹرونومی سے تعلق رکھنے والے تحقیق کے شریک مصنف ڈاکٹر ولیم بینس کا کہنا تھا کہ ہم جانتے ہیں کہ زمین پر تیزابی ماحول میں زندگی نمو پا سکتی ہے لیکن جتنے تیزابی زہرہ کے بادل ہیں اتنا تیزابی کچھ بھی نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ لیکن اگر کوئی چیز بادلوں میں امونیا بنا رہی ہے تو وہ کچھ قطروں کو نیوٹرلائز کرتے ہوئے انہیں ممکنہ طور پر مزید زندگی کے قابل بنائیں گے۔

ماہرینِ فلکیات اور سائنس دان زہرہ بالائی ایٹماسفیئر پر موجود امونیا کا 1970 کی دہائی سے مطالعہ کر رہے ہیں۔ بالخصوص جب یہ ہمیشہ سے مانا جاتا رہا ہے کہ یہ سیارہ اتنا گرم ہے کہ وہاں زندگی باقی نہیں رہ سکے گی۔اب یہ بات کہی جا رہی ہے کہ ممکن ہے وہاں بادلوں میں دنیا میں پائے جانے والے بیکٹیریا جیسی حیاتیات موجود ہوں۔ سائنس دانوں کا ماننا ہے کہ امونیا کی بنیاد بائیولوجیکل ہیں نا کہ قدرتی عوامل جیسے کہ بجلی کا کڑکنا یا آتش فشاں کا پھٹنا۔

ایم آئی ٹی سے تعلق رکھنے والی تحقیق کی شریک مصنف پروفیسر سارا سیگر کا کہنا تھا کہ امونیا کو سیارے زہرہ پر نہیں ہونا چاہیئے۔انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ہائیڈروجن جڑی ہے اور وہاں پر بہت تھوڑی ہائیڈروجن ہے۔ کوئی بھی گیس جو اپنے اطراف کے ماحول سے مطابقت نہ رکھتی ہو اس کے متعلق خود بخود یہ شک جاتا ہے کہ اُسے کسی زندگی نے بنایا ہے۔

مشہور خبریں۔

میں نے اپنی زندگی میں ایسی تباہی کبھی نہیں دیکھی: صیہونی مقام

?️ 16 جون 2025سچ خبریں: ریشون لیزین کے مقام پر ایران کے میزائل حملے کے بعد

نگران وزیر اعظم کا دورہ چین مکمل، مزید معاہدوں پر دستخط

?️ 21 اکتوبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ چین کا

تل ابیب میں کشیدگی کی وجوہات 

?️ 5 اگست 2025سچ خبریں: اسرائیلی وزیر داخلہ امن اتمار بن گویر نے اسرائیلی فوج

سوات واقعے پر گورنر کے پی فیصل کریم کنڈی کا وزیراعلی سے استعفے کا مطالبہ

?️ 27 جون 2025پشاور (سچ خبریں) گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے سوات میں

حکومت نے بجلی پر ٹیکس عائد کر دیا

?️ 27 اگست 2021اسلام آباد (سچ خبریں)تفصیلات کے مطابق حکومت کی جانب سے بجلی کی

پنجاب میں رینجرز، بلوچستان میں فوج تعینات کرنے کی منظوری

?️ 16 مئی 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) وفاقی کابینہ نے دونوں صوبوں میں امن و امان

مسجد نبوی میں سماجی فاصلہ ختم

?️ 6 مارچ 2022سچ خبریں:   سرکاری سعودی خبر رساں ایجنسی کے مطابق سعودی عرب نے

یومِ قدس طوفان الاقصیٰ کے سائے میں؛ اسرائیلی خطرہ صرف فلسطین تک محدود نہیں

?️ 28 مارچ 2025 سچ خبریں:یومِ قدس، جسے امام خمینی نے رمضان المبارک کے آخری

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے