صیہونی حکومت جنگ بندی کے باوجود غزہ پر کیوں حملے کر رہی ہے؟

صیہونی حکومت جنگ بندی کے باوجود غزہ پر کیوں حملے کر رہی ہے؟

?️

سچ خبریں:اسرائیل جنگ بندی کو صرف ایک عارضی حکمتِ عملی سمجھتا ہے اور دوبارہ غزہ میں جنگی ماحول پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم اگر جنگ دوبارہ چھڑی، تو فلسطینی مزاحمتی تحریک زیادہ مضبوط ہوگی اور اسے عوامی حمایت بھی پہلے سے کہیں زیادہ حاصل ہوگی ۔

مغربی ایشیا کے ممتاز تجزیہ کار سعداللہ نے ٹرمپ کے منصوبے کے پس منظر اور موجودہ فلسطینی مزاحمتی تحریک اور اسرائیل پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کے منصوبے کے مختلف محرکات پر بہت سے نظریات سامنے آئے ہیں ؛کچھ قیاسی، کچھ حقائق پر مبنی، اور بعض دونوں کا امتزاج۔

یہ بھی پڑھیں:اسرائیلی حکومت کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزی پر قطر کا ردعمل

انہوں نے کہا کہ میرا تجزیہ زمینی حقائق پر مبنی ہے جس کے مطابق، صیہونی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے جنگ کے ذریعے اپنے اہداف حاصل کرنے کی کوشش کی، لیکن ناکام رہے، اگر وہ کامیاب ہو جاتے تو قیدیوں کے تبادلے جیسے مذاکراتی راستے اختیار نہ کرتے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل نے اپنی فوجی حکمتِ عملی میں شکست کے بعد مجبوری میں مذاکرات کا راستہ اپنایا۔

تجزیہ کار نے کہا کہ گذشتہ پانچ ماہ میں اسرائیل نے غزہ میں دو بڑی فوجی کارروائیاں کیں:

  1. آپریشن گدعون 2 — جو اگست میں شروع ہوا اور ناکام قرار پایا۔
  2. آپریشن ارابہ‌های گدعون — جس کی ناکامی کے اشارے صرف دو ہفتوں بعد ہی اسرائیلی فوجی کمانڈروں نے دے دیے۔

ان کارروائیوں کے باوجود اسرائیلی فوج غزہ کے شہروں میں داخل ہونے یا زمینی برتری حاصل کرنے میں ناکام رہی۔
زارعی کے مطابق، یہی ناکامی اسرائیلی حکومت کو قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے پر راضی ہونے پر مجبور کر گئی۔

سعداللہ نے مزید کہا کہ اسرائیل اس وقت جنگ میں وقتی وقفہ (Breathing Space) چاہتا تھا تاکہ داخلی سطح پر قیدیوں کے دباؤ اور عالمی سطح پر غزہ میں جنگی جرائم کے احتجاج سے بچ سکے۔
لہٰذا اس نے ٹرمپ کے منصوبے کو وقتی فائدہ سمجھ کر قبول کیا۔

انہوں نے بتایا کہ منصوبے میں کچھ نکات ایسے بھی تھے جو اسرائیلی فوجی حکمتِ عملی سے متصادم تھے —
مثلاً غزہ سے جزوی انخلا اور انسانی امداد کی راہیں کھولنا۔

ان کے مطابق فلسطینی مزاحمت کی پہلی ترجیح جنگ کا خاتمہ تھی۔
مزاحمت چاہتی تھی کہ اسرائیلی فوج غزہ کے علاقوں سے پیچھے ہٹے، امدادی راستے کھولے جائیں، اور شہریوں کے خلاف جارحیت بند ہو۔
یہی نکات ٹرمپ کے منصوبے میں فلسطینیوں کے لیے اہم تھے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی نظر میں جنگ بندی ایک اسٹریٹجک معاہدہ نہیں بلکہ عارضی ٹیکٹک ہے،صہیونی حکام اس کوشش میں ہیں کہ غزہ میں دوبارہ جنگی ماحول پیدا کیا جائے۔

رپورٹ کے مطابق 15 مهر (6 اکتوبر) سے اب تک کم از کم 38 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اسرائیل آتش بس کی بارہا خلاف ورزی کر رہا ہے، انہوں نے اس صورتحال کو غیر مستحکم اور نازک جنگ بندی قرار دیا اور کہا کہ ممکن ہے آئندہ دنوں میں غزہ میں دوبارہ جھڑپیں شدت اختیار کر جائیں۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی نئی پالیسی دو سطحوں پر مبنی ہے — کم شدت کی جنگ اور سکیورٹی آپریشنز کا امتزاج۔
اس ماڈل کے تحت اسرائیل فوجی کارروائیاں تو محدود رکھے گا مگر خفیہ کارروائیوں، اغوا اور تخریب کاری کے ذریعے غزہ میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کرے گا تاکہ تعمیرِ نو کے عمل کو روکا جا سکے اور فلسطینی آبادی کو ہجرت پر مجبور کیا جا سکے۔

مزید پڑھیں:اسرائیل نے غزہ میں 6,000 انسانی امداد کے ٹرکوں کے داخلے کو روکا 

آخر میں انھوں نے کہا کہ مزاحمتی تحریک نے جنگ بندی کی خلاف ورزی نہیں کی،اگر جنگ دوبارہ شروع ہوئی، تو فلسطینی مزاحمت پہلے سے کہیں زیادہ قانونی جواز، تجربہ اور عوامی حمایت کے ساتھ میدان میں ہوگی اور وہ جنگ کے تمام پہلوؤں کو مؤثر انداز میں کنٹرول اور منیج کر سکے گی۔

مشہور خبریں۔

اقوام متحدہ غیر مؤثر ادارہ بننے کی جانب گامزن

?️ 28 ستمبر 2025اقوام متحدہ غیر مؤثر ادارہ بننے کی جانب گامزن ایک مغربی میڈیا

چین کے صدر کے دورہ روس پر امریکہ کا ردعمل

?️ 21 مارچ 2023سچ خبریں:امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نے پیر کے روز اعلان کیا

اپوزیشن احتجاج اور مارچ کا شوق بھی پورا کر لے: وزیر خارجہ

?️ 8 نومبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپوزیشن

یہ بات ختم ہو جانی چاہیے کہ نواز شریف وطن واپس آ رہے ہیں یا نہیں، شہباز شریف

?️ 6 اکتوبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) مسلم لیگ(ن) کے صدر شہباز شریف نے کہا

18 ویں ترمیم اتفاق رائے سے ہوئی، بہتری کا راستہ کھلا، ہمارا مؤقف سنیں۔ رانا ثناءاللہ

?️ 22 جنوری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ

ٹرمپ اور امریکہ کا سیاسی مستقبل

?️ 29 دسمبر 2022سچ خبریں:     کانگریس کی عمارت پر ریپبلکن پارٹی کے حامیوں کے

آئی ایم ایف جہاں جاتا ہے وہ قوم پنپتی نہیں برباد ہوتی ہے، امیر جماعت اسلامی

?️ 16 جون 2024کراچی: (سچ خبریں) امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے