لندن (سچ خبریں) لندن کے شہریوں نے ایک بار پھر ملک میں جاری نسل پرستی اور پولیس کے اختیارات میں اضافے کے خلاف شدید مظاہرے شروع کردیئے جس کے بعد پولیس نے متعدد افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق مرکزی لندن اور اس کے اطراف کی سڑکوں پر ہونے والے ان مظاہروں میں شریک لوگ بڑے پرامن اور منظم انداز میں، نسل پرستی کی تمام شکلوں کا مقابلہ کرنے اور پولیس کے اختیارات میں اضافے کا بل منسوخ کیے جانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
عینی شاہدین کے مطابق برطانوی پولیس نے نسل پرستی اور پولیس کے اختیارات میں اضافے کے خلاف مظاہرہ کرنے والے کم سے کم چھبیس افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ برطانیہ میں نسل پرستی اور پولیس کے اختیارات میں اضافے کے خلاف تسلسل کے ساتھ مظاہرے کیے جارہے ہیں جنہیں دبانے کے لیے پولیس کی جانب سے طاقت کا استعمال کیا جارہا ہے جس کے دوران درجنوں افراد زخمی ہوچکے ہیں۔
برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے پولیس کے اختیارات میں اضافے کے خلاف ہونے والے مظاہروں کو شرمناک قرار دیتے ہوئے اس حوالے سے پاس کیے جانے والے بل کی حمایت کی ہے۔
واضح رہے کہ شہری اور انسانی حقوق کا دعوی کرنے والے ملک برطانیہ کی پارلیمنٹ نے تین ہفتے قبل ایک متنازعہ بل منظور کیا تھا جس کی رو سے مظاہرین کی سرکوبی کی غرض سے پولیس کے اختیارات میں مزید اضافہ کردیا گیا ہے۔
مشہور خبریں۔
مقبوضہ کشمیر سمیت دنیا بھر میں میں بھارت کا یوم آزادی یوم سیاہ کے طور پر منایا گیا
اگست
پاکستان میں دہشت گردانہ حملے
ستمبر
روپے کی قدر میں اضافہ نویں روز بھی جاری
اکتوبر
’آرڈیننس لانے ہیں تو پھر پارلیمان کو بند کر دیں‘، نیب ترامیم کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی
مئی
دہشت گرد ریاست اسرائیل کے نئے وزیراعظم کا امریکہ دورہ اور اس کے پیچھے کے مقاصد
اگست
سعودی عرب میں بدعنوانیوں کے خلاف جنگ یا مخالفین کا صفایا
اگست
اسرائیل کی معیشت دیوالیہ ہونے کے دہانے پر
اکتوبر
امریکہ کا داعش کے رہنماؤں کو عراقی جیلوں سے نکالنے کا منصوبہ
فروری