فلسطین کے حامی غیر ملکی طلبہ کا اخراج کرنے کی پالیسی غیرقانونی: امریکی عدالت

فلسطین کے حامی غیر ملکی طلبہ کا اخراج کرنے کی پالیسی غیرقانونی: امریکی عدالت

?️

سچ خبریں:امریکی عدالت نے ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ فلسطین کے حامی غیر ملکی طلبہ کے ویزے منسوخ کرنا اور انہیں ملک بدر کرنا آئین کی خلاف ورزی ہے،عدالت نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ اقدام آزادیٔ بیان کو دبانے کی دانستہ کوشش ہے۔

امریکہ کی ایک وفاقی عدالت نے اس ملک کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس پالیسی کو غیرقانونی قرار دے دیا ہے جس کے تحت فلسطین کے حامی غیر ملکی طلبہ کے ویزے منسوخ کر کے انہیں ملک بدر کیا جا رہا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:نیو یارک میں طلباء کی گرفتاری کے خلاف مظاہرہ

رپورٹ کے مطابق، جج ویلیئم یانگ نے امریکی شہر بوسٹن کی ضلعی عدالت میں جاری کیے گئے اپنے 161 صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ویزے کی منسوخی، گرفتاری اور اخراج کی کارروائی میں اپنی طاقت کا غلط استعمال کیا۔ ان کے مطابق یہ اقدام دراصل پہلی ترمیم (First Amendment) کی کھلی خلاف ورزی ہے جو اظہارِ رائے کی آزادی کی ضمانت دیتی ہے۔

جج نے نشاندہی کی کہ وزارتِ خارجہ اور وزارتِ ہوم لینڈ سکیورٹی کے حکام نے جان بوجھ کر فلسطین کے حامی غیر ملکی طلبہ کو نشانہ بنایا تاکہ خوف پیدا کیا جا سکے اور آزادیٔ بیان کو محدود کیا جا سکے۔ ان کے بقول، یہ ایک منظم حکمتِ عملی تھی جس کا مقصد ان افراد کو خاموش کرانا تھا جنہوں نے اسرائیل اور غزہ پر امریکی پالیسیوں پر تنقید کی تھی۔

فیصلے میں ایک اور واقعے کا ذکر بھی کیا گیا جس میں یونیورسٹی آف ٹفٹس کے ایک غیر ملکی طالب علم کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب اس نے اسرائیل-غزہ جنگ پر یونیورسٹی کے ردعمل کو تنقید کا نشانہ بنایا، جج نے اس گرفتاری کے دوران امیگریشن اہلکاروں کے ماسک پہننے کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب حال ہی میں ایک اور امریکی جج، قاضی مائیکل فاربیارز نے نیوجرسی کی عدالت میں کہا تھا کہ فلسطینی نژاد طالب علم محمود خلیل کی ملک بدری کے لیے استعمال ہونے والا قانونی سیکشن 1227 غیر واضح ہے اور آئین سے متصادم ہے۔

یاد رہے کہ محمود خلیل کو مارچ 2024 میں حراست میں لیا گیا تھا جب امریکی وزارتِ خارجہ نے اس کا گرین کارڈ منسوخ کر دیا تھا، وہ پہلا طالب علم تھا جو اکتوبر 2023 کے بعد امریکی یونیورسٹیوں میں فلسطین کے حق میں مظاہروں میں شرکت کرنے پر ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی کے تحت گرفتار ہوا۔

مزید یہ کہ چند روز قبل نیویارک ٹائمز نے رپورٹ دی تھی کہ ٹرمپ انتظامیہ نے تقریباً تمام فلسطینی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے سیاحتی ویزے معطل کر دیے ہیں، جس کی وجہ سے مغربی کنارے اور دیگر مقامات سے فلسطینیوں کی امریکا آمد تقریباً ناممکن ہو گئی ہے۔

مزید پڑھیں:امریکہ میں درجنوں طلبہ کے ویزے منسوخ ؛ وجہ ؟

قابلِ ذکر ہے کہ فلسطین کے حق میں احتجاجات، جو اکثر غیر ملکی طلبہ کے ذریعے منظم کیے جاتے ہیں، حالیہ برسوں میں ہارورڈ اور کولمبیا جیسے اداروں میں شدت اختیار کر گئے ہیں۔ یہ مظاہرے امریکی پالیسیوں اور اسرائیل کے لیے بلا شرط حمایت پر سوالات اٹھا رہے ہیں، جبکہ قدامت پسند حلقے انہیں یونیورسٹیوں کے "اصلی مشن سے انحراف” قرار دیتے ہیں۔

مشہور خبریں۔

سندھ میں بجلی چوری کی روک تھام کیلئے تقسیم کار کمپنیوں میں انٹیلی جنس افسران تعینات

?️ 13 جنوری 2025 کراچی: (سچ خبریں) حکومت نے وفاقی کابینہ کی منظوری کے تقریباً

امریکہ ایران اور روس کو تنہا کرنے میں کیوں ناکام ہے؟

?️ 3 اکتوبر 2022سچ خبریں:امریکی بالا دستی کے مخالف ممالک کو الگ تھلگ کرنے کی

کرم ایجنسی کے حالات پر گرینڈ جرگہ بلایا جائے، جماعت اسلامی خدمات پیش کرے گی، حافظ نعیم

?️ 22 نومبر 2024کراچی: (سچ خبریں) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن  نے مطالبہ

ایرانی ڈرون کے جعلی بیانیہ پر امریکہ میں تنازعہ

?️ 13 دسمبر 2024سچ خبریں: نیو جرسی پر نامعلوم اڑنے والی اشیاء کو دیکھنے سے

فلسطینی انتخابات میں صیہونی کی مداخلت

?️ 20 مارچ 2021سچ خبریں:صہیونی قومی سلامتی تنظیم کے سربراہ نے فلسطینی اتھارٹی سے کہا

غزہ میں بچوں کے خلاف جنگ کے بارے میں یونیسف کا کیا کہنا ہے؟

?️ 5 دسمبر 2023سچ خبریں: اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ یونیسف کے ترجمان نے

صیہونیوں کی لبنان دھماکوں کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوشش

?️ 19 ستمبر 2024سچ خبریں: صیہونی تجزیہ نگاروں کی جانب سے بیروت میں پیجر حملوں

اسرائیل کے مکمل انخلاء کے بغیر غزہ میں جنگ بندی ممکن نہیں: قطری وزیراعظم

?️ 7 دسمبر 2025سچ خبریں: قطر کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے