?️
سچ خبریں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں ایران کے جوہری پروگرام، غزہ، یوکرین، وینزوئلا، گرین لینڈ اور عالمی سیاست پر اپنے مؤقف کا اظہار کیا اور ایران کو دوبارہ سخت دھمکی دی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی 81ویں جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے خلاف اپنے سخت موقف کا اعادہ کیا اور کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے ایران کے حوالے سے ایک معاہدے اور مزید فوجی کارروائی کے درمیان انتخاب کا بھی ذکر کیا۔
ٹرمپ نے اپنے خطاب میں امریکی طاقت، فوجی صلاحیت اور اپنی حکومت کی پالیسیوں کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکہ پہلے سے زیادہ طاقتور ہوچکا ہے اور اس کی فوج دنیا کی طاقتور ترین فوج ہے۔ انہوں نے امریکی معیشت، روزگار، غربت، غیر قانونی تارکین وطن اور ملکی سلامتی کے حوالے سے بھی متعدد دعوے کیے۔
انہوں نے کہا کہ جب وہ گزشتہ سال 20 جنوری کو وائٹ ہاؤس پہنچے تو واشنگٹن غیر محفوظ تھا اور ان کی حکومت نے گزشتہ انتظامیہ سے امریکہ کی تاریخ کا ایک تاریک دور ورثے میں حاصل کیا تھا۔
ایران کے خلاف سخت مؤقف
ٹرمپ نے اپنی تقریر کے بڑے حصے میں ایران کو نشانہ بنایا اور کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران نے ایسے میزائل تیار کیے جو یورپ تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے تھے اور یہ بھی کہا کہ ان کی حکومت نے ایران کے جوہری پروگرام اور فوجی صلاحیتوں کے خلاف کارروائی کی ہے۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ آپریشن ایپک فیوری کے دوران ایران کی بحری، فضائی اور دفاعی صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچایا گیا اور میزائل و ڈرون بنانے کی صلاحیت بھی تقریباً ختم کردی گئی۔ انہوں نے ایران کی معیشت اور مہنگائی کے بارے میں بھی متعدد دعوے کیے۔
ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ نے ایران کو معاہدے کے لیے متعدد مواقع فراہم کیے، لیکن تہران نے انہیں قبول نہیں کیا۔ ان کے بقول اب انہیں ایران کے بارے میں ایک اہم فیصلہ کرنا ہے کہ آیا معاہدہ کیا جائے اور ایران کو دوبارہ تعمیر و ترقی کا موقع دیا جائے یا پھر اسلامی جمہوریہ کو تباہ کردیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ممکن ہے کہ امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے ساتھ معاہدہ طے پاجائے۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران شاید یہ دیکھ رہا ہے کہ امریکہ میں وسط مدتی انتخابات میں کیا ہوتا ہے، تاہم ان کے مطابق ایران کے معاملے میں انتخابات ان کے لیے اہم نہیں اور ان کی بنیادی ترجیح یہ ہے کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرے۔ (
ایران کے خلاف معاشی دباؤ کی اپیل
ٹرمپ نے دیگر ممالک سے ایران کے خلاف مکمل معاشی تنہائی کی پالیسی میں شامل ہونے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ دباؤ اس وقت تک برقرار رہنا چاہیے جب تک ایران تجارتی بحری جہازوں کے خلاف کارروائیاں، جوہری عزائم اور دہشت گردی کی حمایت ترک نہیں کرتا۔
انہوں نے آبنائے ہرمز کا بھی ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکی بحریہ نے حالیہ عرصے میں لاکھوں بیرل تیل کو آبنائے ہرمز سے باہر لے جانے والے بحری جہازوں کو تحفظ فراہم کیا ہے۔
ایران کے خلاف جنگ اور جوہری پروگرام کا دفاع
ٹرمپ نے ایران کے خلاف امریکی کارروائی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ان کے مطابق ایران روایتی ہتھیاروں کی آڑ میں جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر ایران جوہری ہتھیار حاصل کرلیتا تو اسے روکنا انتہائی مشکل ہوجاتا۔
وائٹ ہاؤس کے جاری کردہ خطاب کے خلاصے میں بھی ٹرمپ کے اس مؤقف کو نمایاں کیا گیا ہے کہ وہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
ایران میں ہلاکتوں سے متعلق ٹرمپ کا دعویٰ
ٹرمپ نے ایران کے داخلی حالات کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایرانی حکومت نے رواں سال اپنے 72,000 سے زیادہ شہریوں کو ہلاک کیا، جن میں احتجاج کرنے والے افراد بھی شامل تھے۔ یہ اعداد و شمار ان کی تقریر میں کیے گئے دعوے کے طور پر سامنے آئے ہیں۔
انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا بھی شکریہ ادا کیا کہ اس نے تجارتی بحری جہازوں کے خلاف ایران کے اقدامات کی مذمت سے متعلق قرارداد کی حمایت کی۔
امریکی اسلحہ اور گولہ بارود کے ذخائر
ٹرمپ نے امریکی میڈیا کی ان رپورٹس کو مسترد کیا جن میں امریکی اسلحہ اور گولہ بارود کے ذخائر میں کمی کا ذکر کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ کے پاس پہلے سے کہیں زیادہ گولہ بارود موجود ہے اور اس کی پیداوار بھی ریکارڈ سطح پر جاری ہے۔ ان کے مطابق بڑے دفاعی ادارے 18 نئے گولہ بارود کے کارخانے تعمیر کر رہے ہیں اور مستقبل قریب میں امریکہ اپنے اتحادیوں کو بھی زیادہ تیزی سے اسلحہ فراہم کرنے کے قابل ہوگا۔
غزہ اور 20 نکاتی منصوبہ
غزہ کے معاملے پر ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے 20 نکاتی منصوبے کی متفقہ حمایت کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ متعدد ممالک ان کے زیر صدارت امن بورڈ میں شامل ہوئے ہیں اور غزہ کی تعمیر نو و انسانی امداد کے لیے اربوں ڈالر مختص کیے گئے ہیں۔
ٹرمپ نے سعودی عرب، بحرین، ترکیہ، ازبکستان، کویت اور دیگر ممالک کی جانب سے انسانی امداد اور تعمیر نو کے لیے مالی تعاون کا ذکر کیا اور انڈونیشیا اور مصر سمیت ان ممالک کا بھی شکریہ ادا کیا جو غزہ میں استحکام اور تعمیر نو کے لیے کوششیں کررہے ہیں۔
8 جنگیں ختم کرنے کا دعویٰ
امریکی صدر نے اپنے خطاب میں دعویٰ کیا کہ اقتدار سنبھالنے کے بعد انہوں نے 8 جنگیں ختم کیں اور متعلقہ ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ تعلقات قائم کیے۔
انہوں نے کمبوڈیا اور تھائی لینڈ، کوسوو اور سربیا، جمہوری جمہوریہ کانگو اور روانڈا، پاکستان اور بھارت، آرمینیا اور آذربائیجان سمیت متعدد تنازعات کا ذکر کیا۔
ٹرمپ نے کہا کہ مختلف ممالک کے رہنماؤں نے انہیں خطوط لکھ کر شکریہ ادا کیا ہے۔ انہوں نے پاکستان کے وزیراعظم کے حوالے سے بھی دعویٰ کیا کہ انہیں بتایا گیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ 30 ملین یا اس سے بھی زیادہ لوگوں کی جانیں بچانے کے ذمہ دار ہیں۔
روس اور یوکرین جنگ
روس اور یوکرین کے تنازع کے بارے میں ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ روس اور یوکرین کے اعلیٰ حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے اور اس تنازع کو جلد حل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس جنگ میں ہر ماہ تقریباً 25,000 نوجوان مارے جارہے ہیں اور کہا کہ وہ جنگ کے میدانوں کی تصاویر دیکھنا پسند نہیں کرتے کیونکہ وہ انتہائی خوفناک ہیں۔
وینزوئلا کے بارے میں ٹرمپ کا دعویٰ
ٹرمپ نے وینزوئلا سے متعلق امریکی فوجی کارروائی کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جنوری میں امریکی مسلح افواج نے وینزوئلا کے دارالحکومت کراکس میں ایک بڑی فوجی کارروائی کی اور وہاں موجود دفاعی تنصیبات پر قبضہ کیا۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وینزوئلا کے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کیا گیا اور اس کے بعد وینزوئلا میں سیکڑوں قیدی رہا کیے گئے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکہ نے گزشتہ ماہ وینزوئلا کے ساتھ تاریخ کے سب سے بڑے تیل معاہدوں میں سے ایک پر دستخط کیے، جس میں 65 ارب بیرل تیل شامل ہے، اور امریکی تیل کمپنیاں وینزوئلا میں داخل ہورہی ہیں۔
منشیات کے کارٹلز کے خلاف کارروائی
ٹرمپ نے امریکی فوجی کارروائیوں کو منشیات کے کارٹلز کے خلاف جنگ کے طور پر پیش کیا اور کہا کہ ان گروہوں کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔
انہوں نے کارٹلز کو مغربی نصف کرہ کا داعش قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ ان کے خلاف کارروائی جاری رکھے گا۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی افواج نے کارٹلز سے منسلک کشتیوں اور بحری جہازوں کے خلاف درجنوں کارروائیاں کی ہیں۔
کیوبا کے بارے میں سخت مؤقف
ٹرمپ نے کیوبا کے حوالے سے بھی کہا کہ امریکہ وہاں بنیادی تبدیلی چاہتا ہے۔ انہوں نے کیوبا کی حکومت کو کمیونسٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ تاریخی طور پر شدید ترین دباؤ میں ہے۔
انہوں نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کی قیادت میں کیوبا کے ساتھ مذاکرات کا ذکر کیا اور کہا کہ امریکہ کیوبا کو امریکی شہریوں کے لیے خطرہ بننے کی اجازت نہیں دے گا۔
ٹرمپ کی تقریر کے دوران کیوبا کا سفارتی وفد احتجاجاً اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے باہر نکل گیا۔
گرین لینڈ سے متعلق معاہدے کا دعویٰ
ٹرمپ نے گرین لینڈ کے بارے میں بھی ایک معاہدے کا اعلان کیا اور کہا کہ امریکہ نے ڈنمارک اور گرین لینڈ کے ساتھ شمالی امریکہ کی سلامتی سے متعلق ایک غیر معمولی معاہدہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کے تحت امریکہ کو گرین لینڈ میں سکیورٹی سے متعلق وسیع اختیارات حاصل ہوں گے اور وہاں امریکی فوجی موجودگی میں اضافہ کیا جائے گا۔
تاہم گرین لینڈ سے متعلق اس معاملے میں حالیہ رپورٹوں کے مطابق امریکہ، ڈنمارک اور گرین لینڈ کے درمیان سکیورٹی تعاون کا ایک سہ فریقی معاہدہ طے پایا ہے، جس کا مقصد آرکٹک اور شمالی بحر اوقیانوس میں سکیورٹی تعاون کو بڑھانا ہے۔
عالمی فوجداری عدالت پر تنقید
ٹرمپ نے بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ امریکہ اس عدالت کا سخت مخالف ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ کسی بھی امریکی شہری یا فوجی کو عدالت کی جانب سے نمائشی مقدمات کا سامنا نہیں کرنے دے گا اور دیگر ممالک سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اس ادارے سے الگ ہوجائیں۔
مصنوعی ذہانت کے بجائے سپریم انٹیلی جنس
ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت کے حوالے سے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ مستقبل میں Artificial Intelligence کے بجائے Super Intelligence کی اصطلاح استعمال کرنے کی طرف جائے گا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس شعبے میں امریکہ چین سے بہت آگے ہے اور واشنگٹن اس برتری کو برقرار رکھے گا۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایسی ٹیکنالوجی کی ترقی کو روکنا نہیں چاہتے جسے وہ صنعتی انقلاب سے بھی زیادہ اہم سمجھتے ہیں۔
ٹرمپ کی 81ویں جنرل اسمبلی سے تقریر مجموعی طور پر ایران، امریکی فوجی طاقت، غزہ، یوکرین، وینزوئلا، کیوبا، گرین لینڈ، عالمی اداروں اور مصنوعی ذہانت سمیت متعدد عالمی و داخلی موضوعات پر مشتمل تھی۔


مشہور خبریں۔
’کیا ایک ہیڈ کانسٹیبل کے بیان پر سابق وزیراعظم کو غدار مان لیں؟‘
?️ 20 مارچ 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) 9 مئی کے کیس میں سپریم کورٹ نے
مارچ
امریکہ کے ساتھ روس کے تعلقات بحران ہیں: پیوٹن
?️ 7 اپریل 2023سچ خبریں:روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا کہ واشنگٹن اور ماسکو کے
اپریل
ہمارے کچھ لوگ اسٹیبلشمنٹ سے رابطے میں ہیں جو پارٹی توڑنا چاہتے ہیں: عمران خان
?️ 6 اپریل 2024راولپنڈی: (سچ خبریں) بانی پی ٹی آئی عمران خان نےکہا ہےکہ ہمارے
اپریل
امریکی میزائل نے ایران میں شادی کی تقریب کو براہ راست نشانہ بنایا: روئٹرز
?️ 4 ستمبر 2026سچ خبریں:روئٹرز کی تحقیق کے مطابق سیریک کے کوہستک میں شادی کی
ستمبر
عمران خان کی قید عام قیدی سے بھی سخت ہے ان جیسی قید پاکستان کی تاریخ میں کسی نے نہیں کاٹی، علیمہ خان
?️ 4 جولائی 2025راولپنڈی: (سچ خبریں) بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ
جولائی
25 مئی کے پرتشدد واقعات میں رانا ثنا اللہ اور عطا تارڑ کو تفتیش میں شامل کیا جا رہا ہے .فواد چوہدری
?️ 13 اگست 2022لاہور: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر
اگست
لندن اور یوکرین، برطانوی انتخابات سے قبل موسم بہار کی جنگ کے لیے تیار
?️ 30 اپریل 2024سچ خبریں: سیاستدانوں اور برطانوی معاشرے کے ایک حصے کا خیال ہے کہ
اپریل
ایران میں سیکڑوں قیدیوں کی سزا میں کمی اور معافی
?️ 30 مارچ 2021سچ خبریں:ایرانی روحانی پیشوا سید علی خامنہ ای کو متعدد قیدیوں کی
مارچ