مقبوضہ فلسطین میں امریکی سفارت خانے کے اعلیٰ عہدیدار پر رپورٹوں کو سنسر کرنے کا الزام

مقبوضہ فلسطینی علاقوں

?️

سچ خبریں:نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں امریکی سفیر کے سینئر مشیر ڈیوڈ ملسٹین پر اسرائیل کے حق میں امریکی سفارت کاروں کی رپورٹوں کو روکنے اور فلسطینیوں کے خلاف تشدد سے متعلق معلومات واشنگٹن تک پہنچنے نہ دینے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں امریکی سفارت خانے کے ایک اعلیٰ عہدیدار پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے اسرائیل کی صورت حال سے متعلق امریکی سفارت کاروں کی رپورٹوں کو سنسر کیا، تاکہ وائٹ ہاؤس کی نظر میں امریکہ کی شبیہ بہتر اور صیہونی حکومت کا تاثر مثبت بنایا جا سکے۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنی ایک رپورٹ میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں امریکی سفیر مائیکل ہکابی کے سینئر ترین مشیر ڈیوڈ ملسٹین کے متنازع اقدامات کی تفصیلات شائع کی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، ملسٹین پر الزام ہے کہ انہوں نے مقبوضہ بیت المقدس میں تعینات امریکی سفارت کاروں کی جانب سے تیار کردہ رپورٹوں کو واشنگٹن میں فیصلہ ساز حکام تک پہنچنے سے روکا، تاکہ امریکی حکام کے سامنے صیہونی حکومت کی مثبت تصویر پیش کی جا سکے۔

نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ 3 امریکی سرکاری ذرائع کے مطابق، ملسٹین نے ایسی رپورٹ کی ترسیل روک دی تھی جس میں صیہونی کابینہ کی جانب سے مغربی کنارے میں 34 نئی یہودی بستیوں کے قیام کی منظوری اور بعض ایسے اجازت ناموں کا ذکر تھا جن کے اثرات اس کے برعکس ہو سکتے تھے۔ نتیجتاً، واشنگٹن کے لیے تیار کی گئی یہ رپورٹ متعلقہ حکام تک کبھی نہیں پہنچی۔

اخبار نے مزید لکھا کہ مقبوضہ بیت المقدس اور واشنگٹن میں ملسٹین کے ساتھ کام کرنے والے حکام کے مطابق، یہ ان کی مبینہ خلاف ورزیوں کا واحد واقعہ نہیں تھا۔ اپریل 2025 میں عہدہ سنبھالنے کے بعد سے ان پر مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں کے تشدد سے متعلق رپورٹیں حذف کرنے اور بعض سفارتی مراسلوں کو سنسر کرکے صیہونی حکومت کی مثبت تصویر پیش کرنے کے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق، ایک اور واقعے میں کانگریس کے ارکان نے 9 امریکی فلسطینی شہریوں کے یہودی آبادکاروں اور صیہونی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں قتل کیے جانے کے معاملے پر حکام سے جواب طلب کیا تھا۔ اس موقع پر ملسٹین نے سفارت خانے کے عملے کی تیار کردہ ایک تفصیلی رپورٹ کی ترسیل روک دی، جس کے باعث متعلقہ معلومات امریکی قانون سازوں تک نہیں پہنچ سکیں۔

مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں امریکی سفارت خانے میں اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے کے کچھ ہی عرصے بعد ملسٹین نے مطالبہ کیا تھا کہ سفارت خانے کے فلسطینی امور سے متعلق شعبے کی جانب سے جاری کیے جانے والے تمام پیغامات اور رپورٹیں ان کی ذاتی منظوری کے بعد ہی بھیجی جائیں۔

اخبار نے نشاندہی کی کہ اس طرز عمل کے نتیجے میں واشنگٹن کو بھیجے جانے والے سفارتی پیغامات کی تعداد میں نمایاں کمی آئی۔ جہاں پہلے ہر ہفتے کئی رپورٹیں بھیجی جاتی تھیں، وہیں بعد میں یہ تعداد گھٹ کر ہر ماہ چند رپورٹوں تک محدود ہو گئی۔ یہاں تک کہ بعض ملازمین نے اپنی رپورٹوں کے حذف یا سنسر کیے جانے کے خدشے کے باعث انہیں تیار کرنے سے بھی گریز کرنا شروع کر دیا۔

غزہ اختلافات کا مرکز

نیویارک ٹائمز نے ایک اور مثال پیش کرتے ہوئے غزہ میں 2025 کے موسم گرما کے دوران امداد کی تقسیم کے آپریشنز کا ذکر کیا۔ رپورٹ کے مطابق، اس دوران ایسی رپورٹ کو سنسر کیا گیا جس میں غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن (غزہ انسانی امدادی فاؤنڈیشن) کے زیر انتظام علاقوں کے قریب خوراک حاصل کرنے کی کوشش کے دوران درجنوں فلسطینیوں کی ہلاکتوں کا ذکر تھا۔ یہ فاؤنڈیشن اسرائیل اور امریکہ کی حمایت سے کام کر رہی تھی۔

اس سفارتی مراسلے تک رسائی رکھنے والے افراد کے مطابق، امریکی سفارت کاروں نے خبردار کیا تھا کہ امداد کی تقسیم کا عمل بدنظمی کا شکار اور جان لیوا ہے، جس کے نتیجے میں مزید انسانی جانیں ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔

تاہم، ذرائع کے مطابق، ملسٹین نے اس رپورٹ کو سنسر کیا تاکہ فاؤنڈیشن کی کارروائیوں کی مبینہ کامیابی پر توجہ مرکوز رکھی جائے اور ہلاکتوں کی تعداد کو نظرانداز کیا جا سکے۔

میڈیا میں سامنے آنے والی اطلاعات اور امریکی سفارت خانے کی سرکاری رپورٹوں کے درمیان تضاد پیدا ہونے کے بعد، وائٹ ہاؤس اور امریکی وزارت خارجہ کے بعض حکام کو سرکاری ذرائع ابلاغ اور سفارتی مراسلت کے معمول کے طریقۂ کار سے ہٹ کر سفارت خانے کے ملازمین سے براہ راست رابطہ کرنا پڑا، تاکہ زمینی صورت حال کی زیادہ واضح تصویر حاصل کی جا سکے۔

نیویارک ٹائمز نے یہ رپورٹ تیار کرنے کے لیے امریکہ کے 15 اعلیٰ حکام سے گفتگو کی، جو ملسٹین کے ساتھ کام کر چکے تھے۔ اخبار کے مطابق، اسے درجنوں دستاویزات، سفارتی مراسلوں، یادداشتوں اور داخلی خط و کتابت تک بھی رسائی حاصل ہوئی۔

رپورٹ شائع ہونے کے بعد مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں امریکہ کے سفیر مائیکل ہکابی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اخبار میں شائع ہونے والے دعووں کی کوئی حقیقی بنیاد نہیں ہے۔

مشہور خبریں۔

مصر صیہونی حکومت کے ساتھ کیا کرنے والا ہے؟

?️ 15 مئی 2024سچ خبریں: ہیگ کی عدالت میں صیہونی حکومت کے خلاف شکایتی مقدمے

اردن میں صیہونی حکومت کے سفارت خانے کے سامنے احتجاجی ریلی

?️ 12 مئی 2022سچ خبریں: اردن کے شہریوں کی ایک بڑی تعداد نے گذشتہ شب

نیتن یاہو کا اعتراف: ایک بڑی ناکامی ہوئی جس کی تحقیقات ہونی چاہئیں

?️ 10 دسمبر 2025سچ خبریں: کئی مہینوں کی ذمہ داری سے بچنے کے بعد صیہونی

ایران کے خلاف کینیڈا کا تازہ اقدام، 10 ایرانی افراد اور اداروں پر پابندیاں

?️ 24 ستمبر 2026سچ خبریں:کینیڈا نے ایران کے 5 افراد اور 5 اداروں پر نئی

یمن میں 6 ماہ کی جنگ بندی میں توسیع کا ابتدائی معاہدہ

?️ 8 اپریل 2023سچ خبریں:یمن کے ایک سفارتی ذریعے نے آج اسپوٹنک خبر رساں ایجنسی

پاکستان بھر میں انٹرنیٹ سروسز متاثر، صارفین کو مشکلات کا سامنا

?️ 12 اکتوبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) پاکستان بھر میں گذشتہ رز سے صارفین کو انٹرنیٹ

ہمت کریں توامید کی روشنی یقین کا تمتماتا سورج بن جاتی ہے۔ مریم نواز

?️ 12 جولائی 2025لاہور (سچ خبریں) وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ ہمت

عمران خان آنے والی نسلوں کے لئے  کام کر رہے ہیں: شہباز گل

?️ 18 جون 2021اسلام آباد( سچ خبریں) وزیراعظم کے معاون خصوصی شہباز گِل کا کہنا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے