?️
سچ خبریں:بین الاقوامی قانون کے ممتاز استاد نے آنروا کے خلاف اسرائیل کی منظم جنگ کو فلسطینی حقِ واپسی مٹانے کی کوشش قرار دیتے ہوئے اقوامِ متحدہ سے فوری ہنگامی اجلاس اور اسرائیل پر پابندیوں کا مطالبہ کیا ہے۔
شہاب خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی قانون کے ممتاز استاد اور امریکی، یورپی و مصری بین الاقوامی قانون انجمنوں کے رکن محمد محمود مهران نے فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوامِ متحدہ کی امدادی و روزگار ایجنسی آنروا (UNRWA) کے خلاف صہیونی حکومت کی ہدفمند جنگ پر شدید خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کارروائیاں محض عمارتوں کو نقصان پہنچانے یا انسانی خدمات میں خلل ڈالنے تک محدود نہیں، بلکہ ان کا اصل مقصد فلسطینی پناہ گزین کیمپوں کو تباہ کرنا اور بین الاقوامی قوانین کے تحت ضمانت یافتہ حقِ واپسی کو ختم کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:غزہ میں امدادی تنظیموں کے خلاف اسرائیل کی معاندانہ کارروائی کے نتائج کے بارے میں انتباہ
رپورٹ کے مطابق، مهران نے کہا کہ آنروا کے خلاف یہ جارحیت اقوامِ متحدہ کے قیام کے بعد سے اب تک عالمی نظام کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ ان کے مطابق، مقبوضہ القدس کے علاقے شیخ جراح میں منگل کی صبح قابض افواج کی جانب سے آنروا کی عمارتوں کی مسماری، اور اسی وقت غزہ و مغربی کنارے میں اس ایجنسی کی تنصیبات کو نشانہ بنانا، اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اسرائیل ایک منظم حکمتِ عملی کے تحت آنروا کو ایک اقوامِ متحدہ کے ادارے کے طور پر ختم کرنا چاہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ حکمتِ عملی اتفاقی نہیں بلکہ انتہائی سنجیدہ سیاسی اہداف کے حصول کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ تیار کی گئی ہے۔
مهران نے واضح کیا کہ آنروا محض ایک عام امدادی ادارہ نہیں، بلکہ فلسطینی عوام کی طویل اذیتوں کا زندہ گواہ اور فلسطینی پناہ گزینوں کے حقِ واپسی کا دستاویزی اور قانونی ثبوت ہے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ اقوامِ متحدہ کی قرارداد 194 (سنہ 1948) فلسطینی پناہ گزینوں کو اپنے گھروں میں واپسی اور نقصانات کے ازالے کا حق دیتی ہے، اور آنروا کا وجود اس حق کی مسلسل بین الاقوامی توثیق ہے۔
مهران کے مطابق، اسرائیل کی جانب سے آنروا کے وجود کو ختم کرنے کی کوشش کا مطلب فلسطینیوں کی قانونی حیثیت بطور پناہ گزین کو مٹانا اور بالآخر ان کے حقِ واپسی کو کالعدم قرار دینا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ یہ دراصل ایک نوآبادیاتی منصوبہ ہے جس کا مقصد انسانی ہمدردی کی تعمیرِ نو کے نام پر پورے فلسطینی کاز کو ختم کرنا ہے۔
اس ماہرِ قانون نے بتایا کہ آنروا کے خلاف اسرائیلی یلغار تین متوازی راستوں پر مشتمل ہے اول، غزہ میں آنروا کی تنصیبات، اسکولوں اور طبی مراکز پر براہِ راست فوجی حملے، جن کے نتیجے میں اکتوبر 2023 سے اب تک آنروا کے 250 سے زائد ملازمین شہید ہو چکے ہیں۔
دوم، آنروا کو دہشت گردی کی حمایت سے جوڑنے کے لیے جھوٹے الزامات اور بدنامی کی مہم۔
سوم، آنروا کی تنصیبات کی تباہی، جیسا کہ مقبوضہ القدس میں دیکھا گیا۔
مهران نے زور دیا کہ آنروا کی تنصیبات کی مسماری بین الاقوامی قانون کے کئی بنیادی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے، جن میں سرفہرست اقوامِ متحدہ اور اس کے اداروں کو 1946 کے کنونشن کے تحت حاصل سفارتی مراعات اور استثنیٰ کی پامالی شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ اقدام صرف فلسطینیوں کے خلاف نہیں بلکہ اقوامِ متحدہ اور پورے بین الاقوامی قانونی نظام پر براہِ راست حملہ ہے۔
مهران نے خبردار کیا کہ اسرائیل اس سوچ کو معمول بنانا چاہتا ہے کہ اگر کوئی بین الاقوامی ادارہ منصفانہ مقصد کی خدمت کرے تو اسے نشانہ بنایا جا سکتا ہے، اور اگر یہ روش کامیاب ہو گئی تو دیگر ممالک بھی اپنے علاقوں میں اقوامِ متحدہ کے اداروں کو نشانہ بنانے لگیں گے، جو قانون کی بالادستی پر قائم عالمی نظام کے انہدام کے مترادف ہوگا۔
انہوں نے عالمی برادری اور عرب و اسلامی ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ آنروا کے تحفظ کے لیے واضح اور مضبوط مؤقف اختیار کریں۔
مهران نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیلی حملوں کی مذمت کے لیے فوری ہنگامی اجلاس بلائے اور یونائٹنگ فار پیس کے طریقہ کار کو فعال کرتے ہوئے اسرائیل پر پابندیاں عائد کرے۔
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی خاموشی فلسطینی کاز کی تباہی میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے آنروا کے بجٹ میں کمی کے بجائے بین الاقوامی فنڈنگ میں اضافے پر زور دیا اور خبردار کیا کہ اسرائیلی دباؤ میں آ کر اس ایجنسی کی مالی مدد روکنے والی بعض مغربی حکومتیں اس جرم میں شریک سمجھی جائیں گی۔
مزید پڑھیں:صیہونی حکومت نے اقوام متحدہ کے تین اداروں کے سربراہوں کے ویزوں میں توسیع سے انکار کر دیا
آخر میں مهران نے عرب اور اسلامی ممالک سے اپیل کی کہ وہ مالی خلا کو پُر کریں اور آنروا کی سرگرمیوں کے تسلسل کو یقینی بنائیں، اور کہا کہ آنروا، چاہے قابض قوتیں اسے مٹانے کی کتنی ہی کوشش کریں، حقِ واپسی کی زندہ علامت رہے گی۔ یہ حق نہ وقت کے ساتھ ختم ہوتا ہے اور نہ ہی طاقت کے زور پر، اور فلسطینی عوام بالآخر اپنی سرزمین پر لوٹیں گے، کیونکہ قانون اور بین الاقوامی انصاف ان کے ساتھ ہے۔


مشہور خبریں۔
وینزویلا کے صدر کا دورہ سعودی عرب
?️ 5 جون 2023سچ خبریں:وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اپنی کابینہ کے وزراء پر مشتمل
جون
نیتن یاہو کا تشہیراتی پروپیگنڈہ بھی ناکام
?️ 27 نومبر 2023سچ خبریں: جہاں اسرائیلی فوج غزہ کے خلاف جنگ میں اپنے اہم
نومبر
اہم ڈیڈ لائن گزرگئی، چیف آف ڈیفنس فورسز کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوسکا
?️ 30 نومبر 2025 اسلام آباد: (سچ خبریں) 29 نومبر کی اہم ڈیڈ لائن گزر
نومبر
عراقی پارلیمنٹ کے سربرہ کو کیوں ہٹایا گیا؟
?️ 18 نومبر 2023سچ خبریں: عراقی پارلیمنٹ کے سربراہ سے محمد الحلبوسی کی برطرفی اس
نومبر
آٹا اسکیم کو سیاست کی بھینٹ چڑھانا زیادتی ہے، شاہد خاقان عباسی معذرت کریں یا ثبوت دیں، عامر میر
?️ 30 اپریل 2023 لاہور: (سچ خبریں) پنجاب کے نگراں وزیر اطلاعات و ثقافت عامر میر
اپریل
امریکی پارلیمنٹ کی ٹرمپ کے مواخذے کی منظوری
?️ 10 فروری 2021سچ خبریں:امریکی سینٹ نے اس ملک کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا
فروری
آئی ایم ایف کے مطالبات کو پورا کرنے کیلئے حکومت نے گیس 50 فیصد مہنگی کرنے کی منظوری دیدی
?️ 28 جون 2025 اسلام آباد: (سچ خبریں) حکومت نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم
جون
ہندوستان کے ویزا نہ دینے سے درجنوں افغان طلباء تعلیم سے محروم
?️ 12 جون 2023سچ خبریں:بھارتی میڈیا آؤٹ لیٹ انڈین ایکسپریس نے لکھا کہ ویزا جاری
جون