?️
سچ خبریں:سوڈانی صحافی محمد سعد کامل نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل سوڈان میں عدم استحکام کا منصوبہ بنا رہے ہیں جبکہ عالمی برادری خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔
سوڈانی صحافی محمد سعد کامل نے کہا ہے کہ عالمی برادری، جو مغربی طاقتوں اور امریکہ و اسرائیل کے نفوذ میں ہے، سودان میں ہر اس اقدام کی حمایت کرتی ہے جو ملک کو عدم استحکام کی طرف دھکیل دے، ان کے مطابق دارفور میں جاری قتل و غارت نسلی نسل کشی کی نئی شکل ہے جس کی پشت پر بیرونی طاقتیں موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:سوڈان میں جنگ فوری طور پر ختم کی جائے:مصر کا مطالبہ
سوڈان گزشتہ دو برسوں سے نظریاتی تضادات اور مسلح تنازعے کی لپیٹ میں ہے، اپریل 2023 میں فوجی دھڑوں کے درمیان اقتدار کی کشمکش سے شروع ہونے والا یہ تنازع اب مکمل خانہ جنگی میں تبدیل ہو چکا ہے۔ اس جنگ نے کروڑوں افراد کو بے گھر اور ایک لاکھ پچاس ہزار سے زائد شہریوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ نے اس صورتحال کو دنیا کا سب سے بڑا انسانی بحران قرار دیا ہے۔
تاہم، جب عالمی توجہ فلسطین کی جانب منتقل ہو چکی ہے، سودان کے عوام میدان میں تنہا چھوڑ دیے گئے ہیں اور اب فاشر کے شہری اس بے توجہی کی قیمت چکا رہے ہیں۔
سوڈانی خبررساں ادارے براون لینڈ نیوز کے چیف ایڈیٹر محمد سعد کامل نے سوڈان کی تازہ صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دارفور میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ایک نسل کشی ہے، اور یہ جنجوید ملیشیا کے منصوبے کا پہلا مرحلہ ہے۔ جنجوید ان عرب قبائل پر مشتمل ہے جن کی جڑیں وسطی اور مغربی افریقہ میں ہیں۔
ان کا مقصد دارفور میں سیاہ فام آبادی کا صفایا کر کے ایک نئی ریاست قائم کرنا ہے۔ ان کے مطابق ان گروہوں کو چاد جیسے ممالک سے حمایت مل رہی ہے جو امارات کی پالیسیوں پر عمل کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس ملک کے سابق صدر عمر البشیر کے دور میں جنجوید کو بغاوت روکنے کے لیے تشکیل دیا گیا تھا اور حکومت انہیں کسی حد تک کنٹرول کرتی تھی۔
تاہم موجودہ حالات مختلف ہیں، اب یہ ملیشیا بیرونی حمایت سے کام کر رہی ہے اور ان کا ہدف سودان کی وحدت اور سلامتی کو توڑنا ہے، ان کے مطابق جنجوید خواتین کی عصمت دری کر رہے ہیں، بچوں اور بوڑھوں کو قتل کر رہے ہیں اور ان جرائم کی ویڈیوز فخر سے نشر کرتے ہیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ آج دارفور کا تنازع صرف نسلی نہیں بلکہ علاقائی طاقتوں کے مفادات سے جڑا ہوا ہے۔ ماضی میں امریکہ اور مغرب نے بغاوت کو انسانی ہمدردی کے نام پر اسلحہ فراہم کیا اور آج یہی اسلحہ امارات کے ذریعے اسرائیلی منظوری کے ساتھ جنجوید تک پہنچ رہا ہے۔ ان کے مطابق نسلی کشیدگی صرف ایک ذریعہ تھی، اصل مقصد پہلے دن سے ایک بڑا جیوپولیٹیکل منصوبہ تھا۔
محمد سعد کامل کے مطابق سودانی فوج ہمیشہ ملک کا دفاع کرتی رہی ہے جبکہ ردعمل فورسز نے بغاوت اور قتل و غارت پھیلایا ہے، انہوں نے کہا کہ عوام جنگ زدہ علاقوں سے فرار ہو کر فوج کے کنٹرول والے علاقوں میں پناہ لے رہے ہیں جس سے واضح ہے کہ ذمہ داری مکمل طور پر جنجوید ملیشیا پر عائد ہوتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دارفور اب علاقائی اور عالمی طاقتوں کی جنگ کا میدان بن چکا ہے،امریکہ امارات اور چاد کے ذریعے ردعمل فورسز کی حمایت کر رہا ہے اور روس حکومت کے ساتھ کھڑا ہے۔ تنازع کا بڑا مقصد بحیرہ احمر کے اسٹریٹجک راستوں پر کنٹرول ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابوظہبی نے ایک خفیہ نیٹ ورک تیار کیا ہے جو تل ابیب اور واشنگٹن سے منسلک ہے اور باب المندب سے سوئز تک سمندری راستوں پر تسلط کا منصوبہ بنا رہا ہے۔
ورلڈ میڈیا کے رویے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دنیا ہمیشہ افریقہ کے درد پر خاموش رہی ہے،یہ خاموشی سامراجی لالچ کا نتیجہ ہے۔
مغرب افریقہ کو قدرتی وسائل کے ذخیرے کے طور پر دیکھتا ہے اور خانہ جنگیوں کو بڑھا کر لوگوں کو ان وسائل سے محروم رکھتا ہے۔
صحافیوں کو لاحق خطرات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ جنگ کے دوران چالیس سے زائد صحافی قتل ہو چکے ہیں جب کہ متعدد کو جنجوید ملیشیا نے اغوا کر لیا۔
مزید پڑھیں:سوڈان میں غیر ملکی مداخلت نے امن کے امکان کو کمزور کردیا ہے: گٹیرس
انہوں نے کہا کہ تمام میڈیا ادارے بند ہو چکے ہیں اور چند پلیٹ فارمز آن لائن منتقل ہوئے ہیں لیکن وہ ہزاروں صحافیوں کا روزگار نہیں سنبھال سکتے۔


مشہور خبریں۔
یمن کی جنگ اور محاصرے کے تباہ کن نتائج
?️ 3 مارچ 2022سچ خبریں:سعودی اماراتی اتحاد کی جانب سے مسلسل محاصرے کی وجہ سے
مارچ
غزہ جنگ میں اسرائیل کے لیے امریکی حمایت کے تین ستون
?️ 20 جنوری 2025سچ خبریں: اکتوبر 2023 میں فلسطین میں آپریشن الاقصیٰ طوفان کے چند
جنوری
جہانگترین کے بیانات پر حکومت کا رد عمل سامنے آگیا
?️ 7 اپریل 2021لاہور (سچ خبریں) معاون خصوصی احتساب شہزاد اکبر نے جہانگیر ترین کے
اپریل
اسرائیل کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی عدالت انصاف کو ٹرمپ نے دی دھمکی
?️ 12 دسمبر 2025 اسرائیل کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی عدالت انصاف کو ٹرمپ
دسمبر
کیا کوئی قابض حکومت کو لگام نہیں دے سکتا؟یورپی یونین کی زبانی
?️ 28 ستمبر 2024سچ خبریں: یورپی یونین کے خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزف بورل نے
ستمبر
کوئی ملک طالبان کو تسلیم نہیں کرے گا: امریکہ
?️ 29 مارچ 2023سچ خبریں:کابل میں امریکن ایمبیسی کی انچارج کیرن ڈیکر کا کہنا ہے
مارچ
لبنان اور مغربی کنارے میں خوشی کی لہر
?️ 26 مئی 2024سچ خبریں: غزہ میں قابض حکومت کے متعدد فوجیوں کی گرفتاری کی خبر
مئی
بلوچستان حکومت نے ضلع پشین میں دفعہ 144 کی توسیع کردی
?️ 4 نومبر 2025کوئٹہ (سچ خبریں) بلوچستان حکومت نے ضلع پشین میں 15 دن کے
نومبر