?️
سچ خبریں:قنیطرہ میں صہیونی فوج کے ہاتھوں اغوا ہونے والے شامی نوجوانوں کے اہل خانہ نے اقوام متحدہ کے مبصر مشن کے دفتر کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے مغویوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔
شام کی سرزمین پر صہیونی حکومت کی مسلسل جارحیت اور خطے بھر میں جاری جنگی اقدامات کے سائے میں، جبکہ ابومحمد الجولانی کی حکومت صہیونی جارحیت کے مقابلے میں غیر فعال رویہ اختیار کیے ہوئے ہے اور صہیونیوں کے ساتھ سلامتی معاہدہ بھی کر چکی ہے، جنوبی شام خصوصاً صوبہ قنیطرہ کے باشندوں کی زندگی خوف، اضطراب اور روزانہ کی بے یقینی میں تبدیل ہو چکی ہے۔
صہیونی حملوں اور مسلسل جارحیت کے باعث جنوبی شام کے شہری، جن میں عام شہری، نوجوان اور بچے بھی شامل ہیں، ہر وقت گرفتاری، بمباری اور موت کے خدشات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
اسی سلسلے میں گزشتہ روز ہفتے کی شام جنوبی شام میں صہیونی فوج کے ہاتھوں اغوا ہونے والے نوجوانوں کے اہل خانہ نے قنیطرہ کے مضافاتی علاقے نبع الفوار میں اقوام متحدہ کے مبصر مشن کے دفتر کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔
شامی ذرائع کے مطابق اس احتجاج کا مقصد مغوی نوجوانوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنا، ان کی رہائی کے لیے کوشش کرنا اور ان خاندانوں کی مسلسل مشکلات کو دنیا کے سامنے لانا تھا۔
مظاہرین نے عالمی برادری اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور صہیونی قابض افواج پر دباؤ ڈالیں تاکہ مغوی افراد کی موجودگی کی جگہ ظاہر کی جائے، انہیں آزاد کیا جائے اور ان کی اپنے خاندانوں میں واپسی کو یقینی بنایا جائے۔
مغویوں کے اہل خانہ نے ایک تحریری بیان بھی اقوام متحدہ کے مبصر مشن کے حوالے کیا اور مطالبہ کیا کہ اسے اقوام متحدہ کے متعلقہ اداروں تک پہنچایا جائے تاکہ صہیونی قید سے مغویوں کی رہائی کے لیے فوری بین الاقوامی مداخلت عمل میں لائی جا سکے۔
اس بیان میں ابومحمد الجولانی کی حکومت سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ صہیونی جارحیت، قبضے اور اغوا کی کارروائیوں کے مقابلے میں اپنی غیر فعال پالیسی ختم کرے اور سنجیدہ اقدامات کرے۔
اس سے قبل مغوی شامی شہریوں کے اہل خانہ دمشق میں اقوام متحدہ کے دفتر کے سامنے بھی دھرنا دے چکے ہیں جہاں انہوں نے اپنے رشتہ داروں کی گرفتاری اور صہیونی فوج کی جارحانہ کارروائیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
چند روز قبل جنوبی قنیطرہ میں صہیونی قابض افواج نے ایک بس کو بھی روک لیا تھا جس میں ایسے طلبہ سوار تھے جو اپنے مڈل اسکول کے امتحانات دینے جا رہے تھے۔
اس علاقے کے ایک رہائشی ابومحمد نے ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ الرفید گاؤں جا رہے تھے کہ صہیونی فوجیوں نے انہیں روک لیا اور ایک فوجی نے ان کی طرف براہ راست بندوق تان لی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نہیں جانتے تھے کہ کیا کریں اور تقریباً آدھے گھنٹے تک خوفزدہ کھڑے رہے، اس کے بعد ہمیں جانے کی اجازت دی گئی۔
شامی شہریوں نے صہیونی فوج کی جانب سے گھروں پر بار بار چھاپوں کی شکایت بھی کی ہے۔
درعا کے مضافات میں کام کرنے والے صحافی محمد الحورانی کے مطابق لوگ اب صحافیوں سے بھی خوفزدہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بہت سے لوگ صحافیوں سے بات کرنے سے گریز کرتے ہیں کیونکہ انہیں خدشہ ہوتا ہے کہ جس گھر کی تصویر یا ویڈیو بنائی جائے گی، بعد میں وہ صہیونی حملے کا نشانہ بن سکتا ہے۔
مقامی باشندوں کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق ان کے علم میں آنے والے گرفتار افراد کی تعداد چھیالیس یا سینتالیس تک پہنچ چکی ہے جن میں پانچ بچے بھی شامل ہیں۔
گزشتہ چند ماہ کے دوران جنوبی شام کے صوبوں درعا اور قنیطرہ میں صہیونی حملوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ صہیونی فوج تقریباً روزانہ سرحدی علاقوں میں کارروائیاں انجام دیتی ہے جن میں تلاشی، گرفتاری اور اغوا کی کارروائیاں شامل ہیں اور ان کا نشانہ اکثر کسان اور چرواہے بنتے ہیں۔
یہ صہیونی کارروائیاں عارضی فوجی چوکیوں کے قیام، راہگیروں کی تلاشی اور دیہات و قصبوں میں شہری گھروں کی تفتیش کے ساتھ انجام دی جاتی ہیں جس کے باعث مقامی آبادی ان کارروائیوں کے پھیلاؤ اور تسلسل کے حوالے سے شدید تشویش کا شکار ہے۔
مئی کے مہینے کے دوران صہیونی قابض افواج نے قنیطرہ، درعا اور دمشق کے مختلف علاقوں میں دو سو پانچ جارحانہ کارروائیاں انجام دیں جن میں حملے، شہریوں کی گرفتاریاں، فضائی حدود کی خلاف ورزیاں، فوجی چوکیوں کا قیام، شہریوں کو ہراساں کرنا، فضائی اور توپ خانے کے حملے اور دیگر جارحانہ اقدامات شامل تھے۔
جنوبی شام کے باشندے گزشتہ ایک سال سے مسلسل خوف اور اضطراب کی کیفیت میں زندگی گزار رہے ہیں۔ صہیونی افواج کے رات کے حملے، فوجی چوکیوں پر ہراسانی، شامی فضائی حدود میں جاسوس طیاروں کی مسلسل پروازیں اور دیگر جارحانہ اقدامات نے شامی شہریوں سے ایک معمول کی زندگی گزارنے کا حق چھین لیا ہے۔


مشہور خبریں۔
یمن کے پانیوں میں جارح قوتوں کی کسی بھی دشمنانہ سرگرمی کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار
?️ 5 جنوری 2022سچ خبریں: یمنی فوج کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف علی المشکی نے
جنوری
یمن جنگ میں سب سے زیادہ نقصان کس کا ہوا؟
?️ 20 جون 2023سچ خبریں:یمن کی وزارت انسانی حقوق کے ترجمان نے کہا کہ یمن
جون
افغانستان میں امریکی میراث، طالبان کی زبانی
?️ 1 جولائی 2023سچ خبریں:جہاں بعض ممالک نے افغانستان کی سلامتی پر تشویش کا اظہار
جولائی
امریکہ، انگلینڈ، فرانس اور جرمنی 13 سال سے شام کے ساتھ کیا کر رہے ہیں؟
?️ 18 مارچ 2024سچ خبریں: شام کی وزارت خارجہ نے اس ملک کے بارے میں
مارچ
کرکٹ ورلڈکپ فائنل میں آسٹریلوی نوجوان نے میلہ لوٹ لیا: سراج الحق
?️ 20 نومبر 2023لاہور: (سچ خبریں) امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا کہنا ہے کرکٹ
نومبر
یوکرائن حکومت کا انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ریکارڈ
?️ 3 مارچ 2022سچ خبریں:اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی بین الاقوامی کمیٹی کے خصوصی
مارچ
لبنان کے صدارتی انتخابات کی تفصیلات
?️ 24 دسمبر 2024سچ خبریں: واللا نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق لبنان میں آئندہ
دسمبر
مغربی ممالک کی روسی حملے کے بہانے یوکرائن کو ہتھیاروں کی فراہمی
?️ 13 فروری 2022سچ خبریں:روس اور امریکہ کے صدور کے درمیان گزشتہ رات ہونے والی
فروری