?️
سچ خبریں:یورپ-میڈیٹرینین ہیومن رائٹس واچ نے اپنی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ صیہونی جیلوں اور حراستی مراکز میں فلسطینی قیدیوں کے خلاف جنسی زیادتی اور شدید نوعیت کے جنسی تشدد کے منظم واقعات پیش آ رہے ہیں۔
یورپ-میڈیٹرینین ہیومن رائٹس واچ تنظیم کی رپورٹ کے مطابق، یہ واقعات محض انفرادی یا الگ تھلگ نہیں بلکہ ایک منظم اور ریاستی پالیسی کا حصہ معلوم ہوتے ہیں، جنہیں قیدیوں کو دبانے اور ان کی اجتماعی و انفرادی مزاحمت کو توڑنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
فلسطینی خبر رساں ادارے کے حوالے سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 کے بعد ان خلاف ورزیوں میں نمایاں اور غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پہلے سے موجود حدود اور رکاوٹیں ختم ہو چکی ہیں۔
دیواروں کے پیچھے ایک اور نسل کشی کے عنوان سے شائع ہونے والی اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غزہ سے تعلق رکھنے والے قیدیوں کے خلاف جنسی تشدد کے مختلف اور بار بار دہرائے جانے والے طریقے استعمال کیے گئے۔
ان میں براہ راست زیادتی، آلات کے ذریعے حملے، اور جسم کے حساس اعضا کو نشانہ بنانے والی تشدد کی شکلیں شامل ہیں، جو نہ صرف جسمانی بلکہ شدید ذہنی اذیت کا سبب بنتی ہیں۔
یہ رپورٹ حالیہ مہینوں میں رہا ہونے والے قیدیوں کی براہ راست گواہیوں پر مبنی ہے، جنہوں نے جیلوں میں پیش آنے والے واقعات کی تفصیلات بیان کیں اور بتایا کہ یہ تشدد ایک جیسے انداز میں بار بار کیا جاتا رہا۔
تنظیم نے مزید کہا کہ یہ جنسی تشدد دیگر منظم اقدامات کے ساتھ مل کر کیا جاتا تھا، جیسے کہ ان واقعات کی ویڈیو ریکارڈنگ اور سکیورٹی اہلکاروں کی اجتماعی موجودگی، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ کارروائیاں باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت انجام دی جا رہی تھیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان مظالم کے نتیجے میں کئی متاثرین کو مستقل جسمانی معذوری، تولیدی نظام کو نقصان، اور شدید نفسیاتی مسائل کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ بعض کیسز میں تشدد موت کا سبب بھی بنا۔
یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ مردوں اور کم عمر لڑکوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا، جن کے خلاف انتہائی توہین آمیز اور پرتشدد طریقے استعمال کیے گئے، جو انسانی وقار اور بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔
قانونی جائزے کے حوالے سے تنظیم نے کہا کہ اسرائیل کا عدالتی نظام ایسے جرائم کے خلاف مؤثر احتساب فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے اور اس کے برعکس، اس نے استثنیٰ کو فروغ دیا ہے جس سے یہ خلاف ورزیاں جاری رہنے کا امکان بڑھ گیا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ بعض واقعات اپنی نوعیت کے لحاظ سے روایتی تشدد سے آگے بڑھ کر نسل کشی کے زمرے میں آ سکتے ہیں، کیونکہ ان کا مقصد فلسطینی معاشرے کو جسمانی اور ذہنی طور پر شدید نقصان پہنچانا ہے۔
یورپ-میڈیٹرینین ہیومن رائٹس واچ نے بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان جرائم کو فوری ترجیح دے اور ان کی جامع تحقیقات کرے۔
تنظیم نے زور دیا کہ جنسی تشدد کو صرف ایک علیحدہ جرم کے طور پر نہیں بلکہ جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور ممکنہ نسل کشی کے ثبوت کے طور پر بھی دیکھا جانا چاہیے۔


مشہور خبریں۔
توہین عدالت کی کارروائی کی گئی تو پیپلز پارٹی شہباز شریف کا ساتھ دے گی، ساجد طوری
?️ 9 اپریل 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) وفاقی وزیر برائے سمندر پار پاکستانی ساجد حسین طوری
اپریل
سینیٹ میں 27 ویں آئینی ترمیمی بل 2025 پر قائمہ کمیٹی کی رپورٹ پیش
?️ 10 نومبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) ایوان بالا سینیٹ میں 27 ویں آئینی ترمیمی
نومبر
پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی و مالی تعلقات کا پس منظر
?️ 8 جنوری 2026 پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی و مالی تعلقات کا پس
جنوری
ٹرمپ انتظامیہ میں غنڈوں کی کابینہ
?️ 20 فروری 2025 سچ خبریں: گزشتہ نومبر کے اوائل میں، امریکی صدارتی انتخابات سے
فروری
ایران نے اپنی فضائی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط کر لیا ہے: صیہونی اہلکار
?️ 21 جون 2025سچ خبریں: صیہونی ریاست اب ایران کی عسکری طاقت کو سمجھ چکی
جون
صیہونی حکومت عرب ممالک کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے
?️ 13 جولائی 2025سچ خبریں: بنجمن نیتن یاہو نے ایک بار پھر غزہ میں 60
جولائی
سعودی عرب کا یمن میں امارات کے خلاف جدید ترین اقدام
?️ 15 فروری 2026سچ خبریں:سعودی عرب نے یمن میں امارات کے خلاف ایک نیا قدم
فروری
مصری عوام کے بارے میں صیہونی میڈیا کا عجیب اعتراف
?️ 26 جون 2023سچ خبریں:زمان اسرائیل اخبار کے مطابق اسرائیل میں سمجھوتہ کے حامی بھی
جون