?️
پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی و مالی تعلقات کا پس منظر
، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر مارشل ظہیر احمد بابر کے دورۂ ریاض کے بعد ایسی اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ سعودی عرب پاکستان سے جے ایف-17 تھنڈر جنگی طیارے خریدنے میں دلچسپی رکھتا ہے، جبکہ پاکستان اس ممکنہ معاہدے کو سعودی عرب سے لیے گئے اربوں ڈالر کے قرض کی ادائیگی کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔
یہ دورہ، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر (چیف آف آرمی اسٹاف و چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی) کے حالیہ دورۂ سعودی عرب کے چند ہفتوں بعد ہوا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے عسکری روابط کی عکاسی کرتا ہے۔
گزشتہ برس ستمبر میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مشترکہ دفاعی اسٹریٹجک معاہدہ طے پایا تھا، جس کے تحت دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ایک ملک پر حملہ دونوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تقریباً دو ارب ڈالر کے سعودی قرض کو جے ایف-17 جنگی طیاروں کے معاہدے میں تبدیل کرنے پر بات چیت جاری ہے۔ اس معاہدے کی مجموعی مالیت چار ارب ڈالر بتائی جا رہی ہے، جس میں دو ارب ڈالر قرض کی ایڈجسٹمنٹ اور بقیہ رقم دفاعی ساز و سامان کی فراہمی پر خرچ کی جائے گی۔
جے ایف-17 تھنڈر ایک ہلکا مگر جدید جنگی طیارہ ہے، جسے پاکستان اور چین نے مشترکہ طور پر تیار کیا ہے اور یہ پاکستان میں ہی تیار کیا جاتا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہی طیارہ سعودی عرب کے لیے سب سے مضبوط آپشن کے طور پر زیرِ غور ہے۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب پاکستان شدید مالی دباؤ کا شکار ہے، جبکہ سعودی عرب خطے میں امریکہ کی کم ہوتی ہوئی سکیورٹی وابستگی کے پیش نظر اپنی دفاعی شراکت داریوں کو ازسرِ نو تشکیل دے رہا ہے۔
پاکستان طویل عرصے سے سعودی عرب کو دفاعی تربیت، عسکری مشاورت اور انسداد دہشت گردی میں تعاون فراہم کرتا رہا ہے، جبکہ سعودی عرب نے مختلف مواقع پر پاکستان کو مالی سہارا دیا ہے۔
2018 میں سعودی عرب نے پاکستان کے لیے 6 ارب ڈالر کے امدادی پیکج کا اعلان کیا تھا، جس میں اسٹیٹ بینک میں 3 ارب ڈالر کی ڈپازٹ اور 3 ارب ڈالر کا مؤخر ادائیگی پر تیل شامل تھا۔
اس کے بعد سعودی عرب متعدد بار اپنی ڈپازٹس میں توسیع کرتا رہا ہے، جن میں گزشتہ سال 1.2 ارب ڈالر کی توسیع بھی شامل ہے، جس سے پاکستان کو زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم رکھنے میں مدد ملی۔
حالیہ مہینوں میں پاکستان نے دفاعی مصنوعات کی برآمدات بڑھانے کے لیے سفارتی اور عسکری سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔ پاکستانی حکام کے مطابق، ملک نے مشرقی لیبیا کی فوج کے ساتھ چار ارب ڈالر سے زائد کا اسلحہ معاہدہ بھی حتمی شکل دی ہے، جس میں جے ایف-17 جنگی طیارے اور تربیتی طیارے شامل ہیں۔
اسی طرح بنگلہ دیش کے ساتھ بھی جے ایف-17 کی فروخت پر بات چیت جاری ہے، اور حال ہی میں بنگلہ دیشی فضائیہ کے سربراہ نے اسلام آباد کا دورہ کیا۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کے مطابق، ملکی دفاعی صنعت کی کامیابی پاکستان کی معیشت کا نقشہ بدل سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستانی ساختہ طیارے اپنی صلاحیت ثابت کر چکے ہیں اور متعدد آرڈرز موصول ہو رہے ہیں، جس کے نتیجے میں آئندہ مہینوں میں پاکستان کو عالمی مالیاتی اداروں پر انحصار کم کرنا پڑ سکتا ہے۔


مشہور خبریں۔
صیہونیوں کی مخالفت؛ زیر حراست بحرینی کارکن کے خلاف الزام
?️ 19 نومبر 2022سچ خبریں:بحرین میں انسانی حقوق کے ایک کارکن کو صیہونی حکومت کی
نومبر
سعودی اتحاد کو جنگ بندی کی کوئی پرواہ نہیں۔ ہم بھی اس کی تمدید کرنے پر مجبور نہیں ہیں: صنعا
?️ 25 مئی 2022سچ خبریں: یمنی نیشنل سالویشن گورنمنٹ برائے دفاع اور سلامتی کے نائب
مئی
احسن اقبال نےعمران خان کونکالنےکاٹوئٹ کیاتھا،اس ٹوئٹ کو امریکی سفارتخانے نے ری ٹوئٹ کیاتھا:فیصل واڈا
?️ 5 اپریل 2022اسلام آباد(سچ خبریں) تحریک انصاف کے رہنما فیصل واڈا نے کہا ہے
اپریل
پاکستان رہن سہن کے اعتبار سے دنیا کا سستا ترین ملک
?️ 1 اگست 2021اسلام آباد(سچ خبریں) تحقیقی و تجزیاتی ادارے ’گو بینکنگ ریٹس‘ کی رپورٹ
اگست
پاکستان کی اومان کو وسطی ایشیا تک رسائی کیلئے گوادر، کراچی پورٹس کے استعمال کی پیشکش
?️ 13 مارچ 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان نے اومان کو وسطی ایشیا میں ابھرتی
مارچ
شبانہ اعظمی کا کنگنا رناوت کو کرارا جواب
?️ 11 فروری 2022ممبئی (سچ خبریں) بالی ووڈ کی سینئر اداکارہ شبانہ اعظمی نے برقع
فروری
برلن میں میناب کے پرائمری اسکول کے شہداء کی یادگاری نمائش کا انعقاد
?️ 18 اپریل 2026 سچ خبریں: میناب کے شجرہ طیبہ پرائمری اسکول کے شہداء کی
اپریل
جنوبی وزیرستان: لڑکیوں کے اسکول پر حملہ، ایک شخص جاں بحق
?️ 2 دسمبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) جنوبی وزیرستان کے علاقے اعظم ورسک میں لڑکیوں کے
دسمبر