صیہونی ریاست میں سیاسی بحران عروج پر

صیہونی ریاست میں سیاسی بحران عروج پر

?️

سچ خبریں:صیہونی ریاست میں سیاسی عدم استحکام بڑھتا جا رہا ہے، لیکوڈ پارٹی کی حمایت میں معمولی اضافہ ہوا ہے، مگر اکثریت حاصل کرنا اب بھی ناممکن ہے۔

مقبوضہ فلسطین میں حالیہ سیاسی حالات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ صہیونی حکومت ایک نئے دور کے سیاسی عدم استحکام اور قیادت کے زوال میں داخل ہو چکی ہے۔
ماہرین کے مطابق 2026 کے وسط میں قبل از وقت انتخابات ممکن ہیں، جو نتن یاہو کے اقتدار کے خاتمے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو 2026 کے وسط میں قبل از وقت انتخابات کے انعقاد سے تل‌ابیب کے اقتداری نقشے میں بڑی تبدیلی واقع ہو سکتی ہے۔

صہیونی سیاسی منظرنامہ اس وقت نئے صف بندیوں، پارٹی اتحادوں اور اندرونی بحرانوں سے دوچار ہے۔
دائیں بازو کے ائتلافی اتحاد کی بنیادیں متزلزل ہو رہی ہیں، اور بنیامین نتن یاہو کی قیادت میں قائم حکومت عوامی نارضایتی، فوجی بھرتی کے مذہبی قوانین، 2026 کے بجٹ بحران، اور عدالتی اصلاحات پر شدید اختلافات کا شکار ہے۔

میڈگم انسٹیٹیوٹ کے تازہ ترین سروے کے مطابق، اگر آج انتخابات منعقد ہوں تو:

  • نتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی 27 نشستوں کے ساتھ سب سے آگے ہوگی۔
  • نفتالی بینیٹ کی نئی پارٹی 21 نشستیں حاصل کرے گی۔
  • یائیر گولان کی قیادت میں ڈیموکریٹس پارٹی کو 13 نشستیں ملیں گی۔
  • یائیر لاپیڈ کی "آیندہ”، آریہ درعی کی "شاس” اور آویگدور لیبرمن کی "اسرائیل بیتینا” ہر ایک کو 9 نشستیں ملیں گی۔
  • ایتمار بن‌گویر کی انتہائی دائیں بازو کی جماعت "قدرت یھودی” صرف 8 نشستوں پر محدود رہے گی۔

مجموعی طور پر، حکومتی اتحاد 51 نشستوں اور اپوزیشن 59 نشستوں پر کھڑی ہے، لیکن کوئی بھی مستحکم حکومت تشکیل دینے کی پوزیشن میں نہیں۔
اسی دوران، عرب مشترکہ فہرست 11 نشستوں کے ساتھ چوتھی بڑی پارلیمانی قوت بن رہی ہے۔

نتن یاہو بدستور وزیر اعظم کے لیے سب سے پسندیدہ امیدوار ہیں
انہیں 39٪ عوامی حمایت حاصل ہے، جبکہ نفتالی بینیٹ 37٪ اور یائیر لاپیڈ 26٪ پر ہیں۔
یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ طوفان الاقصیٰ آپریشن سے قبل نتن یاہو کی مقبولیت جو 50 فیصد سے زائد تھی، اب تیزی سے کم ہوئی ہے۔

سیاسی تجزیہ کار مناحیم لازار کے مطابق، ایران کے خلاف 12 روزہ جنگ نے عارضی طور پر لیکوڈ کی پوزیشن بہتر کی، مگر یہ تبدیلی صرف انتہائی دائیں بازو کے ووٹروں کی اندرونی منتقلی کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی نقشہ اب بھی ناپائیدار ہے۔ مذہبی دائیں بازو کے پاس 51 سے زائد نشستیں نہیں، اور مخالفین عرب جماعتوں کی حمایت کے بغیر حکومت نہیں بنا سکتے۔

لازار کا کہنا ہے کہ اسرائیل کا آئندہ سیاسی منظر چھوٹی جماعتوں کے کردار پر منحصر ہے، جو ممکنہ اتحادوں کا توازن طے کریں گی۔

ہارٹیز اخبار کے معروف تجزیہ نگار یائیر آسولین نے اپنے کالم ’’جب تک اسرائیل قیادت کے خلا کو تسلیم نہیں کرتا، کوئی تبدیلی ممکن نہیں‘‘ میں موجودہ حکومت کو اسرائیل کی تاریخ کی بدترین اور فاسد ترین حکومت قرار دیا۔

ان کے مطابق طوفان الاقصیٰ کے بعد سے اسرائیل فکری، اخلاقی اور سیاسی بحران میں مبتلا ہے،یہ بحران صرف حکومت تک محدود نہیں بلکہ اپوزیشن میں بھی کوئی نیا نظریہ، وژن یا قیادت موجود نہیں۔
انہوں نے لکھا کہ اسرائیل میں حقیقی تبدیلی نہ انتخابی وعدوں سے آئے گی، نہ اتحادوں سے بلکہ فکری دیانت اور شجاعت سے۔

تازہ حالات سے واضح ہوتا ہے کہ اسرائیل سیاسی زوال اور قیادت کی فرسودگی کے دوراہے پر کھڑا ہے۔
اگر قبل از وقت انتخابات منعقد ہوئے تو یہ نتن یاہو کے اقتدار کے خاتمے اور تل‌ابیب کی سیاسی ساخت میں بڑی تبدیلی کی علامت ہوگا۔

مشہور خبریں۔

کیا دنیا غزہ کے لوگوں کی نسل کشی کو بھول چکی ہے ؟

?️ 4 مئی 2025سچ خبریں: اسرائیل کے ہاتھوں غزہ کے لوگوں کے قتل عام کو

سعودی عرب اور امارات کا مصر میں 18.5 ارب ڈالر کا سیاحتی منصوبہ

?️ 8 ستمبر 2025سعودی عرب اور امارات کا مصر میں 18.5 ارب ڈالر کا سیاحتی

وزیراعظم کی چیئرمین این ڈی ایم اے کو امدادی کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت

?️ 16 اگست 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ

ٹرمپ ٹوما ہاکس کو یوکرین بھیجنے سے کیوں پیچھے ہٹ گئے؟

?️ 19 اکتوبر 2025سچ خبریں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں اپنے یوکرینی

یمن 8 سال کی جنگ کے بعد اب سابقہ ملک نہیں رہا

?️ 31 مارچ 2023سچ خبریں:یمن کی جنگ ایک ایسی جنگ جس میں دسیوں ہزار ہلاک

صیہونی حزب اللہ سے کیوں ڈرتے ہیں؟

?️ 24 جنوری 2024سچ خبریں: مقبوضہ علاقوں کی شمالی سرحدوں میں طاقت کے توازن کی

وہ خوفناک منظر نامے جس کا اسرائیل کو انتظار تھا

?️ 6 اکتوبر 2024سچ خبریں: عبرانی زبان میڈیا کے مطابق تہران اسرائیل کے دفاعی نظام

امریکہ کا کوئی صدر نہیں ہے: ایلون مسک

?️ 9 جولائی 2024سچ خبریں:  Tesla اور X سوشل نیٹ ورک کے مالک کا خیال

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے