بھارت میں کورونا وائرس کا قہر، امریکی تحقیقی ادارے نے تہلکہ خیز انکشاف کردیا

بھارت میں کورونا وائرس کا قہر، امریکی تحقیقی ادارے نے تہلکہ خیز انکشاف کردیا

?️

واشنگٹن (سچ خبریں) امریکی تحقیقی ادارے نے تہلکہ خیز انکشاف کرتے ہوئے بھارت میں کورونا وائرس کے حوالے سے کہا ہے کہ بھارت میں کورونا سے مرنے والوں کی تعداد سرکاری اعداد و شمار سے 10 گنا زیادہ ہو سکتی ہیں۔

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق بھارتی حکام کی جانب سے بتائی گئی تعداد کے مطابق اب تک ملک میں 4 لاکھ 15 ہزار اموات ہو چکی ہیں لیکن امریکی تحقیقی ادارے دی سینٹر فار گلوبل ڈیولپمنٹ’ کے اعدادوشمار اور تحقیق کے مطابق یہ اموات اس سے 10 گنا زیادہ اور 49 لاکھ کے قریب ہو سکتی ہیں۔

اگر امریکی ادارے کے ان اعداد و شمار کو درست تصور کیا جائے تو یہ 1947 میں آزادی کے بعد بھارت کا سب سے بڑا انسانی بحران تصور کیا جائے گا۔

سوا ارب آبادی کے حامل بھارت میں رواں سال مئی اور جون میں کورونا وائرس کی قسم ڈیلٹا کی وجہ سے بدترین تباہی آئی اور سرکاری اعدادوشمار کے مطابق صرف مئی کے مہینے میں ایک لاکھ 70 ہزار سے زائد اموات ہوئیں۔

تاہم اس وبا کے آغاز سے لے کر رواں سال جون تک بھارت میں وائرس سے ہونے والی اموات پر تجزیہ کرنے والے امریکی ادارے کا ماننا ہے کہ اس دوران بھارت میں 34 لاکھ سے لے کر 49 لاکھ اموات ہوئیں۔

تحقیق دانوں کا کہنا تھا کہ وائرس سے مرنے والوں کی اصل تعداد سیکڑوں یا ہزاروں میں نہیں بلکہ کئی لاکھ ہو سکتی ہے جس کے نتیجے میں یہ تقسیم ہند کے بعد بھارت کا سب سے بڑا انسانی المیہ بن چکا ہے۔

واضح رہے کہ دنیا بھر میں امریکا 6 لاکھ 9 ہزار اموات کے ساتھ سرفہرست ہے جبکہ 5 لاکھ 42 ہزار اموات کے ساتھ برازیل کا دوسرا نمبر ہے جس کے بعد سب سے زیادہ 4 لاکھ 14 ہزار اموات بھارت میں ہوئیں۔

ماہرین کئی ماہ سے ہندوستان میں مرنے والوں کے حوالے سے بتائے گئے اعدادوشمار پر شکوک و شبہات کا اظہار کررہے ہیں اور وہ اس کی وجہ سے ناقص نظام صحت پر پڑنے والے دباؤ کو قرار دے رہے ہیں۔

حالیہ ہفتوں کے دوران متعدد ہندوستانی ریاستوں نے اپنے وائرس سے ہونے والی اموات کی تعداد پر نظر ثانی کی ہے جس میں ہزاروں پرانی اموات کو شامل کیا گیا ہے۔

امریکی تحقیقی مرکز کی یہ رپورٹ اضافی اموات’ کے تخمینے پر مبنی تھی، بحران سے پہلے کے اعداد و شمار کے مقابلے میں بعد میں مرنے والے افراد کی تعداد کے اضافے پر اعدادوشمار مرتب کیے گئے۔

اس رپورٹ کو مرتب کرنے والوں میں سابق حکومتی اقتصادی مشیر اروند سبرامنیم کے ساتھ ساتھ ہارورڈ کے ماہرین بھی شامل تھے اور انہوں نے اعتراف کیا کہ شماریات کی بنیاد پر اموات کا تخمینہ لگانا مشکل ہے البتہ تمام تخمینے بتاتے ہیں کہ وبائی امراض سے اموات کی تعداد سرکاری اعدادوشمار سے کہیں زیادہ ہے۔

اس سے قبل فرانس کے ریسرچ انسٹی ٹیوٹ فار ڈیولپمنٹ کے ماہر کرسٹو گیلموٹو نے رواں ماہ بھارت کے حوالے سے اپنی تحقیق میں کہا تھا کہ مئی کے آخر تک ہلاکتوں کی تعداد قریب 22 لاکھ کے قریب رہی ہو گی۔

بھارت میں فی 10 لاکھ آبادی پر اموات کی شرح دنیا کی اوسط سے نصف ہے اور کرسٹو گیلموٹو کا ماننا ہے کہ اتنی کم شرح بھارت میں بحران کی شدت کے منافی ہے۔

یاد رہے کہ بھارت کی وزارت صحت نے گزشتہ ماہ ایک رپورٹ شائع کرنے پر برطانوی جریدے دی اکانومسٹ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا جہاں جریدے نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ بھارت میں اموات کی شرح سرکاری اموات سے پانچ سے سات گنا زیادہ ہے۔

مشہور خبریں۔

ایک ہی سکے کے دو رخ

?️ 16 اکتوبر 2023سچ خبریں: تاریخی شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ داعش اور صیہونیت

اسرائیل میں قطر کے الجزیرہ نیٹ ورک کی نشریات پر پابندی کے تسلسل کے خلاف صیہونیوں کا احتجاج

?️ 22 مئی 2025سچ خبریں: حکومت اور قطر کے درمیان اختلافات بڑھتے ہی صیہونی حکومت

غزہ میں 400 دن کی جنگ کے المناک اثرات؛ وہ بچے جو دنیا میں آئے بغیر ہی چلے گئے

?️ 10 نومبر 2024سچ خبریں:غزہ میں فلسطینی حکومت کے دفتر برائے اطلاعات نے صیہونی حکومت

حزب اللہ کو بھی دیگر سیاسی جماعتوں کی طرح کام کرنے کا حق ہے: لبنانی وزیر اعظم

?️ 28 دسمبر 2021سچ خبریں:لبنانی وزیر اعظم نجیب میقاتی نے یہ کہتے ہوئے کہ لبنان

شام میں امریکی فوجی اڈے پر خوفناک دھماکے

?️ 6 دسمبر 2021سچ خبریں:شامی خبر رساں ذرائع نے جنوب مشرقی شام میں التنف کے

حملے کے پہلے دن غزہ کے عوام پر 16 ٹن بم گرائے گئے

?️ 6 اگست 2022سچ خبریں:    صہیونی اخبار یدیوت احرونوت نے ایک خبر میں لکھا

امریکی اتحادیوں نے شام عراق سرحد پر 12 کلومیٹر طویل سرنگ کھودی

?️ 21 جون 2022سچ خبریں:    مشرقی شام میں اسپوٹنک کے نامہ نگار نے رف

ریاض کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے سے مسئلہ فلسطین حل: نیتن یاہو

?️ 22 فروری 2023سچ خبریں: وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ صیہونی حکومت

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے