?️
سچ خبریں: بنیامین نیتن یاہو نے سوئزر لینڈ میں بین الاقوامی فوجداری عدالت کے وارنٹ کے تحت گرفتاری کے خدشے کے باعث غزہ امن کونسل کے اجلاس میں شرکت سے انکار کر دیا۔
صیہونی میڈیا کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ قابض وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اس خدشے کے باعث کہ کہیں انہیں سوئزر لینڈ کے شہر داووس میں گرفتار نہ کر لیا جائے، غزہ امن کونسل کے اجلاس میں شرکت سے دستبرداری اختیار کر لی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ اگلے ہفتے غزہ میں امن کونسل کے قیام کا اعلان کریں گے:صہیونی میڈیا
الجزیرہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے شائع ہونے والے صیہونی اخبار ہاآرتص نے رپورٹ کیا ہے کہ نیتن یاہو نے یہ فیصلہ اس وقت کیا جب سوئزر لینڈ نے اعلان کیا کہ وہ بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کی جانب سے جاری کردہ گرفتاری کے حکم پر عمل درآمد کا پابند ہے۔
بین الاقوامی فوجداری عدالت، ہیگ نے 21 نومبر 2024 (یکم آذر 1403) کو بنیامین نیتن یاہو اور سابق صیہونی وزیر دفاع یوآو گالانت کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔ ان پر جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور غزہ کے عوام کے خلاف بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب قابض صیہونی حکومت کے وزیر اعظم کے دفتر نے گزشتہ روز بدھ کو اعلان کیا تھا کہ بنیامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ امن کونسل میں شمولیت کی دعوت قبول کر لی ہے۔
نیتن یاہو کے دفتر کی جانب سے جاری ایک مختصر بیان میں کہا گیا کہ
نیتن یاہو نے امریکی صدر کی جانب سے امن کونسل کی رکنیت کی دعوت قبول کر لی ہے، یہ ایسی کونسل ہے جس میں دنیا بھر کے رہنماؤں کی شمولیت متوقع ہے۔
اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے درجنوں ممالک اور فریقین کو غزہ امن کونسل میں شامل ہونے کی دعوت دی تھی۔ اس کونسل کے قیام کا مقصد، بظاہر، غزہ میں جاری جنگ کے خاتمے میں مدد فراہم کرنا بتایا گیا ہے۔ ٹرمپ نے اس منصوبے کا ابتدائی اعلان ستمبر میں کیا تھا، جبکہ عالمی رہنماؤں کو باضابطہ دعوت نامے گزشتہ ہفتے ارسال کیے گئے۔
دعوت نامے کی ایک کاپی اور کونسل کے مجوزہ ضابطۂ کار کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ مستقل طور پر اس امن کونسل کی صدارت کریں گے۔ کونسل ابتدا میں غزہ پٹی کے مسائل پر توجہ دے گی اور بعد ازاں اسے دیگر عالمی تنازعات تک وسعت دی جائے گی۔
اسی خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ممالک کی رکنیت ابتدائی طور پر صرف تین سال کے لیے ہوگی، تاہم اگر کوئی ملک ایک ارب ڈالر بطور اخراجات ادا کرے تو وہ مستقل رکن بن سکتا ہے۔
بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ چاہتے ہیں کہ اس کونسل کی باضابطہ دستخطی تقریب داووس میں عالمی اقتصادی فورم کے اجلاس کے موقع پر منعقد کی جائے۔
مزید پڑھیں:امریکہ کا غزہ میں امن کونسل نامی ادارہ قائم کرنے کا دعویٰ
دوسری جانب، بعض حکومتوں نے ٹرمپ کی اس دعوت پر محتاط ردِعمل ظاہر کیا ہے، جبکہ سفارتی حلقوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ اقدام اقوام متحدہ کے کردار اور کارکردگی کو متاثر کر سکتا ہے۔


مشہور خبریں۔
غزہ جنگ میں اسرائیل کے لیے امریکی حمایت کے تین ستون
?️ 20 جنوری 2025سچ خبریں: اکتوبر 2023 میں فلسطین میں آپریشن الاقصیٰ طوفان کے چند
جنوری
پاکستان اور بحرین کے درمیان عسکری تعاون میں پیش رفت
?️ 26 ستمبر 2025پاکستان اور بحرین کے درمیان عسکری تعاون میں پیش رفت منامہ اور
ستمبر
کیا غزہ جنگ کے سلسلہ میں امریکہ اور اسرائیل کے درمیان اختلاف ہے؟
?️ 11 نومبر 2023سچ خبریں: مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع میں امریکہ اور اسرائیل کے
نومبر
ٹرمپ کے عالمی نظم کو تہ و بالا کرنے والے اقدامات
?️ 27 اپریل 2025سچ خبریں: روئٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
اپریل
مغرب پر اندھے اعتماد کا خطرناک نتیجہ
?️ 9 جون 2025 سچ خبریں:لیبیا میں قذافی کی حکومت کا انجام، صرف داخلی ناکامی
جون
اسرائیل غزہ کے خلاف جنگ کو طول کیوں دے رہا ہے؟
?️ 18 نومبر 2023سچ خبریں: ماجدی عبدالہادی نے کہا کہ یہ پہلی بار ہے کہ کوئی
نومبر
ٹرمپ کے معاون کی وال اسٹریٹ جرنل پر تنقید
?️ 15 فروری 2025 سچ خبریں:امریکہ کے نائب صدر کے معاون، جی ڈی ونس نے
فروری
نوجوان فلسطینی صہیونی فوجیوں کی گولی کا نشانہ بنا
?️ 7 ستمبر 2022سچ خبریں: فلسطینی ذرائع ابلاغ نے آج بدھ کی صبح
ستمبر