امریکی عوام کی اکثریت ایران کے خلاف جنگ میں ٹرمپ کی ’’فتح‘‘ کے دعوے پر یقین نہیں رکھتی؛تازہ ترین سروے رپورٹ

ایران کے خلاف

?️

سچ خبریں:پولیٹیکو کے ایک تازہ سروے سے معلوم ہوا ہے کہ امریکی عوام کی بڑی تعداد ایران کے خلاف جنگ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کے دعووں کو قبول نہیں کرتی۔ بیشتر شہریوں کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کے پاس اس تنازعے کے حل کے لیے واضح حکمت عملی موجود نہیں۔

تازہ ترین سروے سے ظاہر ہوا ہے کہ امریکی ووٹروں کی اکثریت نہ صرف ایران کے ساتھ تنازعے کے حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ کی حکمت عملی پر اعتماد نہیں رکھتی بلکہ ان میں سے بہت سے لوگ ان کے اعلان کردہ اہداف کے حصول پر بھی سوالات اٹھا رہے ہیں۔

پولیٹیکو کے ادارہ پبلک فرسٹ کی جانب سے کیے گئے سروے کے مطابق 41 فیصد امریکیوں کا خیال ہے کہ صدر کے پاس اس بحران کے حل کے لیے کوئی واضح منصوبہ موجود نہیں، جبکہ 40 فیصد کا کہنا ہے کہ یا تو ٹرمپ اپنے اہداف حاصل کرنے میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے یا پھر ابتدا ہی سے ان کا کوئی واضح مقصد نہیں تھا۔

صرف 38 فیصد امریکی حملوں کے حامی

سروے کے نتائج سے پتا چلتا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے عوامی حمایت اب بھی محدود ہے۔ صرف 38 فیصد امریکی شہری حالیہ حملوں کی حمایت کرتے ہیں۔

قابل توجہ بات یہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائیوں کے آغاز کے کئی ہفتے گزر جانے اور عوامی رائے ہموار کرنے کے لیے وائٹ ہاؤس کو کافی وقت ملنے کے باوجود اس حمایت میں کوئی نمایاں اضافہ نہیں ہوا۔

ایران کے خلاف جنگ میں واضح حکمت عملی نہ ہونے پر تشویش

سروے کے مطابق ہر چار میں سے صرف ایک امریکی، یعنی 27 فیصد افراد، یہ سمجھتے ہیں کہ ٹرمپ کے پاس ایران کے ساتھ تنازعے کے حل کے لیے کوئی منصوبہ موجود ہے

اس کے مقابلے میں 41 فیصد کا کہنا ہے کہ ایسی کوئی حکمت عملی موجود نہیں۔ مزید 15 فیصد افراد کا خیال ہے کہ اگرچہ ٹرمپ کے پاس واضح منصوبہ نہیں، لیکن وہ پھر بھی ان کے اقدامات پر اعتماد رکھتے ہیں۔

اعداد و شمار سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ 2024 کے صدارتی انتخابات میں ٹرمپ کی حمایت کرنے والوں میں سے ایک تہائی سے زیادہ افراد بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ صدر کے پاس کوئی واضح لائحۂ عمل نہیں ہے۔

ٹرمپ کے دعووں اور عوامی رائے میں واضح فرق

اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ متعدد مرتبہ جنگ میں کامیابی اور تنازعے کے خاتمے کے قریب پہنچنے کے دعوے کر چکے ہیں، تاہم سروے میں صرف 15 فیصد افراد نے کہا کہ وہ اپنے فوجی اہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔

25 فیصد افراد کو امید ہے کہ وہ مستقبل میں اپنے مقاصد حاصل کر لیں گے، جبکہ 40 فیصد کا کہنا ہے کہ یا تو وہ کبھی کامیاب نہیں ہوں گے یا پھر ان کے اہداف ابتدا سے ہی واضح نہیں تھے۔

پالیسی میں اچانک تبدیلی کو کمزوری قرار دیا گیا

ریاست مشی گن سے تعلق رکھنے والے ریپبلکن حکمت عملی ساز جیسن رو نے سروے کے نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس جنگ کے لیے عوام کو پہلے سے تیار نہیں کیا گیا تھا۔

ان کے مطابق ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم میں ایسی پالیسیوں اور فوجی مداخلتوں کی مخالفت کی تھی، لیکن بعد میں اچانک مکمل طور پر مختلف مؤقف اختیار کر لیا، جس کے باعث امریکی عوام اس تبدیلی کے لیے ذہنی طور پر تیار نہیں تھے۔

اقتصادی مسائل اب بھی عوام کی اولین ترجیح

سروے سے معلوم ہوا کہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے ووٹروں کی بنیادی تشویش اب بھی مہنگائی اور زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات ہیں۔

تقریباً نصف شرکاء، جن میں 2024 میں ٹرمپ کو ووٹ دینے والے 29 فیصد افراد بھی شامل ہیں، کا خیال ہے کہ صدر نے بین الاقوامی معاملات پر ضرورت سے زیادہ توجہ دی ہے جبکہ اندرونی مسائل کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ کے تسلسل اور اس کے نتیجے میں پٹرول، تیل اور خوراک کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے سے نومبر کے انتخابات سے قبل ریپبلکن جماعت کے اقتصادی بیانیے کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

وائٹ ہاؤس کا ردعمل

وائٹ ہاؤس کے ترجمان کوش دیسائی نے ایک بیان میں صورت حال کو معمول کے مطابق ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ صدر کی فوجی اور سفارتی ٹیم ایران کے ساتھ معاہدے اور توانائی کی منڈی میں پیدا ہونے والی عارضی مشکلات کے حل کے لیے کام کر رہی ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت ملکی سطح پر اقتصادی منصوبوں کے نفاذ کا عمل بھی جاری رکھے ہوئے ہے اور عارضی مشکلات کے خاتمے کے بعد امریکی عوام مزید اقتصادی پیش رفت دیکھیں گے۔

ایران کے ساتھ مذاکرات کا مستقبل غیر واضح

اگرچہ آبنائے ہرمز تجارتی آمدورفت کے لیے دوبارہ کھول دی گئی ہے اور تیل کی قیمتوں میں بھی کمی آئی ہے، تاہم ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا مستقبل اب بھی غیر یقینی دکھائی دیتا ہے۔

جیسن رو کے مطابق حکومت کو سب سے بڑی مشکل اپنے پیغام کو مؤثر انداز میں عوام تک پہنچانے میں پیش آ رہی ہے، کیونکہ عوام کو روزانہ بتایا جاتا ہے کہ جنگ جلد ختم ہو جائے گی، لیکن ان دعووں کو کئی ہفتے گزرنے کے باوجود صورتحال میں کوئی واضح تبدیلی نظر نہیں آتی۔

مشہور خبریں۔

صیہونی سکیورٹی کابینہ کے اجلاس میں تصادم

?️ 5 جنوری 2024سچ خبریں:صہیونی فوج کی جانب سے الاقصیٰ طوفان آپریشن کے دن اسرائیل

ایون فیلڈ ریفرنس میں 7 سال کی سزا کالعدم قرار، مریم نواز بری

?️ 30 ستمبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایون فیلڈ ریفرنس میں

زیلنسکی کا امن منصوبہ ٹائم بم ہے: امریکی ماہر

?️ 28 دسمبر 2025سچ خبریں: امریکی اقتصادی ماہر مارٹن آرمسٹرانگ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم

امریکا کے سمندر میں آتش فشاں کبھی بھی پھٹ سکتا ہے، ماہرین کا انتباہ

?️ 10 جون 2025سچ خبریں: امریکا کے مغرب میں زیر سمندر آتش فشاں کسی بھی

نیتن یاہو جھوٹا اور دھوکے باز ہے: صہیونی مذہبی رہنما

?️ 12 جولائی 2026سچ خبریں:انتہا پسند صہیونی جماعت شاس کے مذہبی رہنما اسحاق یوسف نے

راول ڈیم کے اطراف تعمیرات نہیں ہونی چاہئیں، سینیٹ کمیٹی نے حکومت پنجاب سے جواب طلب کرلیا

?️ 6 نومبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی میں

ہم اکیلے اتنے بڑے زلزلے کے نتائج سے نہیں نمٹ سکتے:ترکی

?️ 22 مارچ 2023سچ خبریں:ترکی کے صدر نے اعلان کیا ہے کہ ہمارے لیے اکیلے

شام میں دہشتگردوں کا حلب شہر کے دو کلومیٹر کے قریب پہنچنے کا دعویٰ

?️ 30 نومبر 2024سچ خبریں:مختلف دہشت گرد گروپوں نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ شام

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے