بنگلہ دیش میں روہنگیا پناہ گزین کیمپ میں بڑا حادثہ، آتشزدگی کے واقعے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے

بنگلہ دیش میں روہنگیا پناہ گزین کیمپ میں بڑا حادثہ، آتشزدگی کے واقعے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے

?️

ڈھاکا (سچ خبریں) بنگلہ دیش میں روہنگیا پناہ گزین کیمپ میں آتشزدگی کا بڑا حادثہ پیش آیا ہے جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے ہیں جبکہ ہزاروں نقل مکانی پر مجبور ہوگئے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطانق پیر کے روز دیر گئے جنوب مشرقی قصبے کاکس بازار کے قریب واقع بلوکھلی کیمپ میں آگ بھڑک اٹھی، جب لوگوں نے اپنے معمولی سامان کو بچانے کے لئے لڑکھڑاتے ہوئے ہزاروں جھونپڑیوں کو جلا دیا، پولیس نے اب تک سات ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔

سینئر پولیس اہلکار ذاکر حسین خان نے بتایا کہ ہمارے پاس سات افراد کی اطلاع ہے جو آتشزدگی میں ہلاک ہوئے، ان میں کل رات تین بچوں کو سپرد خاک کردیا گیا اور آج 4 افراد کی لاشیں برآمد کی گئیں، تمام لاشیں ناقابل شناخت تھیں۔

بنگلہ دیشی عہدیداروں نے روہنگیا پناہ گزین کیمپ میں کم از کم 7 افراد ہلاک اور ہزاروں کو نقل مکانی پر مجبور کرنے والی آتشزدگی کی وجوہات کے بارے میں تحقیقات کا آغاز کردیا جبکہ ملبے تلے دبے ہوئے مزید متاثرین کی تلاش جاری ہے۔

انہوں نے پناہ گزینوں کے کیمپ سے ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ‘آگ کی وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی ہے، حکام آگ کی وجہ معلوم کرنے کے لیے تحقیقات کر رہے ہیں۔

ریڈ کراس کی بین الاقوامی فیڈریشن اور بنگلہ دیش میں ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز کے وفد کے سربراہ سنجیو کافلے نے کہا کہ آگ کی لپیٹ میں 17 ہزار سے زائد پناہ گاہوں کے کیمپ تباہ ہوئے اور ہزاروں افراد بے گھر ہوگئے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ آگ کیمپ کے چار حصوں میں پھیلی جو لگ بھگ ایک لاکھ 24 ہزار افراد پر مشتمل ہے جو اس علاقے میں 10 لاکھ سے زائد روہنگیا مہاجرین کا دسواں حصہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میں ساڑھے تین سال سے کوز بازار میں رہ رہا ہوں اور اس طرح کی آگ کبھی نہیں دیکھی، یہ لوگ دو بار بے گھر ہوئے ہیں، بہت سے لوگوں کے پاس اب کچھ بھی باقی نہیں رہا، چند عینی شاہدین نے بتایا کہ کیمپ کے چاروں طرف خاردار باڑ سے بہت سارے افراد پھنس گئے تھے۔

انسانی ہمدردی کی تنظیم ریفیوجز انٹرنیشنل نے کہا کہ نقصان کا اندازہ کچھ وقت تک معلوم نہیں ہوسکتا ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ‘بہت سے بچے لاپتہ ہیں اور چند کیمپوں میں خاردار تاروں کی وجہ سے فرار ہونے سے قاصر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ 2017 میں میانمار کی ریاست رخائن میں فوجی آپریشن اور متشدد مذہبی گروپوں کے حملوں کے نتیجے میں لاکھوں افراد نے بنگلہ دیش کی سرحد کی جانب سے ہجرت کی تھی۔

میانمار کی فوج کی زیر قیادت کیے گئے آپریشن کے بعد تقریباً ساڑھے 7 لاکھ روہنگیا مسلمانوں نے میانمار سے اپنی جانیں بچا کر بنگلہ دیش میں سرحد پر واقع کیمپوں میں پناہ لی تھی۔

اقوام متحدہ نے اس معاملے پر اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ یہ فوجی کارروائی روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کی غرض سے شروع کی گئی تھی۔

اقوام متحدہ سمیت دیگر عالمی طاقتوں نے میانمار کے اس عمل کو نسل کشی قرار دیا تھا اور حکومت میں شراکتی فوج کو اس میں ملوث قرار دیا گیا تھا۔

مشہور خبریں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی عسکری مداخلت کا نیا ہتھیار

?️ 21 اکتوبر 2025سچ خبریں: امن برائے طاقت کا نظریہ درحقیقت عالمی فوجی و سفارتی پالیسیوں

ہم ہر قسم کے جنگجوؤں کے ساتھ اپنا دفاع کریں گے: چین

?️ 31 جولائی 2022سچ خبریں:    چینی فضائیہ کے ترجمان نے اتوار کی شب کہا

صوابی: قومی اسمبلی کے سابق اسپیکر کی رہائش گاہ سے ’غیرقانونی‘ گاڑیاں برآمد

?️ 17 جون 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) صوابی میں محکمہ ایکسائز نے ضلع پولیس کے ہمراہ

جنگ کا آٹھواں سال حیرتوں سے بھرا سال ہے: یمنی سپریم پولیٹیکل چیئرمین

?️ 30 مارچ 2022سچ خبریں:  الایمان نیٹ ورک کو انٹرویو دیتے ہوئے مہدی مشاط نے

صیہونی حکومت کے خلاف جنوبی افریقہ کی شکایت پر مصر کا داخلہ

?️ 13 مئی 2024سچ خبریں: مصر کی وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کرکے اعلان کیا

گلاسگو کانفرنس معاملے پروزیراعظم کا اہم فیصلہ

?️ 1 دسمبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں)وزیرمملکت زرتاج گل اور ملک امین اسلم کے درمیان گلاسگو

یورپی یونین نے فلسطین پر صیہونی تشدد بند کرنے کا مطالبہ کیا

?️ 2 مارچ 2022سچ خبریں:  یورپی یونین کے دفتر نے مقبوضہ بیت المقدس میں ہونے والی

پاکستان کا افغان حکومت کے سامنے دہشتگردی کا مسئلہ مؤثر طریقے سے اٹھانے کا فیصلہ

?️ 30 مارچ 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) حکومت نے وزارت خارجہ کے ذریعے افغان حکومت

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے