جیرڈ کشنر کے مالی معاملات پر پردہ ڈالنے کا الزام، امریکی میڈیا پر تنقید

امریکی ذرائع ابلاغ

?️

سچ خبریں:امریکی ذرائع ابلاغ پر الزام ہے کہ وہ جیرڈ کشنر کے ایران مذاکرات میں کردار کو نمایاں کر رہے ہیں لیکن سعودی عرب کے ساتھ ان کے مبینہ مالی معاملات کو نظرانداز کر رہے ہیں۔

امریکی میڈیا ادارے جیرڈ کشنر کی ایران سے متعلق مذاکرات میں موجودگی کو بڑے پیمانے پر اجاگر کر رہے ہیں، جبکہ ان کے سعودی عرب کے ساتھ مبینہ مالی تعلقات پر خاموشی اختیار کی جا رہی ہے۔

خبر رساں ذرائع کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور خطے میں امریکی مذاکراتی ٹیم کے رکن کشنر پر تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے، خاص طور پر ان کے اربوں ڈالر کے مالی روابط کے باعث۔

امریکی تحقیقی ویب سائٹ Popular Information نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ جیرڈ کشنر کے مالی تنازع کو جان بوجھ کر نظرانداز کیا جا رہا ہے، جبکہ بڑے امریکی میڈیا ادارے ان کے سفارتی کردار کو نمایاں کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق کشنر نے دو ہزار اکیس کے بعد سعودی عرب کے سرکاری سرمایہ کاری فنڈ سے اپنے نجی سرمایہ کاری ادارے کے لیے تقریباً دو ارب ڈالر حاصل کیے۔ امریکی سینیٹر ران وائیڈن اور رکن پارلیمان رابرٹ گارسیا نے کہا ہے کہ کشنر نے سعودی عرب سے ایک سو دس ملین ڈالر سے زائد انتظامی فیس وصول کی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جب کوئی شخص بیک وقت امریکہ کی سفارتی کوششوں میں شامل ہو اور کسی غیر ملکی حکومت سے مالی فائدہ بھی حاصل کرے تو یہ واضح طور پر ذاتی مفاد اور سرکاری ذمہ داری کے درمیان ٹکراؤ پیدا کرتا ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق امریکی بڑے اخبارات اور نشریاتی ادارے جیسے نیو یارک ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ، وال اسٹریٹ جرنل، ایسوسی ایٹڈ پریس، سی این این، شکاگو ٹریبیون، بوسٹن گلوب اور لاس اینجلس ٹائمز نے جیرڈ کشنر کے سفارتی کردار پر دو سو سے زائد رپورٹیں شائع کیں، لیکن ان میں سے تین فیصد سے بھی کم میں ان کے سعودی عرب کے ساتھ مالی تعلقات کا ذکر کیا گیا۔

اس کے برعکس ننانوے فیصد سے زیادہ رپورٹس میں اس اہم پہلو کو مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا۔

یہ صورتحال اس وقت مزید اہم ہو جاتی ہے جب یہ بات سامنے آتی ہے کہ بعض امریکی اخبارات پہلے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے ایران کے خلاف سخت مؤقف اور ممکنہ جنگی دباؤ کی خبریں دے چکے ہیں، لیکن اب انہی دباؤ اور کشنر کے مالی فوائد کے درمیان تعلق پر مکمل خاموشی اختیار کی جا رہی ہے۔

مشہور خبریں۔

آلاسکا اجلاس میں زلنسکی کو نہ بلانے  پر روس کا رد عمل

?️ 17 اگست 2025آلاسکا اجلاس میں زلنسکی کو نہ بلانے  پر روس کا رد عمل

جاپان میں وسیع امن مارچ؛ مشرقی ایشیا میں جنگی پالیسیوں کی عوامی مخالفت

?️ 3 مئی 2026سچ خبریں:جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو میں 50 ہزار افراد نے امن مارچ

آئی ایم ایف کی سخت شرائط، پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام رکنے کے قریب پہنچ گیا

?️ 23 نومبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) آئی ایم ایف کی سخت شرائط کے باعث

لبنانی پارلیمنٹ ممبر کا امریکہ پر ملکی معاملات میں مداخلت کا الزم 

?️ 14 اپریل 2025 سچ خبریں:لبنان کے ایک معروف رکن پارلیمنٹ اور حزب اللہ کے

پشاور ہائیکورٹ: گورنر خیبرپختونخوا کو کل شام 4 بجے تک نومنتخب وزیراعلیٰ سے حلف لینے کا حکم

?️ 14 اکتوبر 2025پشاور: (سچ خبریں) پشاور ہائیکورٹ نے گورنر خیبرپختونخوا کو کل شام 4

یورپی یونین نے ایران کے جوہری مسئلے کے سیاسی حل پر زور دیا

?️ 6 فروری 2026یورپی یونین نے ایران کے جوہری مسئلے کے سیاسی حل پر زور

 عراق میں امریکی سفارت خانے کے عملے کا فوری انخلا ؛ وجہ ؟

?️ 12 جون 2025سچ خبریں: ایک عراقی اہل کار نے واضح کیا ہے کہ امریکی

غیر قانونی غیر ملکیوں کو بےدخل کرنے کیلئے ملک گیر آپریشن کا آغاز

?️ 1 نومبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) حکومت کی جانب سے غیر قانونی طور پر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے