?️
سچ خبریں:عالمی میڈیا نے ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کو ایک تزویراتی تعطل قرار دیا ہے۔ نیویارک ٹائمز، الجزیرہ اور المیادین کی رپورٹس کے مطابق جارحیت کے باوجود واشنگٹن اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔
ایران کے خلاف امریکہ اور صیہونی حکومت کی فوجی جارحیت کے آغاز سے اب تک نہ صرف اس آپریشن کے اعلانیہ مقاصد حاصل نہیں ہو سکے بلکہ جارحیت پسندوں کے لیے تزویراتی تعطل اور ناکامی کے بڑھتے ہوئے شواہد سامنے آ رہے ہیں۔
یہ جنگ، جس کا آغاز بڑے پیمانے پر حملوں اور معصوم طلبہ سمیت عام شہریوں کے قتل عام سے ہوا، تیزی سے وسیع انسانی، سیکیورٹی اور معاشی ابعاد اختیار کر چکی ہے اور بین الاقوامی میڈیا میں اس پر مختلف ردعمل سامنے آئے ہیں۔
اگرچہ دو ہفتوں کی جنگ بندی عمل میں آئی اور بعد ازاں ٹرمپ کی جانب سے اس میں توسیع بھی کی گئی، تاہم اس جارحیت کے حقیقی خاتمے تک کا راستہ اب بھی پیچیدہ ہے۔
عالمی میڈیا نے اپنے مخصوص نقطہ نظر کے ساتھ اس جنگ کی کہانی بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان بازگشتوں کا جائزہ جنگ کی اصل صورتحال اور اس کے مستقبل کے بارے میں ایک واضح تصویر پیش کر سکتا ہے۔
مغربی میڈیا
نیویارک ٹائمز نے مشرق وسطیٰ میں تناؤ کی نئی لہر پر اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو دھمکی آمیز لہجے میں نیا الٹی میٹم دیا ہے۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا نیٹ ورک پر متنبہ کیا کہ ایران کو تیزی سے قدم اٹھانا ہوگا، ورنہ ان کا کچھ باقی نہیں رہے گا اور انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وقت گزر رہا ہے۔
تاہم رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ ٹرمپ گزشتہ دو ماہ کے دوران کئی بار عملی اقدام کے بغیر ایسی ہی دھمکیاں دے چکے ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق، ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات ہفتوں سے رکے ہوئے ہیں اور اسلامی جمہوریہ ایران نے ایٹمی پروگرام کو محدود کرنے اور آبنائے ہرمز کا محاصرہ ختم کرنے کے لیے واشنگٹن کی شرائط کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
نیویارک ٹائمز مزید لکھتا ہے کہ پینٹاگون آنے والے دنوں میں ممکنہ طور پر دوبارہ فوجی حملے شروع کرنے کی تیاری کر رہا ہے اور امریکہ و اسرائیل جنگ بندی کے آغاز کے بعد سے اب تک کی سب سے بڑی فوجی تیاریوں میں مصروف ہیں۔
تاہم فوجی تجزیہ کاروں کو شک ہے کہ صرف فضائی بمباری ایران کو امریکی مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور کر سکے گی۔ اس رپورٹ میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور بحری جہازوں کی حفاظت کے لیے پروجیکٹ فریڈم کی فوری بحالی کے لیے ٹرمپ کی ایک ماہ سے جاری دباؤ کی مہم کی ناکامی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
فرانس 24 نے تازہ ترین صورتحال پر اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دی ہے کہ اگر وہ امن معاہدے کی طرف تیزی سے نہیں بڑھتا تو ان کا کچھ باقی نہیں رہے گا۔ یہ دھمکی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب واشنگٹن کی رکاوٹوں کے باعث امن مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔
اس رپورٹ کے مطابق، ایرانی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ نے ایران کی تجویز کے اپنے تازہ ترین جواب میں کوئی ٹھوس رعایت پیش نہیں کی ہے۔
واشنگٹن نے پانچ نکاتی منصوبے میں مطالبہ کیا ہے کہ ایران صرف ایک ایٹمی سائٹ کو فعال رکھے اور اپنے افزودہ یورینیم کے ذخائر امریکہ کے حوالے کرے۔ اس کے علاوہ امریکہ نے ایران کے منجمد اثاثوں کا 25 فیصد بھی جاری کرنے یا جنگی نقصانات کا ہرجانہ ادا کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ مہر نیوز ایجنسی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ امریکہ مذاکرات کے ذریعے وہ مراعات حاصل کرنا چاہتا ہے جو وہ میدان جنگ میں حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔
فرانس 24 مزید لکھتا ہے کہ اسی دوران ابوظبی کے ایٹمی بجلی گھر کے قریب ڈرون حملہ ہوا ہے اور لبنان میں بھی جنگ بندی میں توسیع کے باوجود صیہونی حکومت کے حملے جاری ہیں۔
ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے پاکستان کے وزیر داخلہ سے ملاقات میں اس بات پر زور دیا کہ حالیہ واقعات نے ثابت کر دیا ہے کہ خطے میں امریکی موجودگی نہ صرف سیکورٹی فراہم نہیں کرتی بلکہ بدامنی کی بنیاد بنتی ہے۔
عربی اور علاقائی میڈیا
المیادین نے ایک تجزیہ میں لکھا ہے کہ جنگ کے باضابطہ خاتمے کے اعلان کے بغیر ہی خطے کے ممالک اپنے تعلقات اور اتحاد کی ازسرنو ترتیب کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ حالیہ جنگ نے امریکہ اور اسرائیل کی کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا ہے اور تین اہم مسائل کو پیش رفت کا مرکز بنا دیا ہے جن میں آبنائے ہرمز کا بحران، خطے میں امریکی فوجی موجودگی کا مستقبل اور مشرق وسطیٰ کی عدم استحکام میں اسرائیل کا کردار شامل ہیں۔
تجزیہ کار کے مطابق، آبنائے ہرمز میں مسلسل رکاوٹ کے باعث خلیجی ممالک نے ایک طرف ایران کے ساتھ مشترکہ مفاہمت تک پہنچنے کے لیے اپنے سیاسی اور سفارتی رابطے بڑھا دیے ہیں اور دوسری طرف تیل کی برآمد اور تجارت کے لیے متبادل راستوں اور منصوبوں کی تلاش شروع کر دی ہے۔ متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور عراق بھی آبنائے ہرمز پر انحصار کم کرنے کے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔
اس تجزیہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ خطے کی رائے عامہ امریکی فوجی اڈوں کی افادیت کے حوالے سے بدگمان ہو چکی ہے اور واشنگٹن کی فوجی موجودگی پر نظرثانی کا مطالبہ کر رہی ہے۔ تجزیہ کار کی نظر میں اسرائیل بھی اپنی توقعات کے برعکس جنگ کے بعد مزید تنہا ہو گیا ہے اور نیتن یاہو کی پالیسیوں نے تل ابیب کے خلاف نئے علاقائی اتحادوں کو جنم دیا ہے۔
آخر میں تجزیہ یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اس جنگ کی سب سے بڑی ہاری ہوئی فریق رہی ہے اور اب خطے کے ممالک کے پاس آزادانہ فیصلوں کے ذریعے مشرق وسطیٰ کے لیے ایک مختلف مستقبل بنانے کا تاریخی موقع ہے۔
الجزیرہ نے ایک تجزیہ میں لکھا ہے کہ جب بھی امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں مداخلت کی ہے، آخر کار ایران زیادہ اثر و رسوخ اور طاقت حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے۔
تجزیہ کار کا خیال ہے کہ اگرچہ بہت سے ممالک ایران کے ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کے خلاف ہیں، لیکن واشنگٹن کی پالیسیوں نے عملی طور پر تہران کو مضبوط کیا ہے۔ 2015 کے ایٹمی معاہدے سے امریکہ کی علیحدگی اور سخت پابندیوں کے نفاذ نے ایران کو اپنے یورینیم کی افزودگی کے پروگرام کو تیز رفتاری سے جاری رکھنے پر مجبور کیا۔
تجزیہ کار کے مطابق، 1988 میں ایران عراق جنگ کے خاتمے کے بعد سے ایران کا علاقائی اثر و رسوخ بتدریج بڑھتا گیا۔ کویت کی آزادی کی جنگ، افغانستان پر قبضہ اور خاص طور پر 2003 میں عراق پر امریکی حملے نے تہران کے لیے بڑے مواقع پیدا کیے۔ صدام کے زوال نے عراق کو ایران کے اثر و رسوخ کا اہم ترین علاقہ بنا دیا اور تہران اب بھی عراق کی داخلی سیاست میں فیصلہ کن کردار ادا کر رہا ہے۔
تجزیہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اوباما انتظامیہ نے ایٹمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے عملی طور پر شام اور یمن میں ایران کا ہاتھ کھلا چھوڑ دیا۔ اب بھی نیا بحران اور آبنائے ہرمز پر تناؤ ایران کے لیے ایک اور تزویراتی فائدے میں بدل سکتا ہے۔
تجزیہ کار یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ ایران نے امریکہ کی غلطیوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نہ صرف اپنا علاقائی اثر و رسوخ برقرار رکھا ہے بلکہ آبنائے ہرمز کو مستقبل کے مذاکرات میں دباؤ کے حربے کے طور پر بھی استعمال کرے گا۔
الشرق الاوسط نے دو الگ الگ تجزیوں میں، لہجے کے فرق کے باوجود، ایک مشترکہ نکتے پر زور دیا ہے کہ مذاکرات میں تعطل اور ایران و امریکہ کے درمیان محاذ آرائی کا تسلسل برقرار ہے، جبکہ خطہ اب بھی اس بحران کی اصل قیمت ادا کر رہا ہے۔
پہلے تجزیہ میں، جس کا عنوان مذاکرات کی راکھ کے نیچے آگ ہے، دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران اب بھی نظریاتی اور غیر حقیقت پسندانہ ذہنیت کے ساتھ کام کر رہا ہے۔
تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ تہران مذاکرات کے لیے ایسی شرائط رکھتا ہے جن کا عملی طور پر مطلب ایران کی مکمل جیت ہے؛ تمام محاذوں پر جنگ کے خاتمے اور خطے سے امریکی افواج کے انخلاء سے لے کر پابندیوں کے مکمل خاتمے، ہرجانے کی ادائیگی اور افزودگی کے حق کی قبولیت تک۔
دوسرا تجزیہ جس کا عنوان ہے ایران شکست قبول نہیں کرتا اور واشنگٹن پرعزم نہیں ہے، زیادہ تجزیاتی ہے اور امریکی حکمت عملی کی کمزوری پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔
تجزیہ کار وضاحت کرتا ہے کہ ایران، جنگ کے بھاری نقصانات اور معاشی دباؤ کے باوجود، مزاحمت کے موقف پر قائم ہے کیونکہ وہ نظام کی بقا کو مادی اخراجات سے زیادہ اہم سمجھتا ہے۔
اس کے برعکس امریکہ کے پاس واضح مقاصد نہیں ہیں کہ نہ تو نظام کی تبدیلی کا قطعی فیصلہ، نہ ہی ایران کو افزودگی روکنے پر مجبور کرنے کی صلاحیت، نہ میزائل پروگرام یا علاقائی افواج کو چھوڑنے پر مجبور کرنے کی طاقت۔ تجزیہ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ تہران کے لیے میزائل، علاقائی اتحادی افواج اور یہاں تک کہ آبنائے ہرمز، ایک واحد دفاعی نظام کے اجزاء ہیں۔
آخر میں تجزیہ کار کا خیال ہے کہ ٹرمپ براہ راست جنگ کے بجائے علاقائی اتحادوں کو مضبوط بنا کر، لبنان اور شام کی حمایت اور معاشی و سیکیورٹی منصوبوں کے ذریعے ایران کو بتدریج محدود اور محاصرے میں لے سکتے ہیں۔
صیہونی میڈیا
ایران کے خلاف جنگ کے اثرات نے صیہونی حکومت کی معیشت کو بھی چیلنجوں سے دوچار کر دیا ہے اور مقبوضہ علاقوں میں اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
صہیونی اخبار گلوبز نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ اسرائیل کے کنزیومر پرائس انڈیکس میں اپریل 2026 میں گزشتہ ماہ کے مقابلے میں 1.2 فیصد اضافہ ہوا؛ یہ ایک ایسا اضافہ ہے جس کا بڑا سبب جنگ کے نتائج کو قرار دیا گیا ہے۔
گلوبز نے لکھا کہ اسرائیل کے مرکزی بیورو آف سٹیٹسٹکس کے اعداد و شمار کے مطابق، قیمتوں میں سب سے زیادہ اضافہ تازہ پھلوں میں 7.8 فیصد، ٹرانسپورٹ میں 4.9 فیصد، ثقافت اور تفریح میں 3.4 فیصد اور کپڑوں و جوتوں میں 2.4 فیصد رہا۔
ایک صہیونی میڈیا نے لبنان پر صیہونی حکومت کے روزانہ کے حملوں کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ لبنانی عوام جنگ بندی کے بارے میں امریکی سفارتی بیانات پر یقین نہیں رکھتے۔
صہیونی اخبار ہارٹیز نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی میں توسیع کے حوالے سے واشنگٹن میں ظاہر کی گئی خوش فہمی کے برعکس، بہت سے لبنانیوں کو اس جنگ بندی کے پائیدار ہونے پر زیادہ یقین نہیں ہے۔
اس صہیونی میڈیا نے لکھا کہ جنگ بندی میں 45 دن کی توسیع کا لبنان میں بڑے پیمانے پر بے حسی اور شک کے ساتھ استقبال کیا گیا ہے، کیونکہ جنوب کے باشندے اب بھی ہر روز اپنے علاقوں کے اوپر صیہونی لڑاکا طیاروں اور ڈرونز کی آوازیں سنتے ہیں۔
ہارٹیز نے لکھا کہ جبکہ امریکی حکام جنگ بندی کو سکون کی بحالی اور واشنگٹن کے ثالثی کے کردار کو مضبوط کرنے کے موقع کے طور پر دیکھ رہے ہیں، لبنانی حکومتی ذرائع اس بات پر زور دیتے ہیں کہ جب تک اسرائیل کے فضائی حملے جاری رہیں گے اور حزب اللہ کے اہلکاروں کو نشانہ بنایا جائے گا، حقیقی جنگ بندی عمل میں نہیں آئے گی۔ ان ذرائع کے مطابق لبنانی فوج بھی جھڑپوں کے مکمل خاتمے کی توقع نہیں رکھتی اور صورتحال اب بھی بہت نازک ہے۔
اس صہیونی میڈیا نے مزید کہا کہ جنوبی لبنان کے علاقوں میں لوگ امریکی سفارتی بیانات پر توجہ دینے کے بجائے آسمان پر حقیقت دیکھ رہے ہیں، جہاں صیہونی طیاروں کی مسلسل پروازوں اور تازہ حملوں کے امکان نے مستقل عدم تحفظ کا احساس پیدا کر رکھا ہے۔ ایسے ماحول میں بہت سے لبنانیوں کا خیال ہے کہ میدانی تبدیلی کے بغیر سیاسی معاہدوں کا ان کی روزمرہ کی زندگی پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
ایک صہیونی میڈیا نے برطانوی عوام اور رائے عامہ میں فلسطین کے حامیوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور اس ملک کے سیاسی میدان میں ان کی طاقت پر تشویش کا اظہار کیا، صہیونی ویب سائٹ وائی نیٹ نیوز نے لکھا کہ بلدیاتی انتخابات میں لیبر پارٹی کی بھاری شکست اور وزیر اعظم کی مقبولیت میں شدید کمی کے بعد برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کی حکومت میں سیاسی بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔
حالیہ دنوں میں لیبر پارٹی کے درجنوں ارکان پارلیمنٹ نے اسٹارمر سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے اور کچھ میڈیا ہاؤسز کا تو یہ بھی دعویٰ ہے کہ وہ نجی محفلوں میں استعفیٰ کے امکان پر غور کر رہے ہیں، اگرچہ انہوں نے ابھی تک باضابطہ طور پر اسے قبول نہیں کیا ہے۔
اس صہیونی میڈیا نے برطانیہ میں سیاسی تبدیلیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا کہ اگرچہ اسٹارمر کو گزشتہ مہینوں میں اسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت پر پابندیوں اور فلسطین کی ریاست کو تسلیم کرنے کی وجہ سے تل ابیب کی تنقید کا سامنا کرنا پڑا، لیکن وہ اب بھی لیبر پارٹی کے بائیں بازو کے حصے کے مقابلے میں زیادہ متوازن موقف رکھتے ہیں۔
اسی وجہ سے کچھ صیہونی حلقے پریشان ہیں کہ ان کا ممکنہ جانشین اسرائیل کے خلاف زیادہ سخت رویہ اختیار کر سکتا ہے؛ خاص طور پر ان حالات میں جب برطانیہ میں عوامی رائے عامہ اور فلسطین نواز تحریکوں کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔


مشہور خبریں۔
جنین آپریشن میں اسرائیلی فوج کی بے بسی
?️ 21 جون 2023سچ خبریں:صیہونی حکومت کی فوج کے خلاف جنین کے علاقے میں فلسطینی
جون
آپ ولی عہد سے ملنے آرہے ہیں!؛ بائیڈن کے ریمارکس پر عربی ردعمل
?️ 20 جون 2022سچ خبریں:امریکی صدر کے حالیہ ریمارکس جس میں انہوں نے کہا کہ
جون
ایران کے نو منتخب صدر نے فلسطین کی حمایت کے بارے میں بڑا بیان جاری کردیا
?️ 15 جولائی 2021تہران (سچ خبریں) ایران کے نو منتخب صدر نے حماس کے اہم
جولائی
اسٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر اختلافات کا حل نکالنے کی کوشش کر رہا ہوں، صدر مملکت
?️ 13 نومبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ
نومبر
امریکہ اور اسرائیل دنیا کے 10 بڑے ہتھیار برآمد کنندگان کی فہرست میں شامل
?️ 5 اپریل 2022سچ خبریں:اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کا کہنا ہے کہ
اپریل
ڈالر کی پاکستان منتقلی کیلئے چینلز کی عدم موجودگی سے روپے پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ
?️ 26 جنوری 2025 اسلام آباد: (سچ خبریں) کرنسی مارکیٹ کے ماہرین نے متنبہ کیا
جنوری
وزیر داخلہ کی سعودی ہم منصب سے ملاقات، سیکیورٹی تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق
?️ 17 دسمبر 2024 اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سعودی
دسمبر
اسرائیلی جہازوں کے خلاف یمنی فوج کی کارروائیاں
?️ 6 دسمبر 2023سچ خبریں:انصار اللہ تحریک کے سیاسی دفتر کے رکن محمد البخیتی نے
دسمبر