?️
سچ خبریں:پاکستانی فوجی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ غزہ امن کمیٹی میں شمولیت کا مطلب فلسطینی مزاحمت کے خلاف کارروائی نہیں، اور پاکستان حماس کو غیر مسلح کرنے یا کسی بھی مسلمان قوت کے خلاف کردار ادا نہیں کرے گا۔
پاکستانی عسکری ذرائع نے واضح کیا ہے کہ غزہ امن کمیٹی میں پاکستان کی شمولیت کا فیصلہ کسی صورت فلسطینی مزاحمت کاروں کے ساتھ محاذ آرائی کے مترادف نہیں ہے، اور پاکستانی افواج حماس کو غیر مسلح کرنے کے کسی بھی عمل میں شامل نہیں ہوں گی۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان: غزہ میں مشن کا مقصد حماس کو غیر مسلح کرنا نہیں ہونا چاہیے
پاکستانی میڈیا نے باخبر عسکری ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ پاکستان نے آٹھ دیگر عرب و اسلامی ممالک کے ساتھ مشاورت کے بعد غزہ امن کمیٹی میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ ان ذرائع کے مطابق، اس فیصلے کا مقصد فلسطینی عوام کے خلاف جاری مظالم کے خاتمے کے لیے سفارتی سطح پر کردار ادا کرنا ہے۔
عسکری ذرائع نے کہا کہ صرف امریکہ ہی اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کے خلاف جاری نسل کشی کو روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اسی لیے پاکستان نے دیگر شریک ممالک کے ساتھ مل کر امن کمیٹی میں شمولیت اختیار کی، تاکہ اس پلیٹ فارم کے ذریعے دباؤ ڈالا جا سکے۔
ان ذرائع نے دوٹوک انداز میں کہا کہ پاکستانی افواج کو کبھی بھی حماس کو غیر مسلح کرنے، فلسطینی عوام کے خلاف یا کسی بھی مسلمان ملک یا تنظیم کے خلاف استعمال نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے زور دیا کہ حماس کو غیر مسلح کرنا پاکستان کی سرخ لکیر ہے، اور پاکستانی افواج نہ حماس کے خلاف کسی کارروائی میں شریک ہوں گی اور نہ ہی حزب اللہ کے خلاف کسی قسم کے آپریشن میں حصہ لیں گی۔
رپورٹ کے مطابق، غزہ امن کمیٹی کے منشور پر دستخط کی تقریب گزشتہ روز سوئٹزرلینڈ کے شہر داووس میں منعقد ہوئی، جس میں امریکی صدر اور رکن ممالک کے اعلیٰ سطحی نمائندوں نے شرکت کی۔
اس موقع پر پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مل کر منشور پر دستخط کیے، جبکہ پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف اور دفاعی افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی اس تقریب میں موجود تھے۔
مزید پڑھیں:حماس کو غیر مسلح کرنے کے لیے دو ماہ کی مہلت مقرر:صہیونی میڈیا کا دعویٰ
دوسری جانب، پاکستان کی مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور قومی اسمبلی و سینیٹ کے ارکان نے غزہ امن کمیٹی میں پاکستان کی شمولیت کی مخالفت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت اس فیصلے پر پارلیمان کو جواب دہ ہو۔


مشہور خبریں۔
میں نے جنگ بندی کی تصدیق کے لیے صنعاء کا سفر کیا: ریاض کے ایلچی
?️ 11 اپریل 2023سچ خبریں:یمن میں سعودی سفیر محمد الجابرنے عمانی وفد کے ساتھ یمن
اپریل
صیہونی وزارت خزانہ کا جنگی ذخائر کے لیے اضافی فنڈز دینے سے انکار
?️ 29 جون 2025 سچ خبریں:صیہونی وزارت خزانہ نے 60 ارب شیکل اضافی بجٹ کے
جون
شام کی موجودہ پیش رفت تل ابیب کے حق میں ؛ کیسے؟
?️ 30 نومبر 2024سچ خبریں: صیہونی آرمی ریڈیو کے عسکری تجزیہ کار نے اعلان کیا
نومبر
عراق کے تمام سرکاری دفاتر اور اداروں کو بند کرنے کا حکم ؛ وجہ؟
?️ 12 نومبر 2025سچ خبریں: عراق کے دفترِ اطلاعاتِ وزیراعظم نے اعلان کیا ہے کہ وزیراعظم
نومبر
نابلس کا محاصرہ ایک جرم ہے:حماس
?️ 25 اکتوبر 2022سچ خبریں:فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے مغربی کنارے کے محصور
اکتوبر
ٹرمپ کے دوسرے دور کے پہلے 100 دن؛ داخلی کشمکش اور عالمی محاذ آرائی
?️ 29 اپریل 2025 سچ خبریں:ٹرمپ کے دوسرے دور صدارت کے ابتدائی 100 دنوں میں
اپریل
صیہونی حکومت کو 1948 کے علاقوں میں مظاہروں کے جوش و خروش پر گہری تشویش
?️ 23 اکتوبر 2021سچ خبریں: 1948 کے شہروں میں یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان جھڑپوں
اکتوبر
ہم اسلحے کے ریاستی کنٹرول کے حامی ہیں مگر غیر مسلح کرنے کے مخالف ہیں: لبنانی ایم پی
?️ 17 اگست 2025ہم اسلحے کے ریاستی کنٹرول کے حامی ہیں مگر غیر مسلح کرنے
اگست