2015 میں مسجد الحرام میں کرین حادثہ، مکہ کی کرمنل کورٹ نے بن لادن گروپ سمیت متعدد افراد کو بری کردیا

2015 میں مسجد الحرام میں کرین حادثہ، مکہ کی کرمنل کورٹ نے بن لادن گروپ سمیت متعدد افراد کو بری کردیا

?️

مکہ مکرمہ (سچ خبریں)  2015 میں مسجد الحرام میں کرین حادثہ پیش آیا تھا جس میں غیر ملکیوں سمیت کم از کم 109 عازمین حج ہلاک اور 238 زخمی ہوئے تھے، جن میں 47 پاکستانی بھی شامل تھے لیکن اب مکہ کی کرمنل کورٹ نے بن لادن گروپ سمیت متعدد افراد کو بری کردیا ہے جو اس حادثے کے اہم ذمہ دار تھے۔

غیر ملکی میڈیا گلف نیوز کی رپورٹ کے مطابق عدالت نے کہا کہ مدعا علیہ مجرمانہ طور پر اس واقعے کے ذمہ دار نہیں ہیں جس میں 11 ستمبر 2015 کو گرینڈ مسجد توسیعی منصوبے میں شامل ایک کرین گرنے سے 108 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے اور 238 زخمی ہوئے تھے۔

اپنے گزشتہ فیصلے میں عدالت نے کہا تھا کہ یہ تباہی انسانی غلطی کے بجائے گرچ چمک کے ساتھ تیز بارش کی وجہ سے ہوئی تھی۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ کرین سیدھی، درست اور محفوظ پوزیشن میں تھی، ملزمان نے کوئی غلطی نہیں کی تھی اور تمام ضروری حفاظتی اقدامات کیے تھے۔

واضح رہے کہ اٹارنی جنرل نے پہلے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے اپیل دائر کی تھی، جس پر اپیل کورٹ نے دسمبر 2017 میں فوجداری عدالت کے سابقہ فیصلے کو برقرار رکھا تھا۔

اپیل کورٹ نے ریفرنس دیا کہ کرین ایک محفوظ پوزیشن میں رکھی گئی تھی تاہم شدید طوفان اور پرتشدد ہواؤں کی وجہ سے گر گئی، تاہم اپیل کورٹ نے کرمنل کورٹ سے کہا کہ وہ اس کیس کا دوبارہ جائزہ لے، عدالت نے کرین حادثے کے کیس کے تمام پہلوؤں کا دوبارہ جائزہ لینے کے بعد نیا فیصلہ جاری کردیا۔

عدالت نے نشاندہی کی کہ جنرل اتھارٹی آف میٹرولوجی اینڈ انوائرمنٹل پروٹیکشن نے حادثے کے روز اور اس سے ایک روز قبل موسمی حالات پر انتباہ جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ بحیرہ احمر میں ہوا کی رفتار ایک سے 38 کلومیٹر فی گھنٹہ کے درمیان ہے تاہم اس میں سمندری طوفان کے امکان کے ساتھ موسمی حالات کے بارے میں انتباہ شامل نہیں تھا۔

عدالت نے مشاہدہ کیا کہ مقدمے میں موسمیات اور ماحولیاتی تحفظ کے جنرل اتھارٹی کے انتباہ کے بارے میں کوئی ذکر نہیں ہے جس کے باعث یہ تباہی ہوئی۔

عدالت نے یہ بھی اشارہ دیا کہ اس دن مکہ مکرمہ میں جو کچھ ہوا وہ کسی آسمانی واقعہ سے منسلک ہو سکتا ہے جس کی پیش گوئی کرنا مشکل تھا جس کی وجہ سے سانحہ کے مدعا علیہان کو جوابدہ نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔

اپیل کورٹ نے اپنے پہلے فیصلے میں حرم کے توسیعی منصوبے کے حفاظتی ڈویژن کے اقدامات کو واضح، متعین کرنے اور جاننے کی ضرورت پر زور دیا تھا کیونکہ اس منصوبے پر عمل کرنے والی کمپنی کے پاس موسم کے اتار چڑھاؤ کی نگرانی کے لیے ایک مربوط محکمہ ہے جس کا مطلب ہے کہ یہ موسمی حالات کا پتا لگانے اور اس کی پیشن گوئی کرنے کے لیے مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اسے موسمیاتی رپورٹس کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

اپیل کورٹ کے ریمارکس میں اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ ملزمان میں سے کسی نے بھی اس بات کی نشاندہی نہیں کی کہ اس پروجیکٹ سے متعلق ایک خاص موسمیاتی یونٹ ہے۔

عدالت نے محکمہ تحفظ سے وابستہ محکمہ ماحولیات کی جانب سے ڈیوٹی میں کوتاہی اور موسمی حالات کے بارے میں رپورٹ جمع کرنے اور روزانہ کی رپورٹوں کی تیاری میں اس کے کردار کی بھی نشاندہی کی، عدالت نے ہدایت دی کہ واقعے کے اس پہلو کی جانچ کرنے کی ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ ستمبر 2015 میں مسجد الحرام میں تعمیراتی کام کے دوران تیز ہواؤں کے باعث کرین گرنے کے نتیجے میں غیر ملکیوں سمیت کم از کم 109 عازمین حج جاں بحق اور 238 زخمی ہوئے تھے، جس میں 47 پاکستانی بھی شامل تھے۔

اس واقعے میں 13 افراد کو ملزم ٹھہرایا گیا تھا، جن پر غفلت کے باعث اموات واقع ہونے، عوامی ملکیت کو نقصان پہنچانے اور حفاظتی ہدایات کو نظر انداز کرنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے، مسجد الحرام میں حادثے کا سبب بننے والی کرین وہاں توسیع کے کام کے سلسلے میں نصب کی گئی تھی۔

دوسری جانب شاہ سلمان نے حادثے کے بعد توسیعی منصوبے پر کام کرنے والے تعمیراتی کمپنی سعودی بن لادن گروپ پر پابندی عائد کردی تھی، بعد ازاں اکتوبر 2017 میں سعودی عدالت نے مسجد الحرام میں ہونے والے کرین حادثے میں غفلت برتنے پر ملزم ٹھہرائے جانے والے 13 افراد کو بری کردیا تھا، دوسری جانب اٹارنی جنرل نے فیصلے پر اعتراض لگاتے ہوئے اپیل دائر کی تھی جس پر عدالت نے فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔

مشہور خبریں۔

خیبر پختونخوا کے 11 اضلاع میں لگ سکتا ہے مکمل لاک ڈاون

?️ 29 مارچ 2021خیبر پختونخواہ(سچ خبریں) خیبرپختونخوا (کے پی) حکومت نے صوبے میں گزشتہ روز

غزہ میں اسرائیل کی ایک اور ناکامی

?️ 15 مئی 2024سچ خبریں: گزشتہ دو ماہ کے دوران اور خاص طور پر حالیہ ہفتوں

چوہدری خالدکی مقبوضہ جموں وکشمیر میں بڑھتی ہوئی ریاستی دہشت گردی کی مذمت

?️ 1 دسمبر 2025لندن: (سچ خبریں) برطانیہ میں مقیم کشمیری کاروباری رہنما چوہدری محمد خالد

15 سالہ فلسطینی لڑکی کی شہادت طلبانہ کارروائی؛1 صیہونی زخمی

?️ 8 دسمبر 2021سچ خبریں:بین الاقوامی میڈیا نے بتایا کہ یروشلم میں 15 سالہ فلسطینی

امریکہ، آسٹریلیا اور انگلینڈ کا چین مخالف منصوبہ

?️ 16 مارچ 2023سچ خبریں:امریکہ، آسٹریلیا اور انگلینڈ کے سربراہان نے بحرالکاہل میں چین کی

آئی فونز 16 کی قیمتیں جان کر دنگ رہ جائیں گے

?️ 10 ستمبر 2024سچ خبریں: اسمارٹ فون بنانے والی امریکی کمپنی ایپل کی جانب سے

ہم ملک میں امن وامان چاہتے ہیں جنگ کا مشورہ نہیں دیں گے

?️ 23 مارچ 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) سربراہ جے یوآئی ف مولانا فضل الرحمان نے

ایرانی وزیر خارجہ کا اسحاق ڈار کو فون؛ کیا بات چیت ہوئی؟

?️ 4 اگست 2024سچ خبریں: وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ایرانی قائم مقام وزیر خارجہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے