خطے میں بعض ممالک کی تقسیم کی سازشیں رچائی جارہی ہیں؛قطری رہنما کا انتباہ 

خطے میں بعض ممالک کی تقسیم کی سازشیں کی جارہی ہیں؛قطری رہنما کا انتباہ 

?️

سچ خبریں:قطر  کے سابق وزیرِاعظم شیخ حمد بن جاسم نے خبردار کیا ہے کہ خطے میں بعض ممالک کی تقسیم کے منصوبے موجود ہیں، جن کے نتیجے میں خلیجی ممالک سب سے زیادہ متاثر ہوں گے، انہوں نے قانون کی بالادستی، اتحاد اور غیر ملکی مداخلت سے تحفظ پر زور دیا۔

قطر کے سابق وزیرِاعظم شیخ حمد بن جاسم بن جبر آل ثانی نے خبردار کیا ہے کہ بعض علاقائی ممالک کی تقسیم کے منصوبے زیرِ غور ہیں اور اگر یہ منصوبے عملی جامہ پہناتے ہیں تو سب سے پہلے خلیجی تعاون کونسل (GCC) کے رکن ممالک اس کے منفی اثرات کا شکار ہوں گے۔
خلیج آن لائن کی رپورٹ کے مطابق قطر کے سابق وزیرِاعظم شیخ حمد بن جاسم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹویٹر) پر اپنے بیان میں کہا کہ خطے میں جاری حالیہ تبدیلیاں انتہائی خطرناک نتائج پیدا کر سکتی ہیں۔
 انہوں نے بعض ممالک، خصوصاً شام، کی تقسیم اور ایسے حالات مسلط کیے جانے کی طرف اشارہ کیا جو آنے والے برسوں میں خطے کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہو سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ خلیجی ممالک کو چاہیے کہ وہ علاقائی صورت حال پر ایک متحد، واضح اور عملی مؤقف اختیار کریں، انہوں نے خلیجی ممالک کے اتحاد کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ اتحاد اسی صورت میں جاری رہ سکتا ہے جب اختلافات یا آئینی مسائل کا حل قانون کے مطابق ہو، نہ کہ طاقت کے بل بوتے پر، بن جاسم نے مزید کہا کہ قانون کی پاسداری ہی خلیجی ممالک کی خودمختاری اور غیر ملکی مداخلت سے تحفظ کی ضمانت ہے۔
سابق وزیرِاعظم قطر نے کہا کہ اگر خلوصِ نیت ہو تو خلیجی ممالک مضبوط اتحاد کے لیے درکار تمام عناصر رکھتے ہیں، انہوں نے امید ظاہر کی کہ اگرچہ موجودہ نسل یہ اتحاد نہ دیکھ سکے، لیکن خلیجی ریاستوں کے آئندہ نسلیں اس خواب کی تعبیر پائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ اصل طاقت اتحاد میں ہے، لیکن اس اتحاد کی بنیاد مضبوط اور پائیدار ہونی چاہیے جو فی الحال نظر نہیں آ رہی، اس حوالے سے انہوں نے کہا کہ کسی ایک ملک کو الزام دینا درست نہیں، بلکہ ذمہ داری سب پر عائد ہوتی ہے۔
جون کے وسط میں ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے حوالے سے بھی بن جاسم نے خبردار کیا تھا کہ اس عسکری تصادم کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے اور خلیجی ریاستوں کو اس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔
 اس موقع پر انہوں نے مشورہ دیا تھا کہ خطے کے ممالک کو امریکہ سے واضح طور پر جنگ بندی کے مطالبے کے ساتھ مذاکرات کے حل پر زور دینا چاہیے، تاکہ قریبی اور طویل المدت تباہ کن نتائج سے بچا جا سکے۔
انہوں نے کہا تھا کہ ایران کی تباہی خلیجی ممالک کے مفاد میں نہیں، کیونکہ اس صورت میں پورا خطہ بدامنی اور افراتفری کا شکار ہو جائے گا۔ خلیجی ممالک کے حق میں یہ نہیں کہ وہ اپنے سب سے بڑے ہمسائے، ایران، کی تباہی کے گواہ بنیں۔

مشہور خبریں۔

جبر اور عدم مساوات صہیونیوں کی معکوس ہجرت کو تیز کرنے کے اسباب

?️ 8 فروری 2022سچ خبریں: عبرانی زبان کے اخبار نے اسرائیل میں تنظیموں کے رہنماؤں

اسرائیل میں سیاسی اختلاف عروج پر

?️ 12 جون 2021سچ خبریں:اگر اسرائیل میں کچھ غیر متوقع نہیں ہوتا ہے تو ایتوار

صیہونی فوجیوں کے ہاتھوں حماس کے دو لیڈر گرفتار

?️ 24 مارچ 2021سچ خبریں:صہیونی عسکریت پسندوں نے آج صبح مغربی کنارے میں حماس کے

25% تارکین وطن امریکی شہریت کی منسوخی کے خواہاں

?️ 19 جون 2022سچ خبریں:   نئی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ بیرون ملک مقیم

ایران کے خلاف صیہونی پالیسی میں نمایاں تبدیلی  

?️ 20 اپریل 2025 سچ خبریں:صہیونی وزیر خارجہ گدعون ساعر نے حالیہ بیان میں ایران

آئی ایم ایف نے غریب کیلئے ٹارگٹڈ سبسڈیز پر پابندی عائد نہیں کی، نگران وزیراعظم

?️ 6 ستمبر 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے

مبینہ فضائی حملوں کے بعد پاک-افغان کشیدگی دوبارہ بڑھ گئی

?️ 26 نومبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) سرحدی صورتحال ایک بار پھر تناؤ کا شکار

ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو روکنے کے لیے امریکہ کا سعودی عرب سے رابطہ

?️ 19 فروری 2022سچ خبریں:امریکی صدر نے اس خوف سے کہ یوکرائن کا بحران تیل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے