?️
سچ خبریں:امریکہ اور صہیونی حکومت کی ایران کے خلاف جنگ کے بعد عالمی ذرائع ابلاغ میں مختلف تجزیے سامنے آئے ہیں۔ مغربی، روسی اور چینی ذرائع ابلاغ نے جنگ کے سیاسی، عسکری، اقتصادی اور سفارتی نتائج، ایران۔امریکہ مذاکرات اور شہید رہبر انقلاب کی تشییع جنازہی تقریبات پر اپنے اپنے زاویۂ نظر سے رپورٹیں شائع کی ہیں۔
امریکہ اور صہیونی حکومت کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی جارحیت کے آغاز کے بعد نہ صرف اس کارروائی کے اعلان کردہ مقاصد حاصل نہ ہو سکے بلکہ مغربی حکام اور امریکی ذرائع ابلاغ کے اعتراف کے مطابق حملہ آور فریق کو تزویراتی تعطل اور میدان جنگ و سیاست میں ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ جنگ، جو وسیع حملوں اور معصوم شہریوں خصوصاً طلبہ کے قتل سے شروع ہوئی، جلد ہی انسانی، سلامتی اور اقتصادی پہلوؤں میں پھیل گئی اور عالمی ذرائع ابلاغ میں مختلف انداز سے اس کا احاطہ کیا گیا۔
دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ نے اپنے اپنے زاویۂ نظر سے اس جنگ کی تصویر پیش کرنے کی کوشش کی ہے، جن کا جائزہ جنگ کی موجودہ صورت حال اور آئندہ امکانات کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔
مغربی ذرائع ابلاغ
اٹلانٹک کونسل نے سابق امریکی محکمہ دفاع کے عہدیدار ولیم ویکسلر کے تجزیے میں لکھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک غلط جنگ شروع کر کے اور ایک ناقص معاہدے پر دستخط کر کے امریکہ کو ایک خطرناک مستقبل کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔
تجزیے کے مطابق چودہ نکاتی مفاہمتی یادداشت نے ماضی کی غلطیوں کو دہراتے ہوئے آبنائے ہرمز پر ایران کے عملی کنٹرول کو تسلیم کر لیا، ایران کو تین سو ارب ڈالر کے تعمیر نو فنڈ کے ذریعے اپنے عسکری ذخائر بحال کرنے کا موقع دیا اور ایک ایسی شق شامل کی جس کے تحت ایران کو اپنے جوہری پروگرام کی موجودہ صورت برقرار رکھنے کی اجازت دی گئی، جس سے اس کے جوہری پروگرام کے جاری رہنے کی راہ کھل گئی۔
ولیم ویکسلر نے مستقبل کے چار ممکنہ منظرنامے بیان کیے۔
1۔ پہلا، معاہدے کا تباہ کن نفاذ ۔
2۔ دوسرا، مذاکرات کی ناکامی اور دوبارہ ایسی جنگ کا آغاز جو عالمی اقتصادی کساد بازاری کا سبب بن سکتی ہے۔
3۔ تیسرا، امریکہ کی طاقت میں تدریجی کمی اور مستقبل میں ایک نئی جنگ۔
4۔ جبکہ چوتھا اور بہتر منظرنامہ خطے میں استحکام کا قیام ہے۔
انہوں نے اس بحران سے بچنے کے لیے تین تجاویز پیش کیں۔
1۔ پہلی، مذاکراتی حکمت عملی کو تبدیل کرتے ہوئے جنگ سے گریز اور مذاکرات کو طول دینا تاکہ عالمی تیل کے ذخائر بحال ہو سکیں۔
2۔ دوسری، خطے میں مستقل بحری بیڑے کی تعیناتی، متاثرہ فوجی اڈوں کی بحالی اور آبنائے ہرمز میں بحری گشت کا آغاز۔
3۔ تیسری، آئندہ ممکنہ جنگ کی تیاری اور ایران کے عوام کی حمایت۔
ولیم ویکسلر نے خبردار کیا کہ اگر روک تھام کی حکمت عملی ناکام رہی تو خلیج فارس میں ایران کا اثر و رسوخ مزید بڑھے گا اور عرب ممالک بتدریج اس کی طاقت کے سامنے جھکنے پر مجبور ہو جائیں گے۔
گارڈین نے تہران سے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے شہید رہبر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی چھ روزہ تشییع جنازہ کی تقریبات میں پورے ایران سے لاکھوں افراد شریک ہو رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق تقریبات جمعہ کی صبح تہران میں پولیس کی چوکیوں اور عوامی مراکز کے قیام سے شروع ہوئیں اور انہیں صدی کا سب سے بڑا اجتماع اور انیس سو اناسی کے انقلاب کے بعد سب سے بڑا عوامی اجتماع قرار دیا گیا۔
گارڈین نے مزید لکھا کہ شہید رہبر کا جسد خاکی تہران کی مصلیٰ سے میدان آزادی تک لے جایا جائے گا اور تہران کے میئر کے مطابق پیر کے روز ہونے والی تشییع جنازہی ریلی میں دو کروڑ افراد کی شرکت متوقع ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ محرم کے مہینے کے ساتھ ہونے والی یہ تقریبات دنیا کو مزاحمت، سیاسی استقامت اور مذہبی پیغام دیں گی اور یہ ظاہر کریں گی کہ ایرانی قوم ظلم اور استکبار کے سامنے خاموش نہیں رہے گی۔
عراقی سیاست دانوں کی درخواست پر شہید رہبر کے جسد خاکی کو کربلا اور نجف بھی لے جایا جائے گا جبکہ جمعرات کے روز مشہد میں حرم امام رضا علیہ السلام میں سپرد خاک کیا جائے گا۔
گارڈین نے یہ بھی لکھا کہ نئے رہبر حجت الاسلام مجتبیٰ خامنہ ای کی ممکنہ عدم موجودگی کے باوجود ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ایرانی قوم اپنے امام کے خون کا بدلہ لیے بغیر نہیں رہے گی۔
رپورٹ میں تہران کی سخت حفاظتی صورت حال، سرکاری دفاتر کی بندش، فضائی حدود کی بندش اور شہری انتظامات کا بھی ذکر کیا گیا۔ تہران کے میئر علیرضا زاکانی نے اس اجتماع کو شہر کی تاریخ کا سب سے بڑا اجتماع قرار دیا۔
ایسوسی ایٹڈ پریس نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ اسلامی جمہوریہ ایران جنگ کے دوران شہید ہونے والے رہبر انقلاب آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی کئی روزہ تشییع جنازہ کی تقریبات کی تیاری کر رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق تہران بھر میں نصب بینروں کے ذریعے عوام سے نظام کی حمایت کی اپیل کی گئی ہے اور توقع ہے کہ لاکھوں افراد سڑکوں پر نکلیں گے، جس سے انیس سو اناسی میں بانی اسلامی جمہوریہ کی تشییع جنازہ کی یاد تازہ ہو جائے گی۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ عوامی اجتماع ایرانی حکومت کے لیے ایک مضبوط سیاسی پیغام ثابت ہو سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب تہران آبنائے ہرمز پر اپنے اثر و رسوخ کو امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں استعمال کر رہا ہے اور نئی اسرائیلی کارروائیوں کے خدشات بھی موجود ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ کئی ماہ بعد پہلی مرتبہ سپاہ پاسداران انقلاب کے ایک سینئر جنرل عوامی سطح پر نظر آئے، جبکہ اعلیٰ حکومتی شخصیات اور غیر ملکی وفود کی شرکت کو بھی اسلامی جمہوریہ کی طاقت کی علامت قرار دیا گیا۔
رضاکار محمد حسین رضائی کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا کہ ذلت قبول نہ کرنے کی پالیسی عوام کی شرکت کے ذریعے جاری رہے گی اور ملک کے فیصلے عوام ہی کریں گے۔
چینی اور روسی ذرائع ابلاغ
روسی اخبار ایزوستیا نے ایران اور امریکہ اب بھی حتمی امن معاہدے سے دور ہیں کے عنوان سے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ فوجی کشیدگی میں کمی اور بالواسطہ مذاکرات کے آغاز کے باوجود تہران اور واشنگٹن کے درمیان بنیادی اختلافات برقرار ہیں اور قلیل مدت میں جامع معاہدے کا امکان کم دکھائی دیتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق سب سے بڑا اختلاف یورینیم کی افزودگی کے مسئلے پر ہے۔ ایران اسے اپنا خودمختار اور ناقابل مذاکرات حق قرار دیتا ہے جبکہ امریکہ ایران کے جوہری پروگرام پر مزید سخت پابندیاں چاہتا ہے۔ اس کے علاوہ پابندیوں کے خاتمے، معاہدے پر عمل درآمد اور نگرانی کے طریقۂ کار پر بھی اختلافات موجود ہیں۔
ایزوستیا نے لکھا کہ اگرچہ دونوں ممالک فی الحال نئی جنگ سے بچنے میں دلچسپی رکھتے ہیں، لیکن اس کا مطلب پائیدار امن نہیں ہے۔ ماہرین کے مطابق موجودہ سمجھوتے وقتی نوعیت کے ہیں اور صرف بحران کو ٹالنے کے لیے کیے گئے ہیں۔
ان ابتدائی مفاہمتوں کو مستقل معاہدے میں تبدیل کرنے کے لیے مشکل مذاکرات اور باہمی رعایتیں ناگزیر ہوں گی، جبکہ دونوں ممالک کی داخلی سیاست اور علاقائی عوامل بھی اس عمل کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔
رپورٹ میں لبنان، خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کی صورت حال کو بھی مذاکرات پر اثر انداز ہونے والے اہم عوامل قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ ان علاقوں میں کسی بھی نئی کشیدگی سے مذاکرات تعطل یا ناکامی کا شکار ہو سکتے ہیں۔
روسی ماہرین کے مجموعی جائزے کے مطابق اگرچہ جنگ کا خطرہ پہلے کے مقابلے میں کم ہوا ہے، لیکن ایران اور امریکہ کے درمیان جامع اور پائیدار معاہدہ ابھی بھی کافی دور ہے اور مذاکرات ایک طویل، پیچیدہ اور تھکا دینے والے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔
چینی خبر رساں ادارے شنہوا نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے شہید رہبر کی تشییع جنازہی تقریبات جمعہ کے روز تہران کی مصلیٰ میں عوام کی بڑی تعداد اور اعلیٰ سطحی غیر ملکی وفود کی موجودگی میں شروع ہوئیں۔
رپورٹ کے مطابق صبح سویرے ہی ہزاروں افراد تقریب گاہ پہنچ گئے تھے اور شہید رہبر کو الوداع کہنے کے لیے جمع ہوئے۔
شنہوا نے مزید بتایا کہ دنیا کے ایک سو سے زائد ممالک کے اعلیٰ سطحی وفود نے اس تقریب میں شرکت کی، جن میں مختلف ممالک کے صدور، پارلیمان کے سربراہان، وزرائے خارجہ، خصوصی نمائندے اور ممتاز سیاسی شخصیات شامل تھیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ تقریب ایک تاریخی اور غیر معمولی اہمیت کا حامل عالمی واقعہ ہے، جبکہ غیر ملکی وفود کی وسیع شرکت شہید رہبر انقلاب کی بین الاقوامی حیثیت اور اس تقریب کی عالمی اہمیت کی عکاس ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ تقریبات کے بہتر انتظام کے لیے تہران کے بعض عوامی مقامات کو عارضی طور پر بند رکھا گیا اور لاکھوں شرکاء اور غیر ملکی مہمانوں کی آمدورفت کو منظم بنانے کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے۔


مشہور خبریں۔
کردستان کے تیل برآمدات رکنے سے عراق کو 25 ارب ڈالر کا نقصان
?️ 25 ستمبر 2025سچ خبریں:عراقی وزارتِ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ کردستان ریجن سے
ستمبر
افغان صدر کی عمان میں موجودگی اور امریکہ جانے کی تیاریاں
?️ 16 اگست 2021سچ خبریں:مفرور افغان صدر کا صحیح ٹھکانہ معلوم نہیں ہے ، تاہم
اگست
اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری نے شام کی خودمختاری کی خلاف ورزی کرنے والی قرارداد میں توسیع کا مطالبہ کیا
?️ 21 جون 2022سچ خبریں: شام کی سرحد پر بین الاقوامی سرحدی مشن کی دمشق،
جون
ترک وزیر خارجہ کے دورہ تہران کے مقاصد
?️ 30 نومبر 2025سچ خبریں: ہمارے ملک کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ترک وزیر
نومبر
مغربی کنارے میں صہیونیوں کے ڈرون حملے میں 3 فلسطینی شہید
?️ 22 جون 2023سچ خبریں:گزشتہ 20 سالوں میں یہ پہلا موقع ہے کہ صیہونی حکومت
جون
مورداوی: ٹرمپ کا منصوبہ تل ابیب کے عہدوں کے قریب ہے
?️ 30 ستمبر 2025سچ خبریں: حماس کے ایک رہنما نے ٹرمپ کے منصوبے کا حوالہ
ستمبر
وزیر خارجہ اسحاق ڈار امریکہ کے دورے پر روانہ
?️ 19 جولائی 2025اسلام آباد (سچ خبریں) نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار امریکہ
جولائی
کیا سید حسن نصراللہ کی شہادت سے مزاحمتی تحریک شکست کھا جائے گی؟حماس کا بیان
?️ 29 ستمبر 2024سچ خبریں: حماس کے سیاسی دفتر کے نائب سربراہ نے سید حسن
ستمبر