اسرائیلی فوجی امور کے ماہر نے صہیونی حکومت کی شکست کے بارے میں سنسنی خیز انکشاف کردیا

اسرائیلی فوجی امور کے ماہر نے صہیونی حکومت کی شکست کے بارے میں سنسنی خیز انکشاف کردیا

?️

تل ابیب (سچ خبریں)  اسرائیلی فوجی امور کے ماہر نے فلسطینیوں کے مقابلے میں صہیونی حکومت کی شکست کے بارے میں سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کی مختلف حکومتوں نے اپنے سکیورٹی اور فوجی فیصلوں میں بہت بڑی بڑی غلطیاں کی ہیں جن کے باعث اسرائیلی شہریوں کو بھاری جانی اور مالی نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔

تفصیلات کے مطابق معروف صہیونی اخبار یدیعوت آحارنوٹ میں فوجی امور کے ماہر رون بن یشای نے ایک مقالہ شائع کیا ہے جس میں فلسطینیوں کے مقابلے میں تل ابیب کی سکیورٹی حکمت عملی کو مکمل طور پر شکست خوردہ قرار دیا گیا ہے۔

اس مقالے میں تاکید کی گئی ہے کہ صہیونی فوج کے غلط فیصلوں نے ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے، رون بن یشای نے اپنے مقالے میں مزید لکھا کہ فلسطینیوں کے مقابلے میں ہماری حکمت عملی مختلف سطح پر مکمل ناکامی کا شکار ہو چکی ہے جن میں سے اہم ترین سطح فیصلہ سازی کی سطح ہے، اہم فیصلوں کے وقت "گریٹر اسرائیل” نامی آرزو اور دائیں بازو کے شدت پسند سیاسی رہنماوں کی آراء کو قومی سلامتی پر ترجیح دی جاتی ہے جس کے باعث اسٹریٹجک امور پس پشت ڈال دیے جاتے ہیں۔

یہ فوجی ماہر اپنے مقالے میں لکھتا ہے کہ اسرائیل کی مختلف حکومتوں نے اپنے سکیورٹی اور فوجی فیصلوں میں بہت بڑی بڑی غلطیاں کی ہیں جن کے باعث اسرائیلی شہریوں کو بھاری جانی اور مالی نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل فلسطینیوں میں پائے جانے والے مذہبی رجحانات کو درست انداز میں درک کرنے سے قاصر ہے جس کے باعث اسرائیلی حکام مشرقی بیت المقدس میں بھی نظم و نسق برقرار نہیں رکھ پا رہے۔

رون بن یشای نے لکھا کہ ہماری حکومتیں شدت پسند یہودیوں کو مسجد اقصیٰ میں بدامنی اور بدنظمی پھیلانے سے بھی اسی وجہ سے نہیں روک پائیں، اسی وجہ سے ہمیں بہت زیادہ نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔

انہوں نے اس حقیقت کا بھی اعتراف کیا کہ 2014ء کے بعد غزہ میں اسلامی مزاحمت کی تنظیم حماس اسلحہ کے ذخائر کے لحاظ سے بہت زیادہ ترقی کر کے طاقتور ہو چکی ہے۔

رون بن یشای نے اپنے مقالے میں لکھا کہ اسرائیلی حکام نے فلسطینی اتھارٹی اور محمود عباس کے ساتھ بہت ہی تحقیر آمیز اور بے ادبانہ رویہ اختیار کیا اگرچہ محمود عباس مقبوضہ فلسطین میں مسلح کاروائیوں کی مخالفت کرتے تھے اور ہماری سکیورٹی فورسز کے ساتھ تعاون بھی کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ محمود عباس ہمارے ساتھ پرامن طریقے سے زندگی بسر کرنے کیلئے تیار ہیں لیکن حماس ہمارے وجود کو تسلیم نہیں کرتی اور یہودی ریاست کو مسترد کرتی ہے۔

یدیعوت آحارنوٹ میں لکھتے ہوئے اس فوجی تجزیہ کار کا کہنا تھا کہ صہیونی سیاست دانوں اور موساد اور دیگر حساس اداروں کے درمیان بھی شدید اختلافات پائے جاتے ہیں، حالیہ جنگ میں ہمارے سیاست دان فتح کے دعوے کر رہے ہیں جبکہ سکیورٹی حکام انہیں تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

مشہور خبریں۔

بیروت میں امریکی ارباب؛ حزب اللہ کا خلع سلاح کے خلاف بڑا انکار

?️ 31 اگست 2025سچ خبریں: لبنان میں سیاسی بحران طائف معاہدے کے بعد سے اپنی

جنوبی وزیرستان: کیڈٹ کالج وانا پر دہشتگردوں کا حملہ ناکام، سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں 2 ہلاک

?️ 11 نومبر 2025جنوبی وزیرستان: (سچ خبریں) جنوبی وزیرستان میں کیڈٹ کالج وانا پر دہشتگردوں

صیہونیوں کا غزہ پر مکمل قبضے کا منصوبہ

?️ 5 مئی 2025 سچ خبریں:صیہونی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ کابینہ نے متفقہ

روسی معیشت پر مغربی حملہ ناکام :پیوٹن

?️ 17 مارچ 2022سچ خبریں:روسی صدر نے کہا کہ مغربی ممالک کسی بھی صورت میں

حشد الشعبی و مرجعیت کے ہوتے ہوئے یہ تقسیم ممکن نہیں: عراقی نمائندہ

?️ 9 مئی 2022سچ خبریں: عراقی پارلیمنٹ میں قانون کی حکمرانی کے اتحاد کے رکن

کیا شام میں بھی خفیہ جیلیں ہیں؟

?️ 10 دسمبر 2024سچ خبریں:شام کی ایک تنظیم نے صیدنایا جیل میں زیرزمین یا خفیہ

جولانی حکومت کے وزیر خارجہ کی پیرس میں اسرائیلی اہلکار سے بے مثال ملاقات

?️ 20 اگست 2025سچ خبریں: جب کہ اسرائیل شام میں اپنے فضائی حملے جاری رکھے

شام میں جولانی حکومت اور امریکی قبضہ کاروں کے درمیان کشیدگی، وجہ؟

?️ 8 جنوری 2025سچ خبریں:مطلع ذرائع نے بتایا کہ امریکی فوجیوں نے جولانی کے عناصر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے