ایران کی شرائط میز پر؛ امریکہ کو طاقت کے نئے توازن کا سامنا

مذاکرات کے لیے اپنی شرائط

?️

سچ خبریں:ایران نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے اپنی شرائط واضح کر دی ہیں۔ ایرانی حکام نے فوجی تیاریوں، میزائل صلاحیتوں اور ممکنہ امریکی حملے کے جواب سے متعلق سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔

ایران نے امریکہ کے ساتھ کسی بھی ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے اپنی شرائط واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کو موجودہ صورتحال میں ایران کے حقوق اور شرائط کو تسلیم کرنا ہوگا۔

ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری میجر جنرل محسن رضائی نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا ہے کہ تہران نے کسی بھی مذاکرات کے لیے اپنی 7 حتمی شرائط امریکی فریق کو پہنچا دی ہیں۔ ان کے مطابق ایران کا پیغام واضح ہے اور امریکہ اگر مزید کسی بحران میں الجھنے سے بچنا چاہتا ہے تو اسے ایران کی بدلتی ہوئی طاقت کی حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا۔

محسن رضائی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایرانی حکام کے مطابق امریکی فوجی کارروائی کے نئے امکان سے متعلق مختلف شواہد موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی مسلح افواج نے ممکنہ حملے کے تمام منظرناموں کا جائزہ لے لیا ہے اور دفاعی و جارحانہ دونوں محاذوں پر اعلیٰ ترین سطح کی تیاری برقرار ہے۔

انہوں نے کہا، اگر جنگ ہوئی تو پہل ہمارے ہاتھ میں ہوگی اور ہم دشمن کو مفلوج کر دیں گے۔

ایرانی عہدیدار کے مطابق اگر دوبارہ جنگ شروع ہوئی تو بحر ہند کے کسی بھی حصے میں موجود امریکی بحری جہاز ایرانی مسلح افواج کے نشانے پر ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اپنی آپریشنل صلاحیتوں کو اس سطح تک پہنچا چکا ہے۔

محسن رضائی نے مقامی ساختہ ہائپرسونک میزائلوں کی رفتار 6 میک سے بڑھا کر 10 میک تک پہنچانے، جدید الیکٹرانک وارفیئر سسٹمز کی تیاری اور فضائی دفاعی صلاحیتوں میں نمایاں بہتری کا ذکر کیا۔ ان کے مطابق ایرانی مسلح افواج کے پاس مزید ایسی صلاحیتیں بھی موجود ہیں جنہیں مناسب وقت پر منظر عام پر لایا جائے گا۔

پاسداران انقلاب کے ترجمان سردار محبی نے بھی العالم ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ ایران پر کسی بھی حملے کی صورت میں جنگ کے جغرافیے کو تبدیل کیا جائے گا۔ ان کے مطابق سپاہ پاسداران طویل المدت جنگ کے لیے تیار ہے اور ممکنہ آئندہ جنگ میں ایسے ہتھیار سامنے لائے جائیں گے جو دنیا کے لیے حیران کن ہوں گے۔

انہوں نے ایک نئے ہتھیار کے ذریعے امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کو نشانہ بنانے سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ نئے ہتھیاروں کی تفصیلات ظاہر کرنا ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنی فوجی صلاحیتوں میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے اور دفاع اور دشمن کے حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے نئے ہتھیار تیار اور آزما رہا ہے۔

محبی نے کہا کہ امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کے خلاف کیا جانے والا تجربہ ایرانی مسلح افواج کے تجربات میں شامل تھا اور اس کا نتیجہ کامیاب رہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر نیا حملہ ہوا تو اس ہتھیار کے علاوہ دیگر ہتھیار بھی میدان میں لائے جائیں گے۔

پاسداران انقلاب کے ترجمان نے ایک امریکی زیرِ آب جنگی نظام کو ایرانی بحری فورسز کی جانب سے پکڑے جانے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس میں موجود جدید ٹیکنالوجی کا تجزیہ اور ریورس انجینئرنگ شروع کی جائے گی۔

ایرانی حکام کے ان بیانات کے مطابق ملک کی فوجی حکمت عملی میں نمایاں تبدیلی آئی ہے اور توجہ صرف دفاع تک محدود نہیں رہی۔ ایرانی مؤقف کے مطابق ملک کی انٹیلی جنس نگرانی اور فوجی صلاحیتیں اب دشمن کے دور دراز ٹھکانوں اور سمندری علاقوں تک پھیل چکی ہیں۔

ایران کے مطابق جدید اینٹی شپ کروز اور بیلسٹک میزائل، ریڈار سے بچ نکلنے کی صلاحیت اور زیادہ رفتار رکھنے والے ہتھیار خلیج فارس اور اس سے آگے طاقت کے توازن کو تبدیل کر رہے ہیں۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے پاس جدید الیکٹرانک وارفیئر اور کثیر سطحی فضائی دفاعی نظام بھی موجود ہے۔

ایرانی مؤقف کے مطابق ملک جنگ کا خواہاں نہیں، تاہم کسی بھی حملے کی صورت میں اس کا جواب دیا جائے گا اور جنگ کا دائرہ وسیع ہو سکتا ہے۔

ایرانی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف اور مرکزی قرارگاہ خاتم الانبیاء نے ہفتہ دفاع مقدس کے موقع پر جاری بیان میں بھی کہا کہ 8 سالہ جنگ کے تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایران کو ایک مضبوط ملک بنانے کی سمت پیش رفت ہوئی ہے۔

بیان میں امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ حالیہ جنگوں کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا گیا کہ ایرانی مسلح افواج نے سکیورٹی کے توازن کو ایران اور مسلم دنیا کے حق میں تبدیل کیا ہے۔ بیان میں آبنائے ہرمز کے انتظام، امریکی فوجی طاقت کے اثر و رسوخ میں کمی اور اسرائیلی فوج کو پہنچنے والے نقصانات کو اس تبدیلی کی مثالیں قرار دیا گیا۔

ایرانی مسلح افواج نے کہا کہ وہ دشمن کے مقابلے میں پیچھے نہیں ہٹیں گی اور حملہ آوروں، بالخصوص امریکہ، اسرائیل اور ان کے اتحادیوں کو مزید شکستوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

دوسری جانب امریکی حکام نے ایران کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔ اقوام متحدہ میں امریکی نمائندے مائیک والٹز نے دعویٰ کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے ذریعے دنیا کو یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دیں گے اور واشنگٹن ایران پر شدید ترین دباؤ برقرار رکھے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حسنِ نیت کی صورت میں ایران کے لیے مذاکرات کی میز پر واپس آنے کا راستہ موجود ہے۔

ایرانی مؤقف میں امریکی رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ واشنگٹن ماضی میں مذاکرات کے دوران بھی فوجی کارروائی کر چکا ہے اور معاہدوں سے دستبرداری کی مثالیں بھی موجود ہیں۔

امریکی میڈیا میں بھی واشنگٹن کی فوجی صلاحیتوں اور ہتھیاروں کے ذخائر کے حوالے سے بحث جاری ہے۔ دی آتلانتک کی ایک حالیہ تجزیاتی رپورٹ کے مطابق گزشتہ 6 ماہ کے دوران امریکہ اپنی جدید فوجی صلاحیتوں کے باوجود ایران کو شکست دینے کے لیے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر سکا۔

رپورٹ کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ نے پینٹاگون کے بعض اہم اور جدید ہتھیاروں کے ذخائر میں نمایاں کمی پیدا کی ہے اور موجودہ پیداوار کی رفتار کے ساتھ ان ذخائر کو جنگ سے پہلے کی سطح تک واپس پہنچانے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔

دوسری جانب ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے بھی واشنگٹن کے لیے ایک نیا مسئلہ پیدا کر دیا ہے۔ آکسیوس کی رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی سے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران روسی آئل ریفائنریوں پر حملے روکنے پر زور دیا اور گفتگو میں ڈیزل کا لفظ متعدد مرتبہ استعمال کیا گیا۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ یوکرین کے حملوں نے عالمی سطح پر ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے میں کردار ادا کیا ہے، جبکہ ایران سے متعلق بحران اور آبنائے ہرمز کے ذریعے توانائی کی ترسیل میں ممکنہ رکاوٹ کو بھی قیمتوں میں اضافے کی ایک اہم وجہ قرار دیا گیا ہے۔

ایرانی مؤقف کے مطابق موجودہ صورتحال میں تہران خود کو طاقت کی پوزیشن میں سمجھتا ہے اور امریکہ کے ساتھ کسی بھی مذاکرات کے لیے اپنی شرائط پر قائم ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اگر واشنگٹن ان شرائط کو قبول نہیں کرتا تو اسے خطے میں اپنی پالیسیوں کے ممکنہ نتائج کا سامنا کرنا ہوگا۔

مشہور خبریں۔

اگلے 24 گھنٹوں میں وسیع میزائل حملوں کا خطرہ؛صیہونی میڈیا کا انتباہ

?️ 27 نومبر 2024سچ خبریں:ایک اسرائیلی چینل نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی ریاست اگلے

غزہ جنگ کے دوران صیہونیوں نے کتنے فلسطینیوں کو گرفتار کیا ہے؟

?️ 26 دسمبر 2023سچ خبریں: یورپی-میڈیٹیرینین ہیومن رائٹس واچ نے یہ اعلان کرتے ہوئے کہ

خطرے کی کوئی بات نہیں، کوئی گیم شروع نہیں ہو رہی: شیخ رشید

?️ 10 نومبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیر داخلہ نے سپریم کورٹ کے باہر

اٹلی اور ایرانی وزیر خارجہ درمیان ٹیلی فون پر بات چیت

?️ 18 جون 2026سچ خبریں:  سید عباس عراقچی، وزیر خارجہ جمہوری اسلامی ایران، اور انٹونیو

پاک چین عسکری قیادت کی ملاقات

?️ 12 جون 2022چین(سچ خبریں)چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی سربراہی میں

کوئٹہ کی مقامی عدالت نے عمران خان کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے

?️ 9 مارچ 2023کوئٹہ: (سچ خبریں) اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی کے الزام میں درج

ٹرمپ کی فلسطینی مہاجرین کے خلاف گھناؤنی سازش؛ نیتن یاہو کی خدمت یا مزاحمت کو کمزور کرنے کی کوشش؟

?️ 29 جنوری 2025سچ خبریں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فلسطینی مہاجرین کو مصر

کراچی سیکیورٹی آپریشن میں چینی انجینئرز پر حملے کا ماسٹر مائنڈ مارا گیا

?️ 28 جولائی 2025سچ خبریں: پاکستانی سیکیورٹی حکام نے اعلان کیا ہے کہ چینی انجینئرز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے