صیہونی فوج کا قابض سیاسی قیادت کو انتباہ

صیہونی فوج کا قابض سیاسی قیادت کو انتباہ

?️

سچ خبریں:صیہونی فوج کے کمانڈرز نے تل ابیب کی سیاسی قیادت کو خبردار کیا ہے کہ غزہ میں جاری فوجی کارروائیوں کا تسلسل نہ صرف ان کے لیے عسکری چیلنج ہے بلکہ حماس کی قید میں موجود صیہونی قیدیوں کی زندگیوں کو بھی شدید خطرے میں ڈال سکتا ہے۔

الجزیرہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق، صیہونی ٹی وی چینل 12 نے رپورٹ دی ہے کہ فوجی کمانڈرز نے تل ابیب کے اعلیٰ سیاسی حکام پر زور دیا ہے کہ غزہ میں جنگ کو فوری طور پر روکا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: نیتن یاہو ابھی تک کیسے کرسی پر ہیں؟سابق صیہونی وزیر اعظم کی زبانی

کمانڈرز نے خبردار کیا کہ مسلسل جنگ کی صورت میں نہ صرف صیہونی قیدیوں کی زندگی خطرے میں پڑ سکتی ہے بلکہ موجودہ حالات میں فوجی وسائل کی کمی اور لبنانی و فلسطینی مزاحمتی فورسز کی سخت مزاحمت کے پیش نظر غزہ اور لبنان میں مزید کامیابی حاصل کرنا بھی ناممکن ہو سکتا ہے۔

نتین یاہو کی پالیسیوں پر شدید تنقید
صیہونی وزیر اعظم بنیامین نتین یاہو طوفان الاقصی آپریشن کے بعد مسلسل تنقید کی زد میں ہیں۔

ان پر الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ حماس کی قید میں موجود صیہونی قیدیوں کی زندگیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے غزہ میں خونریز جنگ کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔

نتین یاہو کو نہ صرف عالمی دباؤ کا سامنا ہے بلکہ قیدیوں کے اہل خانہ بھی ان کی پالیسیوں کے خلاف شدید احتجاج کر رہے ہیں۔

ان مظاہروں کے باوجود، نتین یاہو نے اپنی حکمت عملی میں کوئی تبدیلی نہیں کی اور جنگ کو جاری رکھنے کے اپنے فیصلے پر قائم ہیں۔

قیدیوں کی رہائی کے لیے انعامی پیش کش
صیہونی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، نتین یاہو نے اپنی کابینہ پر قیدیوں کے تبادلے میں ناکامی اور امن مذاکرات میں ناکامی کے الزامات کو کم کرنے کے لیے ایک نیا منصوبہ پیش کیا ہے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ حماس کی قید میں موجود ہر اسرائیلی قیدی کی رہائی کے بدلے فلسطینیوں کو 5 ملین ڈالر کا انعام دیں گے۔

نتین یاہو نے غزہ کے فلسطینی عوام سے مخاطب ہو کر کہا کہ ہم ان تمام فلسطینیوں کو 5 ملین ڈالر کا انعام دیں گے جو حماس کی قید میں موجود اسرائیلی قیدیوں کو رہا کرائیں گے۔

فوجی اور سیاسی چیلنجز کا سنگین امتزاج
صیہونی فوج کے کمانڈرز کے مطابق، غزہ اور لبنان میں جاری جنگ صیہونی فوج کے لیے بڑے عسکری چیلنجز کا باعث بن رہی ہے۔

ہتھیاروں کی قلت، افرادی قوت کی کمی، اور مزاحمتی فورسز کی مضبوط حکمت عملیوں نے صیہونی فوج کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔

نتین یاہو کی حکمت عملی اور سیاسی دباؤ
یہ انعامی پیش کش نتین یاہو کی جانب سے دباؤ کم کرنے اور اپنے سیاسی مقام کو مستحکم کرنے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔

تاہم، ماہرین کے مطابق، یہ اقدام نہ صرف متنازعہ ہے بلکہ اس سے فلسطینی مزاحمتی فورسز کے خلاف کوئی بڑی کامیابی حاصل کرنا بھی مشکل دکھائی دیتا ہے۔

نتیجہ
غزہ میں جاری جنگ اور صیہونی قیدیوں کی رہائی کا مسئلہ تل ابیب کے لیے ایک بڑا سیاسی اور عسکری چیلنج بن چکا ہے۔ صیہونی فوج کی مسلسل وارننگز اور سیاسی قیادت کی ہچکچاہٹ اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ مسئلہ مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: صیہونی شہریوں نے نیتن یاہو کا کیوں ناک میں دم کر رکھا ہے؟

نتین یاہو کی جانب سے قیدیوں کی رہائی کے لیے پیش کردہ انعامی پیش کش کو غزہ میں جاری صورتحال کے تناظر میں ایک غیر معمولی اور متنازعہ حکمت عملی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

مشہور خبریں۔

ہم حزب اللہ کو دوبارہ مضبوط ہونے نہیں دیں گے: نیٹن یاہو کا دعویٰ

?️ 24 نومبر 2025سچ خبریں: اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیٹن یاہو نے کہا ہے کہ ہم

لاہور ہائیکورٹ: مریم نواز کے اخباری اشتہار کےخلاف درخواست پر فریقین کو نوٹس جاری

?️ 7 مارچ 2025لاہور: (سچ خبریں) لاہور ہائیکورٹ نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے

130 بین الاقوامی تنظیموں نے صحافیوں کو غزہ میں داخل ہونے کا مطالبہ کیا

?️ 6 جون 2025سچ خبریں: 130 سے ​​زائد بین الاقوامی تنظیموں نے غزہ کی پٹی

امریکہ افغانستان کے انسانی بحران کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے: چین

?️ 5 مارچ 2022سچ خبریں:اقوام متحدہ میں چین کے مستقل نمائندے نے کہا کہ امریکہ

انتظار ختم، فواد خان کی بھارتی فلم ’ابیر گلال‘ ریلیز

?️ 13 ستمبر 2025سچ خبریں: فلمی شائقین کا طویل انتظار ختم ہوا، پاکستانی اداکار فواد

یوکرینی صدر امریکہ کے دورے میں سب سے پہلے کہاں جائیں گے؟

?️ 22 ستمبر 2024سچ خبریں: یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی اپنے دورہ امریکہ کا آغاز

ایران کے خلاف 12 روزہ جنگ کے تمام اہداف حاصل کر لیے،نیتن یاہو کے جھوٹے دعووں کا سلسلہ جاری 

?️ 14 نومبر 2025 ایران کے خلاف 12 روزہ جنگ کے تمام اہداف حاصل کر

مسلمانوں کے خلاف کینیڈا کے امتیازی قوانین / پردہ دار ٹیچر کو احتجاج سے قطع نظر بے دخل

?️ 26 دسمبر 2021سچ خبریں: کینیڈا کے صوبے کیوبیک کے ایک اسکول سے باپردہ ٹیچر فاطمہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے