ایران کے خلاف جنگ کے 32 دن: عالمی میڈیا میں کا رد عمل

ایران کے خلاف جنگ

?️

سچ خبریں:ایران کے خلاف جاری جنگ کے 32 دن مکمل ہونے پر عالمی میڈیا میں مختلف ردعمل سامنے آئے، جن میں امریکہ و اسرائیل کی ناکامی، خطے میں کشیدگی اور عالمی اثرات کو نمایاں کیا گیا ہے۔

ایران کے خلاف امریکہ اور صہیونی حکومت کی فوجی جارحیت کے آغاز کو 32 دن گزرنے کے باوجود نہ صرف اس جنگ کے اعلان کردہ اہداف حاصل نہیں ہو سکے بلکہ جارح فریقین کو میدانِ جنگ اور سیاسی سطح پر بڑھتی ہوئی ناکامیوں اور اسٹریٹجک تعطل کا سامنا ہے۔

 اس جنگ کا آغاز وسیع حملوں اور معصوم شہریوں خصوصاً طلبہ کے قتل سے ہوا، جس نے تیزی سے انسانی، سیکیورٹی اور اقتصادی بحران کو جنم دیا اور عالمی سطح پر مختلف ردعمل کو ابھارا۔

عالمی میڈیا نے اپنے اپنے زاویوں سے اس جنگ کی تصویر پیش کرنے کی کوشش کی ہے، اور ان بازتابوں کا جائزہ جنگ کی حقیقی صورتحال اور اس کے مستقبل کے بارے میں زیادہ واضح تصویر فراہم کرتا ہے۔

مغربی میڈیا

مغربی میڈیا کے مطابق برطانوی اخبار گارڈین نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ مسلسل ایران کے خلاف اپنی کامیابی کا اعلان کر رہے ہیں، لیکن بار بار دعویٰ کرنے سے حقیقت تبدیل نہیں ہوتی۔ رپورٹ کے مطابق امریکہ کی جانب سے اس جنگ کو تاریخی کامیابی قرار دینے کے باوجود دنیا ایک ایسے تنازع کے لیے تیار ہو رہی ہے جو مسلسل پھیل رہا ہے اور عالمی معیشت کو شدید متاثر کر سکتا ہے۔ گارڈین کے مطابق ٹرمپ کی حکمت عملی، جو حقیقت کو بیان کرنے کے بجائے ایک بیانیہ مسلط کرنے پر مبنی ہے، ایران کے معاملے میں ناکام ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

بلومبرگ نے اپنی رپورٹ میں ایک دلچسپ پہلو اجاگر کرتے ہوئے لکھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ جو ماحولیاتی کارکنوں کو دہشت گرد قرار دیتے ہیں، وہ خود تیل و گیس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا کر اور فوسل فیول کی طلب میں کمی لا کر غیر ارادی طور پر صاف توانائی کے فروغ میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔

فارن پالیسی نے اپنی رپورٹ میں واضح کیا کہ ایک ماہ گزرنے کے بعد بھی امریکہ اور اسرائیل کو کوئی فیصلہ کن کامیابی حاصل نہیں ہو سکی، جبکہ ایران کی جانب سے مسلسل جوابی حملوں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور بحری راستوں پر حملوں نے عالمی تجارت کو شدید متاثر کیا ہے اور جنگ کے مزید پھیلنے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔

عرب اور علاقائی میڈیا

عرب اور علاقائی میڈیا میں المیادین نے ایران کے اندرونی اتحاد کو امریکہ اور اسرائیل کی ناکامی قرار دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق عوام کی وسیع شرکت، اقتصادی تعاون اور ریاستی اداروں کی فعالیت نے ایک مضبوط داخلی محاذ تشکیل دیا ہے، جس نے دشمن کی تقسیم پیدا کرنے کی حکمت عملی کو ناکام بنا دیا۔

عربی 21 کے مطابق امریکہ اور اسرائیل ایران کے خلاف محدود زمینی حملے کی خفیہ منصوبہ بندی کر رہے ہیں، جس میں جزیرہ خارک اور آبنائے ہرمز کے ساحلی علاقوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، تاہم ایران نے ایک کثیر سطحی دفاعی نظام تیار کر رکھا ہے جو اس خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔

الجزیرہ نے اپنی رپورٹ میں آبنائے ہرمز میں بڑھتی کشیدگی کو نمایاں کرتے ہوئے لکھا کہ ایران اس اہم آبی گزرگاہ پر کنٹرول قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ امریکہ اسے اپنی “سرخ لکیر قرار دے رہا ہے۔ اس کشیدگی کے باعث عالمی توانائی کی منڈی میں شدید اضطراب پیدا ہو چکا ہے۔

چینی اور روسی میڈیا

چینی اور روسی میڈیا کے مطابق راشا ٹوڈے نے امریکی بحریہ کے جدید طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ میں تکنیکی مسائل اور نقصانات کو امریکہ کی عسکری کمزوری کی علامت قرار دیا ہے، جبکہ چینی خبر رساں ادارے شنہوا نے اس جنگ کو عالمی نظام میں بڑی تبدیلیوں کا پیش خیمہ قرار دیا ہے۔

روسی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے سے نکلتا ہے تو مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہو سکتی ہے، جس کے سنگین عالمی اثرات ہوں گے۔

صہیونی میڈیا

صہیونی میڈیا نے بھی اعتراف کیا ہے کہ ایران اس وقت جنگی صورتحال پر مکمل کنٹرول رکھتا ہے اور مضبوط پوزیشن میں ہے۔ سابق موساد اہلکار زوہار پلتی کے مطابق ایران نہ صرف اپنی دفاعی صلاحیت برقرار رکھے ہوئے ہے بلکہ وہ جنگ کے نتائج پر اثر انداز ہونے کی پوزیشن میں بھی ہے۔

صیہونی معاشرے کے اندر بھی جنگ کے اثرات واضح ہو رہے ہیں، جہاں طویل فوجی خدمات اور مسلسل کشیدگی کے باعث عوامی دباؤ اور نفسیاتی مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔

مجموعی طور پر عالمی میڈیا کے تجزیوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے خلاف شروع کی گئی یہ جنگ اپنے اہداف کے حصول میں ناکام رہی ہے اور اس کے اثرات اب جارح فریقین کے اندرونی حالات، عالمی معیشت اور بین الاقوامی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں۔

مشہور خبریں۔

شمالی وزیرستان: میران شاہ خودکش دھماکے میں فوجی جوان سمیت 2 افراد شہید

?️ 15 دسمبر 2022میرانشاہ: (سچ خبریں)  شمالی وزیرستان کے ضلع میرانشاہ میں گزشتہ روز ہونے

پی ٹی آئی سے علیحدگی کے بعد پرویز خٹک نئی پارٹی بنانے کیلئے سرگرم

?️ 16 جولائی 2023خیبر پختونخوا:(سچ خبریں) خیبر پختونخوا کے سابق وزیر اعلیٰ پرویز خٹک پاکستان

بلوچستان زلزلہ: وزیراعظم کا متاثرین کو ہرممکن تعاون فراہم کرنے کی ہدایت

?️ 7 اکتوبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر اعظم عمران خان نے بلوچستان میں زلزلے

اگلے ہفتے تک منی بحٹ لائیں گے

?️ 24 نومبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں)  تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی چینل سماء

مریم نواز کا کم عمر بچوں کو سمارٹ کارڈ، موٹرسائیکل ڈرائیونگ لائسنس کے اجرا کا اعلان

?️ 2 دسمبر 2025لاہور (سچ خبریں) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ٹریفک قوانین کی خلاف

اسرائیل کی موجودہ صورتحال صیہونی میگزین کی زبانی

?️ 15 جولائی 2023سچ خبریں: صہیونی میگزین اسرائیل ہیوم نے اپنی ایک رپورٹ میں سلامتی،

غزہ میں قتل عام کی تفصیلات

?️ 27 نومبر 2023سچ خبریں: غزہ میں موت اور تباہی کے ہولناک مناظر اس بات

ترکمان ترکی کی علاقائی مداخلت کے اوزار؟

?️ 15 دسمبر 2021سچ خبریں:ترکی کی گڈ پارٹی کے سربراہ نے عراقی ترکمانوں کے ایک

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے