امریکہ اور اسرائیل کے لیے تاریخی رسوائی؛ انڈونیشیا کے 83 فیصد عوام نے ایران کے خلاف جنگ کی مذمت کی

پرچم

?️

سچ خبریں: انڈونیشیا میں ایک قومی سروے کے نتائج بتاتے ہیں کہ اس ملک کی عوامی رائے نے غیرمعمولی قاطعیت کے ساتھ امریکہ اور صہیونی حکومت کی اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف جنگ افروزی کو مسترد کر دیا ہے۔ اس سروے کے مطابق، انڈونیشیا کے 83.1 فیصد عوام نے ایران پر فوجی حملے کی کسی بھی قانونی حیثیت کو مکمل طور پر رد کرتے ہوئے، واشنگٹن اور تل ابیب کے جھوٹے دلائل کو بھی مسترد کر دیا ہے اور جنگی پالیسیوں کی حمایت کو مذمت قرار دیا ہے۔

یہ سروے جو مارچ 2026 میں کیا گیا، بتاتا ہے کہ صرف 4.9 فیصد انڈونیشی عوام حملوں کی حمایت کرتے ہیں، اور اکثریت عوام ایران کے خلاف تیسری جارحانہ جنگ کو اخلاقی اور قانونی لحاظ سے بے بنیاد سمجھتی ہے۔

اس مطالعے میں جنگ کی عوامی قانونی حیثیت کو تین اہم جہتوں میں جانچا گیا: 1 – عوام کی جنگ کے اصول سے حمایت کی سطح، 2 – جنگ کے لیے پیش کردہ وجوہات اور دلائل کو قبول کرنا، اور 3 – انڈونیشیا کی حکومت کی اس جنگ سے متعلق پالیسیوں کی حمایت۔

نتائج بتاتے ہیں کہ انڈونیشیا کی عوامی رائے اس جنگ کی کھلے عام مخالفت کرتی ہے اور اسے قانونی حیثیت سے عاری سمجھتی ہے۔ اس سروے کے مطابق خاص طور پر انڈونیشیا کے تقریباً 83.1 فیصد عوام امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے مخالف یا شدید مخالف ہیں، اور صرف 4.9 فیصد عوام اس حملے کی حمایت کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ، اکثریت عوام اس جنگ کا دفاع کرنے کو تیار نہیں۔ 68.8 فیصد دوسروں کو یہ باور کرانے کو تیار نہیں کہ امریکہ اور اسرائیل صحیح موقف پر ہیں۔ یہ اعداد و شمار انڈونیشی معاشرے میں اس جنگ کے لیے انتہائی کم سماجی حمایت کی سطح ظاہر کرتے ہیں۔

سروے کا ایک اہم حصہ جنگ کے لیے پیش کردہ وجوہات کے قبولیت کی جانچ سے متعلق تھا۔

نتائج یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اکثریت عوام ان وجوہات کو بھی قبول نہیں کرتی: 59.4 فیصد عوام اس دعوے کو رد کرتے ہیں کہ ایران کے ایٹمی خطرے کی وجہ سے جنگ ناگزیر تھی۔ 55.3 فیصد ایران کے رہنماؤں کے قتل کو ناقابلِ جواز سمجھتے ہیں۔

مجموعی طور پر، نہ صرف جنگ کا اصول بلکہ اس کے لیے پیش کردہ دلائل بھی انڈونیشیا کی عوامی رائے نے قبول نہیں کیے۔

انڈونیشیا کی حکومت کی پالیسیوں کے حوالے سے بھی نقطہ نظر زیادہ تر تنقیدی ہیں: 50.9 فیصد عوام میں انڈونیشیا کی رکنیت کے مخالف ہیں۔ 44.9 فیصد غزہ میں 8 ہزار فوجی بھیجنے کے بھی مخالف ہیں۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس فریم ورک سے متعلق سفارتی اور فوجی اقدامات بھی اکثریت کی حمایت حاصل نہیں کرتے۔

قانونی حیثیت کا عمومی اشاریہ واضح طور پر بتاتا ہے کہ انڈونیشیا کے عوام کی نظر میں اس جنگ میں عوامی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ مجموعی طور پر، اس سروے کے نتائج بتاتے ہیں کہ انڈونیشیا کی عوامی رائے میں امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ نہ صرف حمایت یافتہ نہیں، بلکہ بڑے پیمانے پر مسترد کر دی گئی ہے۔ اس جنگ کے لیے پیش کردہ وجوہات بھی عوامی قبولیت سے محروم ہیں، اور یہ معاملہ انڈونیشیا کی خارجہ پالیسی کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

مشہور خبریں۔

 ممکن ہے بن سلمان امریکہ سے خالی ہاتھ واپس لوٹیں:صہیونی میڈیا

?️ 17 نومبر 2025  ممکن ہے بن سلمان امریکہ سے خالی ہاتھ واپس لوٹیں:صہیونی میڈیا

الجولانی کی شام میں فرقہ واریت کو دوبارہ بھڑکانے کی سازش

?️ 3 مئی 2025 سچ خبریں:ابو محمد الجولانی کی امریکی اہلکاروں سے ملاقات کے بعد

کالعدم ٹی ٹی اے کی سیکیورٹی فورسز پر حملوں کی منصوبہ بندی کی ویڈیو منظرعام پر آگئی

?️ 24 مارچ 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) کالعدم تحریک طالبان افغانستان کی دہشت گردوں کے

وزیراعظم کی آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمٰن سے انتخابی حکمت عملی پر مشاورت

?️ 4 مارچ 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے سپریم

یوٹیوب کا مصنوعی ذہانت سے ویڈیوز بنانے والے جعل سازوں کے خلاف کارروائی کا منصوبہ

?️ 16 نومبر 2023سچ خبریں: یوٹیوب نے کہا ہے کہ جلد ہی اپنے صارفین کو

اولمرٹ: غزہ میں جنگ بند ہونی چاہیے

?️ 21 مئی 2025سچ خریں: اسرائیل کے سابق وزیر اعظم ایہود اولمرٹ نے ایک بیان

غزہ جنگ میں زیادہ کامیابیاں حماس کو ملی ہیں یا اسرائیل کو؟صیہونی کنیسٹ رکن کا اعتراف

?️ 30 مارچ 2024سچ خبریں: صیہونی تجزیہ کاروں نے کہا کہ بنیامین نیتن یاہو کی

نواز شریف پاک بھارت کشیدگی کے دوران خاموش کیوں رہے، رانا ثناء اللہ نے وجہ بتا دی

?️ 17 مئی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے