یوکرین کے سلسلے میں ٹرمپ کی الجھی ہوئی سیاست اور ہتھیاروں کی سپلائی 

وائٹ ہاؤس

?️

یوکرین کے سلسلے میں ٹرمپ کی الجھی ہوئی سیاست اور ہتھیاروں کی سپلائی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دوبارہ وائٹ ہاؤس آنے کے بعد سات ماہ میں یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے متعدد اور مختلف حکمت عملیاں اپنائیں، تاہم اب تک اپنے انتخابی وعدے کے مطابق اس جنگ کو ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔
ٹرمپ نے انتخابی مہم میں کہا تھا کہ وہ صرف 24 گھنٹوں میں یوکرین جنگ ختم کریں گے۔ لیکن اب تک ایسا نہیں ہو سکا۔ اقتدار سنبھالنے کے بعد انہوں نے یوکرین سے جنگی اخراجات کے بدلے نایاب معدنی وسائل میں امریکہ کو 50 فیصد حصہ دینے کی تجویز دی، جسے صدر ولادیمیر زلنسکی نے سختی سے مسترد کر دیا۔
فروری 2025 میں زلنسکی نے واشنگٹن کا دورہ کیا، لیکن ٹرمپ کے ساتھ ملاقات شدید کشیدگی میں بدل گئی۔ دونوں رہنماؤں میں تلخ کلامی ہوئی اور زلنسکی ملاقات ادھوری چھوڑ کر واپس چلے گئے۔ ٹرمپ نے ان پر امریکہ کی توہین اور امن کے لیے عدم تعاون کا الزام لگایا۔
کچھ ہی ماہ بعد ٹرمپ نے اچانک روس پر سخت موقف اپنایا اور صدر ولادیمیر پوتین کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ یوکرین کو پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام فراہم کیا جائے گا اور روس کے خلاف 100 فیصد تجارتی محصولات لگانے کی دھمکی بھی دی۔ تاہم بعد میں امریکی ایلچی اسٹیو وٹکاف نے ماسکو کا دورہ کیا اور دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کو مثبت اور مفید قرار دیا گیا۔
اگست 2025 میں الاسکا میں ٹرمپ اور پوتین کی ملاقات ہوئی۔ تین گھنٹے کی اس نشست کے بعد رپورٹس سامنے آئیں کہ پوتین نے جنگ بندی کے بدلے یوکرین کے مشرقی علاقوں پر روسی کنٹرول کی شرط رکھی، جبکہ ماسکو کچھ علاقوں سے پیچھے ہٹنے پر آمادہ ہوا۔ ٹرمپ نے اس معاملے کو زلنسکی کے فیصلے پر چھوڑ دیا۔
اس اجلاس کے بعد وائٹ ہاؤس میں یورپی رہنماؤں اور زلنسکی کی موجودگی میں اہم نشست ہوئی۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق زلنسکی نے روسی شرط کو سختی سے مسترد نہیں کیا بلکہ کہا کہ آبادی کی منتقلی اور آئینی مسائل اس عمل کو مشکل بناتے ہیں۔ اسی دوران یہ بھی اطلاعات ہیں کہ کیف واشنگٹن سے 100 ارب ڈالر کے ہتھیار خریدنے کا منصوبہ رکھتا ہے تاکہ ممکنہ امن معاہدے کے بعد امریکی سلامتی کی ضمانت حاصل کی جا سکے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کی ثالثی کے باوجود جنگ کے خاتمے پر اب بھی کئی سوالات موجود ہیں۔ روسی فوج تقریباً 19 فیصد یوکرینی علاقے پر قابض ہے، جن میں لوهانسک، 70 فیصد دونتسک، زاپوریژیا، خرسون اور کچھ حصے خارکیف و سومی کے شامل ہیں۔
روس مسلسل اپنے مقاصد پر زور دے رہا ہے جبکہ یورپی یونین اور نیٹو یوکرین کو مزید اسلحہ فراہم کر رہے ہیں۔ اسی دوران کیف بھی اپنی بھرپور مزاحمت جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ شکست کا تاثر نہ ابھرے۔

مشہور خبریں۔

یحیی السنوار نیتن یاہو کے ساتھ کیا کر رہے ہیں؟ سی این این کی رپورٹ

?️ 4 ستمبر 2024سچ خبریں: ایک امریکی ٹیلیویژن چینل نے اپنی رپورٹ میں حماس کی

ججز کو ڈرانے کے لیے کیا کہا جا رہا ہے؟فواد چوہدری کی زبانی

?️ 21 جولائی 2024سچ خبریں: فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ ججز کو ڈرانے کے

پاکستانی طلبہ کا تیار کردہ سیٹلائٹ ٹول ’جیو جیما‘ گوگل مقابلے میں بازی لے گیا

?️ 1 جولائی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد کے انسٹی ٹیوٹ آف اسپیس ٹیکنالوجی

عظیم دیوارِ چین پر پہلا پاک-چین مشترکہ فیشن شو، ثقافتی ہم آہنگی کا شاندار مظاہرہ

?️ 20 اکتوبر 2025بیجنگ: (سچ خبریں) بیجنگ میں پاکستانی سفارتخانے اور چائنا انٹرنیشنل کلچرل کمیونیکیشن

پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ کی ملاقات عمران خان کی دشمنی میں ایک اکٹھ ہے

?️ 5 فروری 2022اسلام آباد(سچ خبریں)  وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات چوہدری فوادحسین نے پیپلزپارٹی اور

واشنگٹن ٹائمز کا انکشاف، ٹرمپ کا وینزویلا پر دباؤ تیل اور سونے کے ذخائر پر قبضے کے لیے ہے

?️ 17 دسمبر 2025 واشنگٹن ٹائمز کا انکشاف، ٹرمپ کا وینزویلا پر دباؤ تیل اور

اسرائیلی فوج کے پاس غزہ میں آپریشن کے لیے وقت محدود 

?️ 10 نومبر 2023سچ خبریں:امریکی حکام کا خیال ہے کہ غزہ میں شہریوں کی ہلاکتوں

آڈیو لیکس انکوائری کمیشن کا اپنی کارروائی پبلک کرنے کا اعلان

?️ 23 مئی 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) عدلیہ اور ججز سے متعلق آڈیو لیکس کی تحقیقات

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے