ہولوکاسٹ سے غزہ تک کا تسلسل اور  کیا اسرائیل کا حباب پھٹنے والا ہے؟

فلسطین

?️

ہولوکاسٹ سے غزہ تک کا تسلسل اور  کیا اسرائیل کا حباب پھٹنے والا ہے؟
 برطانوی اخبار گارڈین میں شائع ہونے والے ایک تجزیے میں اسرائیلی صحافی اور تجزیہ نگار نوام شیزاف نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل ایک میڈیا اور فکری حباب میں قید ہو چکا ہے، جس کی وجہ وہ غزہ میں ہونے والے مظالم اور اس جنگ کے اثرات کو نظر انداز کر رہا ہے
شیزاف کے مطابق، گذشتہ دو برسوں کے دوران اسرائیلی بمباری نے غزہ کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے، لیکن اس کے باوجود اسرائیلی میڈیا میں فلسطینی بچوں کی لاشوں اور قحط زدہ حالات کی خبریں غایب  ہیں۔ اسرائیلی معاشرہ جنگ کو معمول کا حصہ سمجھنے لگا ہے، جبکہ فلسطینی عوام کی تکالیف کو غیرمتعلق سمجھا جاتا ہے۔
شیزاف کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکومت اور معاشرہ جنگ کو ایک مقدس مشن اور قومی بقاءکا حصہ بنا کر پیش کر رہے ہیں۔ وہ حماس کو نازیوں کے برابر قرار دیتے ہیں اور موجودہ تنازع کو ہولوکاسٹ کے تسلسل کے طور پر پیش کرتے ہیں۔
گارڈین میں لکھے گئے اس مضمون میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیل نے غزہ پر نہ صرف قبضہ کیا ہے بلکہ اسے مکمل طور پر تباہ کرنے کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے، جس کا مقصد فلسطینیوں کو ان کی زمین سے بےدخل کرنا اور ان کا وجود مٹانا ہے۔ شیزاف کے مطابق، یہ انتہاپسند صیہونی گروہوں کا دیرینہ خواب رہا ہے۔
تجزیہ میں یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج سابق فوجیوں اور نجی کمپنیوں کی مدد سے غزہ کے محلوں کو منظم طریقے سے تباہ کر رہی ہے، تاکہ جنگ کو معمول کا حصہ بنایا جا سکے۔
نوام شیزاف نے فرانسیسی، برطانوی اور آسٹریلوی حکومتوں کی جانب سے فلسطینی ریاست کو اقوام متحدہ میں تسلیم کرنے کے اقدامات کو  اہم قدم قرار دیا ہے۔ ان کے بقول، یہ بین الاقوامی برادری کی جانب سے اسرائیلی بیانیے میں پہلی بڑی دراڑ ہے۔
تجزیے کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ اسرائیلی اور فلسطینی مسئلے کو مذہبی یا تاریخی جبر کا نتیجہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ بلکہ یہ ایک سیاسی مسئلہ ہے، اور اس کا حل صرف فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق کو تسلیم کرنے سے ممکن ہے۔
شیزاف نے آخر میں اس بات کی طرف اشارہ کیا ہیکہ اگرچہ یہ اقدامات ابھی محدود ہیں، لیکن عالمی سطح پر اسرائیل پر دباؤ، فلسطین کو تسلیم کیے جانے اور اسرائیلی رہنماؤں کے خلاف ممکنہ پابندیاں، وہ عوامل ہو سکتے ہیں جو آخرکار اسرائیل کے بنائے گئے حباب کو ختم کر دیں اور دنیا کو اس حقیقت سے روشناس کرائیں جو غزہ کی سرزمین پر جاری ہے۔

مشہور خبریں۔

امریکہ اور چین کے درمیان سب سے اہم اور خطرناک رشتہ کیا ہے؟

?️ 27 فروری 2024سچ خبریں:چین میں امریکی سفیر ہیل، نکولس برنز نے کہا کہ امریکہ

امریکہ نے سوڈان کی جنگ کے لیے کلمبیائی جنگجو بھرتی کرنے والا نیٹ ورک  پابندیاں عائد کر دیں

?️ 10 دسمبر 2025امریکہ نے سوڈان کی جنگ کے لیے کلمبیائی جنگجو بھرتی کرنے والا

اسحاق ڈار کے آتے ہی آئی ایم ایف معاہدے کی خلاف ورزی کا انکشاف

?️ 3 اکتوبر 2022کراچی (سچ خبریں) مسلم لیگ ن کے رہنماء کے رہنماء اسحاق ڈار کے بطور وزیر

پاکستان امن و استحکام کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کرتا رہے گا۔ جنرل ساحر شمشاد

?️ 16 اکتوبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر

صہیونی ماہرین نے معمول کے معاہدوں کے خاتمے کے بارے میں خبردار کیا

?️ 28 مارچ 2023سچ خبریں:گزشتہ چند مہینوں سے بنجمن نیتن یاہو کی سربراہی میں صیہونی

پاکستانی وزیر کا خلیج فارس کے ممالک کا دورہ؛ ایجنڈے پر برصغیر کی ترقی

?️ 4 مئی 2025سچ خبریں: پاکستانی حکومت نے ہندوستان کے ساتھ کشیدگی کے بعد خلیج

سڈنی حملہ کی داستان کو دوبارہ پیش کرنے کی وجوہات

?️ 15 دسمبر 2025سچ خبریں: اسرائیلی میڈیا نے سڈنی میں ہونے والے حملے کو فوری طور

ابھی تو ابتدا ہے آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا

?️ 12 اکتوبر 2024سچ خبریں: حزب اللہ کا کہنا ہے کہ دشمن کی شکست ہماری

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے