?️
سچ خبریں: اسرائیلی میڈیا نے سڈنی میں ہونے والے حملے کو فوری طور پر یہودی مخالف کے فریم میں پیش کرنا شروع کر دیا تاکہ فلسطینیوں کے خلاف خونریز جرائم سے عالمی توجہ ہٹائی جا سکے۔
ماہرین کے مطابق، اسرائیلی اخبارات خصوصاً معاریو، یدیعوت آحارانوت اور ہاآرتص نے ہنوکا تقریب کے دوران 11 اسرائیلیوں کی ہلاکت کو نمایاں کرتے ہوئے اس واقعے کو صیہونی narrative کی خدمت کے لیے استعمال کیا۔
نتن یاہو کی معمول کی حکمت عملی
صہیونی ریاست کی سرکاری ردعمل محدود رہا اور وزیر اعظم بنجمن نتن یاہو نے اپنے عمومی بیان میں اس حملے کو ‘یہودی مخالف میں اضافے’ سے جوڑ دیا، بغیر کوئی سنجیدہ سیاسی یا سلامتی موضع پیش کیے۔
فلسطین اور اسرائیلی امور کے ماہر علی الاعور کے مطابق، یہ واقعہ اسرائیل کے اندرونی اختلافات کو اور گہرا کر سکتا ہے، کیونکہ صہیونی ریاست کا ایک طبقہ نتانیاہو کی غزہ جنگ، محاصرے اور لبنان پر تجاوز کی پالیسیوں کو عالمی غم و غصے کا سبب گردانتا ہے۔
صیہونی پروپیگنڈا کا نیا ہتھیار
دوسری طرف، نتانیاہو کی حمایتی تحریک ‘یہودی مخالف’ narrative کو دوبارہ زندہ کر کے آسٹریلیا پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ فلسطینی ریاست کی تسلیم شدگی کی حمایت روکی جا سکے اور اسرائیل کو دوبارہ ‘شکار’ کے روپ میں پیش کیا جا سکے۔
سماجی میڈیا پر بھی مشتبہ narrative گردش کر رہی ہیں جو اس واقعے کو غزہ میں قتل عام کے بعد عالمی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے ‘منصوبہ بند’ قرار دے رہی ہیں۔
تاریخی سابقے اور موقف
فلسطینی صحافی فائز ابو شمالہ نے نشاندہی کی کہ موساد سے منسلک اکاؤنٹس نے آسٹریلوی تحقیقات کے سرکاری نتائج سے پہلے ہی حملہ آوروں کو ‘جہادی’ قرار دے دیا، جو غزہ کی نسل کشی کی جنگ کے بعد عالمی ہمدردی حاصل کرنے کی صہیونی کوشش ہے۔
نتیجتاً، نتانیاہو ان تصاویر کو امریکہ لے جائیں گے تاکہ یہودی میڈیا اور برادریوں کے سامنے ان کا استعمال کرتے ہوئے غزہ کے محاصرے اور قتل عام کے جرائم کو چھپایا جا سکے۔
صہیونی وزیر جنگ یسرائل کاتس کے ‘دنیا بھر کی یہودی برادریوں کی حمایت’ کے دعوے سے ظاہر ہوتا ہے کہ سڈنی واقعہ کو عالمی پروپیگنڈے کے آلے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
فلسطینی موقف اور عالمی ردعمل
مبصرین کا اصرار ہے کہ فلسطینی مزاحمت نے کبھی بھی فلسطین سے باہر رہنے والے یہودیوں کو نشانہ نہیں بنایا اور ان کی جدوجہد مذہبی نہیں بلکہ صرف صیہونی منصوبے اور فلسطینی زمین پر قبضے کے خلاف ہے۔
آسٹریلیا میں اماموں کی کونسل سمیت اسلامی مراکز نے تمام غیر فوجیوں پر حملوں کی مذمت کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ ایسے واقعات کو کبھی بھی قبضہ کرنے والے ریاست کے چہرے کو صاف کرنے اور اس کے جرائم کو جواز دینے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
آسٹریلوی پولیس کے مطابق، سڈنی کے بانڈی بیچ کے قریب ہفتے کی صبح ہنوکا تقریب کے پہلے دن فائرنگ سے 12 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔ حملے میں ایک حملہ آور ہلاک ہوا جبکہ دو افراد کو حراست میں لیا گیا۔ متاثرین میں تحریک ‘حباد’ کے نمائندے اور آسٹریلیا کی یہودی کونسل کے صدر جیسی نمایاں شخصیات شامل تھیں۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء پر پاکستان کا ردعمل
?️ 15 اپریل 2021اسلام آباد (سچ خبریں) امریکی صدر بائیڈن کے بیان کے مطابق افغانستان
اپریل
ترکی میں سلامتی اور دہشت گردی کے خطرات
?️ 25 مارچ 2024سچ خبریں: ترکی کے خلاف PKK دہشت گرد گروہ کے سیکورٹی خطرات
مارچ
فرانس کا عوامی قرضہ 2.8 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر گیا
?️ 18 دسمبر 2021سچ خبریں: فرانسیسی اخبار لی فیگارو کے مطابق فرانسیسی ادارہ برائے شماریات اور
دسمبر
فدان: اسرائیل نے شامی ڈیموکریٹک فورسز کا حوصلہ بڑھایا ہے
?️ 14 دسمبر 2025سچ خبریں: ترک وزیر خارجہ نے ملک کے شمال میں شامی ڈیموکریٹک
دسمبر
شہباز شریف کا اسلام آباد میٹرو اسٹیشن کا دورہ
?️ 14 اپریل 2022اسلام آباد(سچ خبریں)وزیر اعظم شہباز شریف نے آج صبح 7 بجے اسلام
اپریل
وزیر خارجہ نے چینی ہم منصب سے ٹیلیفون پر افغانستان پر تبادلہ خیال کیا
?️ 18 اگست 2021اسلام آباد (سچ خبریں) تفصیلات کے مطابق وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی اور
اگست
انگلینڈ موسم گرما کی ہڑتالوں کی تیاری میں مشغول
?️ 3 جون 2023سچ خبریں:لندن کے ہیتھرو ہوائی اڈے پر سیکڑوں سیکیورٹی اہلکار گرمیوں کی
جون
فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر حالات معمول پر نہیں آسکتے:سعودی میڈیا
?️ 19 نومبر 2025 فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر حالات معمول پر نہیں آسکتے:سعودی
نومبر