ہماری زمین فروخت کے لئےنہیں:یوکرین

یوکرین

?️

ہماری زمین فروخت کے لئےنہیں:یوکرین

یوکرین کے نائب مستقل نمائندے نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں واضح الفاظ میں کہا ہے کہ ان کے ملک کی سرزمین فروخت کے لیے نہیں ہے اور نہ ہی وہ کسی ایسی تجویز کو قبول کریں گے جو روسی قبضے کو قانونی رنگ دینے کی کوشش کرے۔

کینیڈین نشریاتی ادارے سی بی سی کے مطابق، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں کریسٹینا ہیویشن نے بتایا کہ کییف کو باضابطہ طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ امن منصوبے کا مسودہ موصول ہو چکا ہے اور یوکرین “تعمیری تعاون” کے لیے تیار ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی انہوں نے اپنے ملک کی سرخ لکیروں پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ یوکرین کسی صورت اپنے مقبوضہ علاقوں کو روسی سرزمین کے طور پر تسلیم نہیں کرے گا۔ ان کے بقول: “ہماری زمین فروخت کے لیے نہیں ہے۔

ہیویشن نے مزید کہا کہ یوکرین نہ اپنی دفاعی صلاحیت پر کوئی پابندی قبول کرے گا، نہ اپنی مسلح افواج کے حجم پر کوئی شرط، اور نہ ہی اپنی خارجہ پالیسی اور اتحادوں کے انتخاب پر کوئی مداخلت برداشت کرے گا۔

رپورٹ میں یاد دہانی کرائی گئی کہ روسی صدر ولادیمیر پوتین نے فروری 2022 میں ڈونباس میں قائم خودساختہ ڈونیتسک اور لوہانسک عوامی جمہوریاؤں کی آزادی کو تسلیم کرنے کے بعد یوکرین پر فوجی کارروائی شروع کی، جس سے دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی براہِ راست جنگ میں بدل گئی۔

دوسری جانب، ٹرمپ جنہوں نے اپنے دوسرے دورِ صدارت کے آغاز پر 24 گھنٹے میں جنگ ختم کرنے کا دعویٰ کیا تھا، اب تک اس میں کامیاب نہیں ہو سکے اور خود بھی اس جنگ کے طول پکڑنے پر مایوسی کا اظہار کر چکے ہیں۔

اکسیوس کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ روس کے ساتھ خاموشی سے ایک 28 شقوں پر مشتمل امن منصوبے پر کام کر رہی ہے جس کے چار بڑے حصے ہیں: یوکرین میں صلح، سکیورٹی ضمانتیں، یورپی سلامتی اور روس و یوکرین کے ساتھ امریکا کے مستقبل کے تعلقات۔ تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں کہ مشرقی یوکرین کے متنازع علاقوں سے متعلق اس منصوبے کا مؤقف کیا ہے۔

وائٹ ہاؤس نے بھی اس منصوبے کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ امریکی صدر کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکاف اور وزیر خارجہ مارکو روبیو ایک ماہ سے خفیہ طور پر اس پر کام کر رہے تھے۔

رپورٹس کے مطابق واشنگٹن کییف پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی فریم ورک کو قبول کرے، جس میں یوکرین کے بعض علاقوں اور اسلحے سے دستبرداری شامل ہے۔ دوسری طرف روس جو یوکرین کے تقریباً ایک پانچویں حصے پر قابض ہے، یوکرین کی مستقل غیرجانبداری، علاقوں کی حوالگی اور اس کی فوج کی محدود کاری کو جنگ بندی کے بنیادی شرائط قرار دیتا ہے۔

کییف کا کہنا ہے کہ ایسی شرائط کو تسلیم کرنا دراصل ہتھیار ڈالنے کے مترادف ہوگا اور اس کے بعد یوکرین روس کے ممکنہ نئے حملے کے سامنے بالکل بے دفاع ہو جائے گا۔

مشہور خبریں۔

نیتن یاہو کو فلسطینیوں کے خلاف نسل‌کشی ختم کرنی ہوگی؛ اسپین کا مطالبہ

?️ 12 اکتوبر 2025سچ خبریں:اسپین کے وزیر خارجہ خوسے مانوئل آلبارس نے کہا ہے کہ

صیہونی حکومت کا غزہ میں شکست کا مکمل اعتراف

?️ 15 جنوری 2025سچ خبریں: اسرائیلی میڈیا نے حکومت کی کابینہ کے ایک سیاسی ذریعے

نتن یاہو نے ٹرمپ کے ذریعے حماس کو دھمکی دی: غزہ کو غیر مسلح کیا جانا چاہیے

?️ 15 اکتوبر 2025سچ خبریں: یروشلم میں قابض حکومت کے وزیراعظم نے دعویٰ کیا کہ

واٹیکان میں مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی

?️ 28 دسمبر 2023سچ خبریں:غزہ کی پٹی پر صیہونی حکومت کے حملوں کی مذمت میں

اسرائیل کا صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کا فیصلہ بے کار ہے: اردگان

?️ 18 فروری 2026 سچ خبریں:ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے آج صومالیہ میں

وینزویلا کے خلاف ٹرمپ کی پیشگی منصوبہ بند جارحیت پر ردِعمل کیا ہونا چاہیے؟

?️ 7 جنوری 2026 وینزویلا کے خلاف ٹرمپ کی پیشگی منصوبہ بند جارحیت پر ردِعمل

امریکی شہریوں کو حراست میں لینے والے ممالک کو سزا دینے کا ٹرمپ کا حکم

?️ 6 ستمبر 2025سچ خبریں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا

اسرائیلی سیوریج میں اس بار نامعلوم تکنیکی نقائص

?️ 29 جولائی 2025سچ خبریں: اسرائیلی وزارت صحت کی رپورٹ میں حکومت کے سیوریج سسٹم

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے