?️
کیا شام نیا لیبیا بننے جا رہا ہے؟
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بشار الاسد کے اقتدار کے خاتمے کے بعد شام ایک ایسے دور میں داخل ہو چکا ہے جو عدم استحکام، رقابتوں اور بیرونی مداخلتوں سے بھرپور ہے۔ کچھ ماہرین کا خدشہ ہے کہ اگر اصلاحات اور مفاہمت کا عمل شروع نہ ہوا، تو شام بھی لیبیا کی طرح ٹکڑوں میں بٹ سکتا ہے۔
دسمبر 2024 میں بشار الاسد کے اقتدار سے ہٹنے کے بعد، شام ایک عبوری مرحلے میں داخل ہوا ہے جس کی قیادت سابق ہیئت تحریر الشام کے سربراہ احمد الشرع (ابومحمد الجولانی) کر رہے ہیں۔ وہ ایک مرکزی حکومت کے قیام کی کوشش میں ہیں، لیکن بڑھتی ہوئی داخلی رقابتیں، مسلح گروہوں کی خودسری، اور بیرونی طاقتوں کی مداخلت نے ان کے منصوبوں کو غیر مستحکم کر دیا ہے۔
ماہرین شام کی موجودہ صورتحال کو لیبیا کے بعد از قذافی دور سے تشبیہ دے رہے ہیں، جہاں 2011 کے بعد ملک دو حکومتوں، خانہ جنگی، اور غیر ملکی اثر و رسوخ کا شکار ہو گیا۔ الجزیرہ کے مطابق، جیسے لیبیا میں طرابلس اور بنغازی کے درمیان تقسیم ہے، ویسے ہی شام میں دمشق کے علاوہ شمال مشرقی علاقے کرد فورسز کے زیرِ اثر ہیں۔ امریکہ ان علاقوں میں موجود ہے، جبکہ ترکی، اسرائیل اور روس بھی اپنے اپنے مفادات کے لیے سرگرم ہیں۔
لبنانی اخبار الاخبار نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ الجولانی کی عبوری حکومت پر مسلح گروہوں کا کنٹرول کمزور ہو چکا ہے۔ جنگ ختم ہونے کے بعد، یہ گروہ مالی وسائل اور اسمگلنگ کے راستوں پر قبضے کے لیے آپس میں لڑ رہے ہیں۔ کچھ علاقوں میں سابق شدت پسند خودمختار انداز میں کام کر رہے ہیں اور مرکزی حکومت کی رِٹ کمزور پڑ رہی ہے۔
شمال مشرق میں کردوں اور عرب قبائل کے درمیان اختلافات بڑھ رہے ہیں، جبکہ جنوب میں دروزی اقلیت اپنے خودمختار انتظامی ڈھانچے پر اصرار کر رہی ہے۔ پارلیمانی انتخابات اکتوبر 2025 میں بغیر کرد اور دروزی نمائندگی کے کرائے گئے، جس سے سیاسی شمولیت پر مزید سوالات اٹھے ہیں۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق، اسرائیل نے شام کے جنوب میں 60 کلومیٹر اندر تک اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھی ہوئی ہے اور کرد و دروزی گروہوں کے لیے خودمختاری کے ماڈل کی تجویز دی ہے۔ دوسری طرف ترکی مسلسل کرد فورسز پر حملے کر رہا ہے، جبکہ امریکہ کی ممکنہ واپسی سے کرد گروہ غیر محفوظ ہو سکتے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے ایلچی گیر پیڈسن نے خبردار کیا ہے کہ شام لبے چاقو پر کھڑا ہے، اور اگر الجولانی حکومت شفاف سیاسی ڈھانچہ اور اقلیتوں کے حقوق کو تسلیم نہ کرے تو ملک دوبارہ خانہ جنگی کی طرف جا سکتا ہے۔
کارنگی انسٹیٹیوٹ اور جرمن ادارہ دویچے ولے کی رپورٹس کے مطابق، شام کو بچانے کے لیے فوری اصلاحات، سکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ تربیت، اور تمام گروہوں کے درمیان اعتماد کی بحالی ناگزیر ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ شام میں تنوع، نسلی تقسیم اور مسلح گروہوں کی موجودگی حالات کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔ اگر حکومت الشرع نے شدت پسندوں کو اقتدار سے دور نہ کیا اور اقلیتوں کو سیاسی عمل میں شامل نہ کیا، تو شام بھی لیبیا کی طرح ایک منقسم اور غیر مستحکم ریاست بن سکتا ہے ایک ایسا ملک جہاں امن، وحدت اور اقتدارِ مرکزی سب کمزور پڑ جائیں۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
بھارت کو افغانستان میں بہت بھاری نقصان اٹھانا پڑا: طاہر اشرفی
?️ 9 ستمبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وزیر اعظم کے معاون خصوصی علامہ طاہر محمود اشرفی
ستمبر
نیتن یاہو کا احمقانہ منصوبہ
?️ 15 ستمبر 2024سچ خبریں: صیہونی ذرائع نے خبر دی ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم
ستمبر
تحریک انصاف تحریک عدم اعتماد والی صورتحال سے مزید مضبوط ہوکر ابھرے گی۔عمران خان
?️ 13 مارچ 2022(سچ خبریں)وزیراعظم پاکستان عمران خان نے کہا ہے کہ تحریک انصاف تحریک
مارچ
اردن سے شیطان سفیر کی بے دخلی اور صیہونی تنہائی میں شدت
?️ 25 مارچ 2023سچ خبریں:حقیقت یہ ہے کہ آج بین الاقوامی نظام پہلے سے کہیں
مارچ
مسلم لیگ(ن) کا نیا چہرہ لانچ کرنے کی کوشش
?️ 24 جولائی 2024سچ خبریں: مسلم لیگ ن کی جانب سے حمزہ شہباز کو متحرک
جولائی
یمنیوں کے اقدامات سے اسرائیل کی تمام بندرگاہوں کو نقصان پہنچا
?️ 21 فروری 2024سچ خبریں:صیہونی 24 ویب سائٹ کے مطابق بحیرہ احمر میں یمنی حملوں
فروری
پاکستان: غزہ جنگ بندی کی قرارداد کو امریکی ویٹو نے دنیا کو خطرناک پیغام دیا ہے
?️ 5 جون 2025سچ خبریں: اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے نے امریکی حکومت
جون
طالبان نے بائیڈن حکومت پر لگایا چوری کا الزام
?️ 12 فروری 2022سچ خبریں: طالبان کے ترجمان محمد نعیم نے کہا کہ افغان بینکوں
فروری