کاپ ۳۰ اختتامی مرحلے میں،امریکا کا پسپائی اختیار کرنا اور چین کا ابھرتا ہوا اقلیمی اثر

کاپ ۳۰

?️

کاپ ۳۰ اختتامی مرحلے میں،امریکا کا پسپائی اختیار کرنا اور چین کا ابھرتا ہوا اقلیمی اثر

عالمی ماحولیاتی کانفرنس کاپ ۳۰ اپنے آخری دنوں میں داخل ہو چکی ہے اور اس بار امریکا کی غیر معمولی غیر حاضری نے چین کو اقلیمی سفارت کاری میں نمایاں کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کر دیا ہے۔ یہ اجلاس 10 نومبر کو برازیل کے شہر بِلم میں شروع ہوا اور 21 نومبر کو ختم ہوگا۔ ابتدا ہی میں امریکا نے تین دہائیوں میں پہلی مرتبہ اعلیٰ سطح کے وفد کو نہ بھیج کر دنیا کو حیران کر دیا، جبکہ دوسری جانب بلم میں ماحول دوست کارکنوں اور مقامی قبائل کے وسیع مظاہرے جاری رہے جن میں جنگلاتِ امازون کے تحفظ، فوسل فیول کے خاتمے اور ماحولیاتی انصاف کا مطالبہ کیا گیا۔

کیتھولک روحانی پیشوا پاپ فرانسس نے اجلاس کے شرکاء کو بھیجے گئے پیغام میں خبردار کیا کہ موسمیاتی تبدیلی سیاسی فیصلوں سے کہیں زیادہ تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں کروڑوں لوگ سیلاب، خشک سالی، شدید گرمی اور طوفانوں جیسے اثرات سے دوچار ہیں اور عالمی سطح پر ہنگامی قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔

امریکا کی عدم شرکت کے باعث مذاکرات میں طاقت کا توازن بدلتا دکھائی دے رہا ہے۔ چین کی بڑی گرین انرجی کمپنیوں کے سربراہان نے اجلاس میں فعال کردار ادا کیا اور اپنے منصوبوں کو بین الاقوامی سطح پر پیش کیا۔ چینی سفارت کار بھی پس پردہ مذاکرات کو مؤثر بنانے میں سرگرم رہے، یہ وہ کردار ہے جو ماضی میں زیادہ تر امریکا ہی سنبھالتا تھا۔ بین الاقوامی تجدیدپذیر توانائی ایجنسی کے سربراہ کے مطابق قابل تجدید توانائی اور برقی گاڑیوں کے شعبے میں چین کی بڑھتی ہوئی برتری نے اسے عالمی اقلیمی سفارت کاری میں ایک مضبوط پوزیشن دے دی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے دوبارہ صدر بننے کے بعد امریکا کی اقلیمی پالیسی میں نمایاں پسپائی دیکھنے میں آئی ہے۔ وہ پہلے بھی دو بار امریکا کو معاہدۂ پیرس سے نکال چکے ہیں اور اس سال انہوں نے کسی اعلیٰ سطح کے نمائندے کو بھیجنے سے بھی انکار کر دیا۔ ماہرین کے مطابق امریکا اس رویے سے عالمی مذاکرات میں اپنی اہمیت کھو رہا ہے، جبکہ اس خلا کو پُر کرنے کے لیے چین تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔

اس بار کاپ ۳۰ میں چین کا وجود پہلے سے کہیں زیادہ نمایاں ہے۔ چینی کمپنیوں اور حکام کی موجودگی، مرکزی مقام پر قائم بڑا اسٹال اور سرکاری سطح پر سرگرمیاں اس بات کا اشارہ ہیں کہ بیجنگ اقلیمی قیادت کے میدان میں اپنا اثر بڑھانے کے لیے پوری طرح سرگرم ہے۔ اجلاس کے منتظمین نے بھی چین کی ٹیکنالوجی میں پیش رفت اور کم لاگت والے ماحول دوست حل فراہم کرنے کی صلاحیت کو سراہا ہے۔

کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ چین ترقی پذیر ممالک اور بریکس جیسی ابھرتی معیشتوں کو یکجا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، تاہم ان کے مطابق اگر چین عالمی قیادت کا حقیقی خواہش مند ہے تو اسے کاربن اخراج کم کرنے کے لیے زیادہ پرعزم اہداف مقرر کرنا ہوں گے۔ دوسری طرف بیجنگ سے قریبی طور پر جڑی ماحولیاتی پالیسی کے مبصرین کا کہنا ہے کہ عملی ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری اور قابل تجدید توانائی کا تیز رفتار فروغ ہی اصل قیادت ہےاور اس وقت دنیا میں یہ کردار سب سے مؤثر انداز میں چین ہی انجام دے رہا ہے۔

مشہور خبریں۔

بھارت پورے خطے کے لئے خطرہ ہے

?️ 22 ستمبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وزیر اعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی معید یوسف

جبالیا میں صیہونی جرائم کا آنکھوں دیکھا حال

?️ 22 اکتوبر 2024سچ خبریں: شمالی غزہ کے جبالیا علاقے میں صیہونی افواج کے مظالم

حماس نے آج وائٹیکر کی تجویز کا جواب دیا

?️ 31 مئی 2025سچ خبریں: اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کے ایک رہنما نے اعلان کیا

غزہ میں قحط کے سرکاری اعلان پر امریکی سفیر برہم!

?️ 23 اگست 2025سچ خبریں: تل ابیو میں امریکی سفیر مائیک ہیکابی نے سوشل میڈیا پر

لاہور: انسداد دہشتگردی عدالت نے پرویز الہٰی کی عبوری ضمانت خارج کردی

?️ 11 مئی 2023لاہور 🙁سچ خبریں) لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے سابق وزیراعلیٰ

صیہونی حکومت کی سعودی عرب کو ایف 35 کی فروخت کی مخالفت

?️ 15 جولائی 2022سچ خبریں:    یدیعوت احرونوت اخبار نے آج جمعہ کو لکھا ہے

اب فیصلہ روس کے ہاتھ میں ہے؛ٹرمپ کا یوکرین جنگ پر تبصرہ  

?️ 13 مارچ 2025 سچ خبریں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یوکرین جنگ

سی پیک، ایس آئی ایف سی، سعودی سرمایہ کاری گیم چینجر تھے، لیکن گیم چینج نہیں ہورہی

?️ 26 مئی 2024 اسلام آباد: (سچ خبریں) سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے