?️
ڈھاکا میں انتشار اور دہلی سے کشیدگی؛ بنگلہ دیش کس سمت جا رہا ہے؟
بنگلہ دیش کا دارالحکومت ڈھاکا ایک بار پھر سیاسی بے چینی اور عدم استحکام کا مرکز بن گیا ہے۔ دارالحکومت کی سڑکوں سے شروع ہونے والی بدامنی اب بھارت کے ساتھ کشیدگی میں بدل چکی ہے، جس نے جنوبی ایشیا کے اس ملک میں طاقت کے توازن کو ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔
نشریہ دی ڈپلومیٹ کے مطابق، جمعرات کی شب بنگلہ دیش میں عوامی انقلاب کے ایک نمایاں رہنما شریف عثمان ہادی کی ہلاکت کی خبر پھیلتے ہی ڈھاکا کا ماحول یکسر بدل گیا۔ یہ وہی شخصیت تھے جنہوں نے سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا تھا اور آئندہ انتخابات میں حصہ لینے کا ارادہ رکھتے تھے، مگر مبینہ طور پر شیخ حسینہ کے حامیوں کے ہاتھوں قتل ہو گئے۔ ان کی ہلاکت نے عوامی غصے کو بھڑکا دیا اور احتجاجی مظاہرے جلد ہی سوگ کی تقریبات اور پھر پرتشدد ہنگاموں میں تبدیل ہو گئے۔
ابتدائی طور پر یہ احتجاج مقامی سیاسی اختلافات تک محدود تھا، تاہم جلد ہی اخباری دفاتر، ثقافتی مراکز اور سرکاری عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اس دوران سیاسی نعروں کے ساتھ ساتھ بھارت مخالف نعرے بھی بلند ہونے لگے، جس سے بحران نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا۔ یوں بنگلہ دیش کی داخلی بدامنی رفتہ رفتہ بھارت کے ساتھ سفارتی کشیدگی میں بدل گئی۔
صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو گئی جب مظاہروں کا رخ غیر ملکی علامتوں، خاص طور پر بھارتی مفادات اور سفارتی مراکز کی جانب ہو گیا۔ ڈھاکا اور دیگر شہروں میں بھارت سے وابستہ مقامات کے سامنے احتجاج دیکھنے میں آیا اور فضا میں بھارت مخالف جذبات نمایاں طور پر بڑھ گئے۔
ان حالات پر دہلی نے محتاط مگر تشویشناک ردعمل ظاہر کیا۔ بھارتی وزارت خارجہ نے اپنے سفارت کاروں اور شہریوں کی سلامتی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری حفاظتی اقدامات کا مطالبہ کیا۔ اسی تناظر میں دہلی میں بنگلہ دیش کے سفیر کو طلب کیا گیا اور بھارتی سفارتی مشنز کے گرد سکیورٹی سخت کر دی گئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بحران اب سرحدوں سے باہر نکل چکا ہے۔
اس بڑھتی ہوئی کشیدگی کے مرکز میں سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کا نام ایک بار پھر نمایاں ہو گیا ہے۔ اقتدار سے بے دخل ہونے کے بعد ان کا بھارت میں قیام بنگلہ دیش کے بعض حلقوں میں اس تاثر کو تقویت دے رہا ہے کہ دہلی سابق سیاسی نظام کی حمایت کر رہا ہے۔ اگرچہ بھارتی حکام اس تاثر کو مسترد کرتے ہیں، تاہم عوامی غصے کے ماحول میں یہ بیانیہ بھارت مخالف جذبات کو مزید ہوا دے رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق، سابق حکومت سے وابستہ کئی سیاسی شخصیات بھی بنگلہ دیش چھوڑ کر بھارت منتقل ہو چکی ہیں۔ اپوزیشن حلقے اسے احتساب سے فرار قرار دے رہے ہیں، جبکہ شیخ حسینہ کے حامی اسے موجودہ غیر محفوظ حالات کا نتیجہ بتاتے ہیں۔ بحران اس وقت اور گہرا ہو گیا جب یہ دعویٰ سامنے آیا کہ احتجاجی رہنما کے قتل میں ملوث ایک مشتبہ شخص واقعے کے بعد بھارت فرار ہو گیا۔ اگرچہ اس دعوے کی مکمل تصدیق نہیں ہو سکی، لیکن اس نے سیاسی ماحول کو مزید کشیدہ بنا دیا ہے۔
ان حالات میں بنگلہ دیش کی عبوری حکومت ایک مشکل امتحان سے دوچار ہے۔ ایک طرف اسے عوامی غصے اور داخلی بدامنی کو قابو میں رکھنا ہے، تو دوسری طرف بھارت کے ساتھ مکمل سفارتی تصادم سے بچنا بھی ضروری ہے۔ حساس مقدمات کی شفاف تحقیقات، امن و امان کی بحالی اور غیر ملکی مفادات کے تحفظ کا توازن قائم کرنا موجودہ قیادت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
علاقائی سطح پر بھی بنگلہ دیش بھارت کے لیے نہایت اہم ملک ہے، چاہے وہ مشرقی سرحدوں کی سلامتی ہو، علاقائی رابطہ منصوبے ہوں یا چین کے ساتھ جغرافیائی سیاسی مسابقت۔ ایسے میں کسی بھی قسم کی غلط فہمی یا سیاسی پناہ کے الزامات دہلی کے لیے بھاری قیمت کا باعث بن سکتے ہیں۔
مجموعی طور پر بنگلہ دیش اس وقت ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے، جہاں داخلی بحران اور خارجی دباؤ بیک وقت اس کے مستقبل کی سمت کا تعین کر رہے ہیں۔ آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں کیے جانے والے فیصلے یہ طے کریں گے کہ ڈھاکا اس بحران سے نکل کر استحکام کی راہ اپناتا ہے یا ایک نئی عدم استحکام کی دلدل میں پھنس جاتا ہے۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
روسی نائب وزیر خارجہ کا امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں پیشرفت کا اعتراف، یوکرین جنگ پر ممکنہ حل کی تلاش جاری
?️ 22 نومبر 2025 روسی نائب وزیر خارجہ کا امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں پیشرفت
نومبر
امام خامنہ ای کے بیانات میں "امریکی کرائے کے فوجیوں کو روندنے” کی وضاحت
?️ 23 دسمبر 2024سچ خبریں: قطر نے خاص طور پر امام خامنہ ای کے بیانات کی
دسمبر
سعودی اور اماراتی عہدہ دار امریکی اور صیہونی کارندے ہیں:الحوثی
?️ 3 فروری 2022سچ خبریں:یمنی عوامی تنظیم انصار اللہ کے سربراہ عبد المالک الحوثی نے
فروری
مسئلہ فلسطین، مغربی ممالک کی دہشت گردی اور عرب ممالک کی خیانت
?️ 16 اپریل 2021(سچ خبریں) جب بھی فلسطین کی بات ہوتی ہے تو اذہان میں
اپریل
یمن پر ایک بار پھر امریکی اور برطانوی حملے
?️ 23 جنوری 2024سچ خبریں:خبر رساں ذرائع نے یمن کے دارالحکومت صنعا پر امریکہ اور
جنوری
مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی منظور شدہ قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیئے
?️ 7 اپریل 2021سرینگر (سچ خبریں) مقبوضہ کشمیر میں مسلم لیگ جموں و کشمیر نے
اپریل
مقبوضہ جموں و کشمیر میں محاصروں،چھاپوں، گرفتاریوں کا سلسلہ تیز
?️ 13 اپریل 2024سرینگر: (سچ خبریں) بھارت کے غیر قانونی زیرقبضہ جموں وکشمیر میں بھارتی
اپریل
پنجاب حکومت سے انارکلی دھماکے کی رپورٹ طلب کرلی ہے
?️ 20 جنوری 2022اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا ہے
جنوری