چین، کرغزستان اور ازبکستان کے درمیان مالی معاہدہ، بیلٹ اینڈ روڈ کے تحت نئی ریلوے لائن کی تعمیر

وسطی ایشیا

?️

چین، کرغزستان اور ازبکستان کے درمیان مالی معاہدہ، بیلٹ اینڈ روڈ کے تحت نئی ریلوے لائن کی تعمیر

 چین، کرغزستان اور ازبکستان کے درمیان ایک اہم مالی معاہدہ طے پا گیا ہے جس کے تحت تینوں ممالک مل کر ایک نئی ریلوے لائن تعمیر کریں گے۔ اس منصوبے کے لیے چین 35 سالہ مدت پر 2.3 ارب ڈالر کا قرض فراہم کرے گا، جو منصوبے پر کام کرنے والی مشترکہ کمپنی کے اختیار میں دیا جائے گا۔ یہ ریلوے منصوبہ چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کا حصہ ہے اور اسے وسطی ایشیا میں علاقائی رابطوں کے فروغ کے لیے نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق چین، کرغزستان اور ازبکستان کو ملانے والی اس ریلوے لائن پر مجموعی لاگت تقریباً 4.7 ارب ڈالر لگنے کا تخمینہ ہے۔ اس رقم کا نصف حصہ چین کی جانب سے قرض کی صورت میں فراہم کیا جائے گا جبکہ باقی رقم تینوں ممالک کی مشترکہ سرمایہ کاری سے پوری کی جائے گی۔ مشترکہ کمپنی میں چین کا حصہ 51 فیصد جبکہ کرغزستان اور ازبکستان کا حصہ بالترتیب 24.5 فیصد ہوگا۔

منصوبے کے تحت کرغزستان کے اندر تقریباً 304 کلومیٹر طویل ریلوے لائن بچھائی جائے گی، جس میں دشوار گزار پہاڑی علاقوں کو عبور کرنے کے لیے 50 پل اور 29 سرنگیں تعمیر کی جائیں گی۔ ان پلوں اور سرنگوں کی مجموعی لمبائی تقریباً 120 کلومیٹر ہوگی، جس کا مقصد محفوظ اور مؤثر ریلوے نقل و حمل کو یقینی بنانا ہے۔

کرغزستان کی کابینہ کے پریس دفتر کے مطابق یہ معاہدہ چین–کرغزستان–ازبکستان ریلوے کمپنی اور چین کے ترقیاتی بینک اور ایکسپورٹ امپورٹ بینک پر مشتمل کنسورشیم کے درمیان طے پایا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ منصوبہ عملی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور اس کی تکمیل کے بعد تینوں ممالک کے درمیان ریلوے رابطہ نمایاں طور پر بہتر ہو جائے گا، جس سے علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔

یہ ریلوے منصوبہ وسطی ایشیا میں ایک اسٹریٹجک حیثیت رکھتا ہے اور اس کا مقصد چین کے ریلوے نیٹ ورک کو وسطی ایشیائی ممالک کے ذریعے یورپ سے جوڑنا ہے۔ اس منصوبے کا تصور پہلی بار 2010 کی دہائی کے آغاز میں پیش کیا گیا تھا اور بعد ازاں تین ملکی تعاون کے تحت اسے آگے بڑھایا گیا۔

ریلوے لائن چین کے سنکیانگ صوبے سے شروع ہو کر کرغزستان کے راستے ازبکستان تک جائے گی، جہاں یہ موجودہ ریلوے نیٹ ورک سے منسلک ہو جائے گی۔ اس منصوبے سے نہ صرف ٹرانزٹ اور لاجسٹکس میں بہتری آئے گی بلکہ برآمدات و درآمدات میں اضافے اور خطے کی مجموعی معاشی ترقی میں بھی مدد ملے گی۔

رپورٹس کے مطابق تاجکستان نے بھی اس منصوبے میں شمولیت میں دلچسپی ظاہر کی ہے اور 2025 میں تاجک حکام نے چین کے ساتھ مذاکرات کے دوران اس ریلوے منصوبے میں اپنا کردار بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ ماہرین کے نزدیک یہ منصوبہ وسطی ایشیا کو ایشیا اور یورپ کے درمیان ایک اہم تجارتی پل میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

مشہور خبریں۔

صیہونی حکومت کی ایٹمی تنصیبات پر قطر کا اعتراض

?️ 10 مارچ 2025سچ خبریں: الٹرا آرتھوڈوکس میڈیا کے مطابق، قطر کی وزارت خارجہ نے

یوکرین جنگ پر مغرب کے پاس اتحاد کا فقدان: زیلینسکی

?️ 25 مئی 2022سچ خبریں:  یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی جو اپنے ملک کی حمایت

بائیڈن انتظامیہ کا تائیوان کو 1.1 بلین ڈالر کے ہتھیار فروخت کرنے پر غور

?️ 30 اگست 2022سچ خبریں:   تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت اور جزیرے پر علیحدگی پسندانہ

اسرائیلی جیلیں گواتنامہ جیسی ہیں:اسرائیلی سپریم کورٹ 

?️ 19 اگست 2025اسرائیلی جیلیں گواتنامہ جیسی ہیں:اسرائیلی سپریم کورٹ صہیونی ذرائع کے مطابق، اسرائیلی

خطے میں کشیدگی: سائبرحملوں کے خطرات سے متعلق ایڈوائزری جاری

?️ 28 اپریل 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) نیشنل سرٹ نے خطے میں کشیدگی کے پیش

امریکہ ہمارے اندرونی معاملات میں کھلم کھلا مداخلت کر رہا ہے:روس

?️ 26 نومبر 2022سچ خبریں:واشنگٹن میں روسی سفارت خانے نے ایک بیان میں اعلان کیا

بائیڈن کی حکومت میں ریاض اور واشنگٹن کے درمیان ہتھیاروں کا بڑا سودا

?️ 5 نومبر 2021سچ خبریں:  امریکی محکمہ دفاع نے اعلان کیا کہ امریکی محکمہ خارجہ

اسرائیل کے پاس قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے پر دستخط کے سوا کوئی چارہ نہیں

?️ 22 جنوری 2024سچ خبریں:موساد کے سابق سربراہ نے کہا کہ تل ابیب کے پاس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے