پرانی فیکٹریوں کو اسلحہ ساز فیکٹریوں میں تبدیل کرنے کا برطانوی منصوبے بے نقاب ہو گیا

برطانیہ

?️

پرانی فیکٹریوں کو اسلحہ ساز فیکٹریوں میں تبدیل کرنے کا برطانوی منصوبے بے نقاب ہو گیا

انگلینڈ کی وزارتِ دفاع کے بارے میں ایک نئی میڈیا رپورٹ نے انکشاف کیا ہے کہ برطانیہ نیٹو کے دباؤ کے تحت ملک بھر کی کم از کم 12 متروکہ تیل صاف کرنے والی تنصیبات اور کیمیکل کارخانوں کو اسلحہ اور بارودی مواد بنانے والی فیکٹریوں میں تبدیل کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ اس خفیہ منصوبے کو ’’پروجیکٹ نوبل‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔

برطانوی اخبار گارڈین کے مطابق یہ معلومات ایک درخواستِ معلومات کے جواب میں سامنے آئی ہیں، جہاں وزارتِ دفاع کے بعض حساس حصے مناسب طور پر حذف نہ کیے گئے تھے۔ ان دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت ٹی این ٹی، آر ڈی ایکس اور نائٹرو سیلولوز جیسے بارودی مواد کی بڑے پیمانے پر پیداوار کے لیے اندرونِ ملک ایک نئی صنعتی بنیاد قائم کرنا چاہتی ہے۔

وزارتِ دفاع، وزارتِ تجارت اور صنعتی حفاظتی اداروں نے انگلینڈ، اسکاٹ لینڈ اور ویلز میں درجنوں چھوڑے گئے صنعتی مراکز کا جائزہ لیا ہے۔ اس فہرست میں سب سے اہم نام اسکاٹ لینڈ کے گرینگ مَوتھ کا ہے، جہاں برطانیہ کی سب سے پرانی آئل ریفائنری رواں سال بند ہوئی۔ دیگر مقامات میں شمال مشرقی انگلینڈ کا تیسائیڈ، ویلز کی میلفورڈ ہیون ریفائنری، کمبریا کے صنعتی مقامات اور اسکاٹ لینڈ کی لاخ لانگ کے قریب تنصیبات شامل ہیں۔ لاخ لانگ کے کنارے یورپ کے سب سے بڑے زیرِ زمین اسلحہ ذخائر میں سے ایک موجود ہے۔

دستاویزات کے مطابق ان متروکہ ریفائنریوں اور کیمیکل پلانٹس کا بنیادی فائدہ یہ ہے کہ وہاں پہلے ہی حفاظتی جائزے ہو چکے ہیں، ریل، سڑک، بندرگاہ اور توانائی کا انفراسٹرکچر موجود ہے اور ان علاقوں میں بھاری صنعت کا تجربہ رکھنے والی بڑی تعداد میں افرادی قوت بیکار پڑی ہے۔ اس وجہ سے یہ مقامات بارودی مواد کی تیاری کے لیے ’’ترجیحی‘‘ قرار دیے گئے ہیں۔

وزارتِ دفاع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ دفاعی حکمتِ عملی کے تحت کم از کم چھ نئی فیکٹریوں اور مستقل کام کرنے والی پروڈکشن لائن کے لیے تقریباً ڈیڑھ ارب پاؤنڈ مختص کر چکی ہے، البتہ حتمی مقامات کا انتخاب ابھی باقی ہے۔ یہ منصوبہ اس بڑے دفاعی جائزے کا حصہ ہے جس میں حکومت نے اندرونِ ملک اسلحہ سازی بڑھانے، بیرونی سپلائی چین پر انحصار کم کرنے اور نیٹو کے اندر اپنی حیثیت مضبوط بنانے کا ہدف رکھا ہے۔

رپورٹس کے مطابق حکومت سات ہزار طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل اور دیگر اسلحہ بھی مقامی سطح پر تیار کرنا چاہتی ہے۔ یورپی میڈیا نے اس حکمتِ عملی کو براعظم میں ’’اقتصادِ جنگ‘‘ کی طرف تیزی سے بڑھنے کا حصہ قرار دیا ہے، جس کی ایک وجہ یوکرین کی جنگ اور امریکی دباؤ ہے۔

پروجیکٹ نوبل کا عملی پہلو برطانوی دفاعی صنعت کی بڑی کمپنیوں سے جڑا ہے۔ مثال کے طور پر بی اے ای سسٹمز نے اعلان کیا ہے کہ وہ 155 ملی میٹر توپوں کے گولوں کی تیاری کو اگلے سال گرمیوں تک 16 گنا بڑھا دے گی۔ اس فیصلے کے پیچھے یوکرین کو بھیجے گئے لاکھوں گولے اور نیٹو کی جانب سے اسلحے کے ذخائر پورے کرنے کے مطالبات شامل ہیں۔

اس منصوبے کا سب سے زیادہ سیاسی ردعمل اسکاٹ لینڈ میں دیکھا جا رہا ہے، جہاں مقامی حکومت کا کہنا ہے کہ اسے اس بارے میں تفصیلی معلومات نہیں دی گئیں اور وہ لندن سے فوری وضاحت چاہتی ہے۔ اسکاٹ لینڈ کے حکام نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی ہے کہ بغیر مقامی مشاورت کے ایسے حساس کارخانوں کے قیام سے سیکیورٹی اور ماحولیاتی خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔

گارڈین کے مطابق ان فزیبلٹی اسٹڈیز میں وہی کمپنیاں شامل ہیں جو حالیہ برسوں میں نیٹو کی بڑی اسلحہ ساز ٹھیکے دار اور اسرائیلی فوج کے سپلائر کے طور پر سامنے آئی ہیں۔ اسکاٹ لینڈ پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ اسرائیلی فوج کے لیے اسلحہ بنانے والے اداروں کو عوامی فنڈنگ سے محروم کیا جا سکتا ہے، لیکن اسی دوران یہی کمپنیاں برطانیہ کی دفاعی حکمتِ عملی کا مرکزی حصہ بنتی جا رہی ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پروجیکٹ نوبل اس بات کی علامت ہے کہ کس طرح معاشی، توانائی اور سیکیورٹی بحرانوں نے برطانیہ کے صنعتی ڈھانچے کو ایک مستقل عسکری معیشت کی طرف دھکیل دیا ہے۔ ناقدین کے مطابق حکومت نے صنعتوں کے سبز یا کم کاربن متبادل کی جانب منتقلی کے بجائے، انہی زوال پذیر صنعتی مراکز کو بارودی مواد اور اسلحے کی پیداوار کے اڈوں میں بدلنے کا راستہ چنا ہے، جس کے نتیجے میں نہ صرف ماحولیاتی خدشات بڑھیں گے بلکہ ملک کا اقتصادی ڈھانچہ طویل مدت تک جنگی تیاریاں برقرار رکھنے کے بوجھ میں جکڑ سکتا ہے۔

مشہور خبریں۔

امریکہ سے اسرائیل: ہم غزہ میں جنگ بندی کو فوجی کارروائیوں پر ترجیح دیتے ہیں

?️ 10 مئی 2025سچ خبریں: اسرائیلی کابینہ کے ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی

انتخابی اصلاحات اور الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں سے متعلق قانون اگلے ہفتے منظور کرالیا جائے گا

?️ 14 نومبر 2021پشاور(سچ خبریں) وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی شبلی فراز کا کہنا ہے

یورپ امریکہ سے اپنا راستہ کیوں الگ کرے؟

?️ 14 جنوری 2023سچ خبریں:سویڈن میں تھنک ٹینک ٹرانس نیشنل فاؤنڈیشن فار پیس اینڈ فیوچر

نیٹو کا مشرقی یورپ میں مستقل فوجی اڈے قائم قائم کرنے پرغور

?️ 11 اپریل 2022سچ خبریں:نیٹو کےسکریٹری جنرل نے روس کے ساتھ ملحقہ مشرقی یورپی سرحد

امریکی وزیر خارجہ بار بار مشرق وسطی کیوں دوڑے چلے آتے ہیں ؟

?️ 11 جنوری 2024سچ خبریں: غزہ کے مسئلے کے بعد دوسرے روایتی اتحادیوں کے ذریعے

قطر کی حکومتی کمپنیاں کراچی اور اسلام آباد ائیرپورٹس کو چلائیں گی۔

?️ 25 اگست 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ پاشا نے اعلان

قطر نے پاکستان کو ایل پی جی دینے کا عندیہ دے دیا

?️ 24 اگست 2022 اسلام آباد: (سچ خبریں) قطر نے پاکستان کو ایل پی جی

 پنجاب حکومت نے وہ کام کیے جو کوئی صوبہ نہیں کررہا ہے

?️ 25 اگست 2021لاہور(سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان نے لاہور میں پنجاب ایجوکیشن کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے