پاکستان بھارت کے ساتھ کشیدگی کے دوران امریکا کے ساتھ کیسے تعلقات مضبوط کر رہا ہے؟

پاکستان

?️

پاکستان بھارت کے ساتھ کشیدگی کے دوران امریکا کے ساتھ کیسے تعلقات مضبوط کر رہا ہے؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں پاکستان پر سخت الزامات لگانے کے بعد، ان کے دوسرے دور میں اسلام آباد نے واشنگٹن کے ساتھ تعلقات میں نیا توازن قائم کر لیا ہے۔ بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدگی اور امریکہ کی سخت تجارتی پالیسی نے پاکستان کو ٹرمپ کی توجہ حاصل کرنے اور بھاری ٹیرف سے بچنے کا موقع فراہم کیا ہے۔
برطانوی روزنامہ فائننشل ٹائمز کے مطابق، پاک فوج کے سربراہ جنرل سید عاصم منیر نے رواں سال دوسری بار امریکہ کا سرکاری دورہ کیا، جہاں انہوں نے امریکی فوجی کمانڈ کے تبادلہ کمان کی تقریب میں شرکت کی اور امریکی چیئف آف جوائنٹ اسٹاف کو پاکستان آنے کی دعوت دی۔ جون میں، پاک-بھارت خونریز جھڑپ کے صرف ایک ماہ بعد، جنرل منیر نے واشنگٹن میں صدر ٹرمپ کے ساتھ دو گھنٹے کا ورکنگ لنچ بھی کیا۔
ٹرمپ کے پہلے دور میں پاکستان پر جھوٹ اور فریب کے الزامات لگانے کے بعد، ان کے دوبارہ صدر بننے پر یہ خدشہ تھا کہ تعلقات مزید بگڑیں گے۔ لیکن اس کے برعکس، دونوں ممالک کے تعلقات میں گرمجوشی آئی ہے جبکہ بھارت، جو ماضی میں ٹرمپ کا قریبی اتحادی تھا، اس وقت واشنگٹن کی ناراضی کا سامنا کر رہا ہے۔ امریکہ نے پاکستان پر نسبتاً ہلکا 19 فیصد درآمدی ٹیرف عائد کیا جبکہ بھارت کو 50 فیصد کے بھاری ٹیرف کا نشانہ بنایا۔
گزشتہ ماہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان ایک تجارتی معاہدہ طے پایا، اور ٹرمپ نے پاکستان کے وسیع تیل کے ذخائر میں سرمایہ کاری کا عندیہ دیا۔ اس سے قبل، مارچ میں، پاکستانی انٹیلیجنس نے داعش خراسان کے ایک اہم دہشتگرد کو گرفتار کر کے امریکہ کے حوالے کیا، جو 2021 کے کابل حملے میں ملوث تھا۔ اس اقدام پر ٹرمپ نے پاکستان کی کھل کر تعریف کی۔
پاکستان نے کرپٹو ڈپلومیسی کے ذریعے ٹرمپ کے قریبی حلقے تک رسائی حاصل کی، جہاں ٹرمپ کی حمایت یافتہ کمپنی نے پاکستانی کرپٹو کونسل سے معاہدہ کیا۔ مئی میں بھارت کے ساتھ جھڑپ کے دوران پاکستان نے چند بھارتی طیارے مار گرائے لیکن بڑے پیمانے پر کشیدگی سے گریز کیا۔ اس رویے کو بھی ٹرمپ نے سراہا اور آتش بس میں ثالثی کا دعویٰ کیا، اگرچہ بھارت نے اس مؤقف کی تردید کی۔
جنرل منیر نے ایران پر اسرائیلی حملوں اور خطے میں کشیدگی کے دوران امریکہ کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان ایران، چین اور دیگر ممالک کے ساتھ رابطے کا ایک قابل اعتماد ذریعہ ہے۔ یہ کردار 1970 کی دہائی میں چین-امریکہ تعلقات میں پاکستان کے تاریخی کردار کی یاد دلاتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، اگر ٹرمپ نے بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کا فیصلہ کیا تو وہ پاکستان پر دباؤ بڑھا سکتے ہیں۔ امریکہ، اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے بھی پاکستان پر زور دے سکتا ہے، لیکن ملکی عوام کی شدید مخالفت کے باعث یہ ممکن نہیں دکھائی دیتا۔
سابق وزیرِاعظم شاہد خاقان عباسی نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کو ٹرمپ کی غیر متوقع پالیسیوں سے محتاط رہنا چاہیے اور اپنے مفادات اور وقار کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے۔

مشہور خبریں۔

امریکہ اسرائیل کی سلامتی کے لیے پر عزم

?️ 16 نومبر 2021سچ خبریں:امریکی نائب وزیر خارجہ نے اسرائیل کی سلامتی کے لیے اپنے

ہمیں بطخوں کی طرح شکار کیا جاتا ہے، ہم محفوٖظ نہیں ہے: اسرائیلی اہلکار

?️ 31 مئی 2023سچ خبریں:صہیونی میڈیا نے آج سہ پہر ایک صہیونی آبادکار کی ہلاکت

شام میں ترکی کے میزائل حملے

?️ 22 دسمبر 2021سچ خبریں:شامی ذرائع نے آج صوبہ حسکہ میں ترک فوج اور اس

ایران کے ساتھ مذاکرات اس ہفتے دوبارہ شروع ہوں گے: سینئر امریکی اہلکار

?️ 27 جون 2022واشنگٹن پوسٹ نے خبر دی ہے کہ ایک اعلیٰ امریکی اہلکار نے

ٹرمپ ایران کے جال میں پھنس گئے ہیں:برطانوی اخبار

?️ 4 مئی 2026سچ خبریں:برطانوی اخبار ٹیلی گراف نے دعویٰ کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ

امریکہ میں فلسطین کے حامیوں نے کرسمس کی تقریبات میں خلل ڈالا

?️ 26 دسمبر 2023سچ خبریں:نیو یارک شہر میں فلسطین کے حامیوں کی جانب سے زبردست

چیف جسٹس نے نگران حکومت پر سوالات اٹھادیے

?️ 24 اکتوبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے ملک بھر

جنگ بندی کا معاہدہ اسرائیل کی توہین ہے: بن گویر

?️ 23 جنوری 2025سچ خبریں: اسرائیل کے داخلی سلامتی کے وزیر اٹمر بن گوبر  نے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے