پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی کشیدگی 

پاکستان

?️

پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی کشیدگی
ہانگ کانگ کے روزنامہ ساوتھ چائنا مارننگ پوسٹ نے اپنی تازہ رپورٹ میں لکھا ہے کہ اگرچہ ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان مکمل جنگ کے امکانات کم ہیں، لیکن دونوں ممالک کے درمیان سیاسی یا سفارتی حل تلاش کرنا بھی دن بدن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، پاکستان نے حالیہ خونریز سرحدی جھڑپوں کے بعد خبردار کیا ہے کہ اگر مستقبل میں افغان سرزمین سے دہشت گرد حملے کیے گئے تو اسلام آباد وسیع فوجی کارروائی سے جواب دے گا۔یہ بیان ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان طویل مدتی کشیدگی کی بنیاد بن سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جمعرات کے روز پاکستان کی جوابی فضائی کارروائیوں کے بعد شروع ہونے والی جھڑپیں شاید مکمل جنگ میں نہ بدلیں، مگر دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد کا فقدان کسی مفاہمت کو ناممکن بنا رہا ہے۔
پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا کہ "پاکستان کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، اور کسی بھی حملے کا جواب سختی سے دیا جائے گا۔”
دوسری طرف طالبان حکومت نے خبردار کیا ہے کہ وہ پاکستان کی جانب سے افغان فضائی حدود کی خلاف ورزی کو برداشت نہیں کرے گی۔
افغان وزیر خارجہ امیرخان متقی، جو حال ہی میں بھارت کے دورے پر تھے، نے کہا کہ "ہم مذاکرات کے لیے تیار ہیں، لیکن اگر پاکستان نے بات چیت کا موقع ضائع کیا تو ہمارے پاس اور بھی راستے موجود ہیں۔اس پر پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف نے جواب دیا: "اگر طالبان واقعی کارروائی کرنا چاہتے ہیں تو کر کے دکھائیں، پھر بات کریں گے۔
آصف کے مطابق، اس وقت دونوں ملکوں کے درمیان نہ کوئی براہِ راست اور نہ ہی غیر مستقیم رابطہ موجود ہے، اور صورتحال کسی بھی وقت دوبارہ بگڑ سکتی ہے۔
قطر اور سعودی عرب کی سفارتی کوششوں سے اتوار کی رات عارضی طور پر جھڑپیں رک گئیں، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ زمینی حقیقت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
پاکستان کی کارروائی اس وقت ہوئی جب تحریک طالبان پاکستان (TTP) کے حملوں میں کئی فوجی افسران اور سپاہی مارے گئے۔اس کے بعد پاکستان نے افغان علاقے پکتیکا اور کابل میں TTP کے کیمپوں کو نشانہ بنایا۔
رپورٹ کے مطابق، پاکستان نے حملوں میں امریکی ایف-16 طیارے اور چینی ونگ لونگ-2 ڈرونز استعمال کیے، جب کہ افغان فورسز نے جوابی فائرنگ میں آٹھ مختلف سرحدی علاقوں کو نشانہ بنایا۔
رپورٹ کے مطابق، متقی کے بھارت دورے کے دوران افغانستان اور بھارت نے دہشت گردی کے ہر اقدام کی مذمت کی، جو بالواسطہ طور پر پاکستان پر تنقید تھی۔
ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان کے حملے طالبان کے بھارت سے بڑھتے تعلقات پر سخت پیغام تھے کہ اس کے نتائج بھگتنے ہوں گے۔
چین نے دونوں ممالک سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مذاکرات کے ذریعے اختلافات حل کرنے کی اپیل کی ہے۔چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لین جیان نے کہا کہ "بیجنگ دونوں ممالک کے درمیان امن و استحکام کے لیے تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔
واشنگٹن کے ماہر مائیکل کوگلمن کا کہنا ہے کہ اس بحران کی جڑ دو حقیقتوں میں ہے:طالبان کبھی اپنے قریبی اتحادی TTP کے خلاف کارروائی نہیں کرے گا۔امریکہ کے انخلا کے بعد طالبان کو اب پاکستان کی حمایت کی ضرورت نہیں رہی، اس لیے اسلام آباد کا اثر و رسوخ کم ہو گیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، افغانستان میں حالات ایک بار پھر پراکسی جنگ کی طرف جا رہے ہیں۔پاکستانی مبصر افتخار فردوس کے مطابق، عالمی طاقتوں کے بدلتے توازن اور نئی جیوپولیٹیکل صف بندیوں کے ساتھ، افغانستان ممکنہ طور پر ایک طویل نیابتی تنازع کی طرف بڑھ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ طالبان حکومت کے اندرونی اختلافات اور نظریاتی تقسیم اس بات کا اشارہ ہیں کہ افغانستان ایک نئی طاقت کی ازسرنو تقسیم کے دہانے پر کھڑا ہے۔

مشہور خبریں۔

الاقصیٰ طوفان میں اسرائیل کو پہنچنے والا نقصان

?️ 26 نومبر 2023سچ خبریں:صیہونی حکومت کی موجودہ جنگ نے اس کی معیشت کو کس

لیبیا پر ہمارا حملہ غلط تھا: فرانسوی صدر میکرون

?️ 11 اکتوبر 2021سچ خبریں: فرانسیسی صدر نے افریقہ کے حوالے سے ملک کی ماضی

"امل” اور حزب اللہ کے بغیر اہم فیصلے برداشت نہیں کیے جا سکتے: لبنانی وزیر

?️ 7 اگست 2025سچ خبریں: لبنان کے وزیر انتظامی ترقی فادی مکی نے المیادین سے

راجا پرویز اشرف بلامقابلہ اسپیکر قومی اسمبلی منتخب

?️ 15 اپریل 2022اسلام آباد(سچ خبریں)متحدہ اپوزیشن کے رہنماء راجا پرویز اشرف بلامقابلہ اسپیکر قومی

مریم نواز کی بھارت سے آنے والے پاکستانی مریضوں کے مفت علاج کی ہدایت

?️ 5 مئی 2025لاہور (سچ خبریں) وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف نے بھارت سے علاج

پاکستان میں دہشت گردانہ حملے

?️ 30 ستمبر 2023سچ خبریں:یمن کی وزارت خارجہ نے پاکستان میں ہونے والے دہشت گردانہ

جرمنی کا سیاہ ریکارڈ: صدام کو اسلحہ فراہمی سے لے کر اسرائیلی جارحیت کی سفاکی تک

?️ 12 جولائی 2025سچ خبریں: جب بین الاقوامی برادری کو صیہونی ریاست کے ایران پر حملے

متحدہ عرب امارات کی مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ خیانت

?️ 16 مئی 2021سچ خبریں:عبرانی ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ ایک اماراتی عہدیدار

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے