?️
سچ خبریں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سینئر معاشی مشیر پیٹر ناوارو نے یوکرین میں جاری جنگ کو بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جنگ قرار دیتے ہوئے انڈیا پر امریکا کے خلاف تجارتی جنگ چھیڑنے کا الزام عائد کیا ہے۔
خبر رساں ادارے بلومبرگ ٹیلی ویژن کے ساتھ ایک انٹرویو میں ناوارو نے یہ بیان اس وقت دیا جب ٹرمپ انتظامیہ نے انڈیا سے درآمد ہونے والی تمام مصنوعات پر 50 فیصد اضافی محصولات عائد کر دیے۔
ناوارو نے کہا کہ انڈیا جو کچھ کر رہا ہے اس کی وجہ سے امریکا میں ہر شخص کو نقصان ہو رہا ہے۔ صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان ہو را ہے، مزدوروں کو نقصان ہو رہا ہے کیونکہ انڈیا کے زیادہ محصولات ہمارے روزگار، فیکٹریوں اور آمدنی پر بھاری ہیں۔ امریکی ٹیکس دہندگان کو بھی نقصان ہو رہا ہے کیونکہ ہمیں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جنگ کو فنڈ کرنا پڑ رہا ہے۔
جب ناوارو سے پوچھا گیا کہ کیا ان کا مطلب روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی جنگ تھا، تو انہوں نے اپنی بات پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ میرا مطلب مودی کی جنگ ہے، کیونکہ امن کا راستہ، جزوی طور پر، نئی دہلی سے گزرتا ہے۔
ناوارو نے استدلال کیا کہ انڈیا روس سے رعایتی ریٹ پر خام تیل خرید کر اسے پاکر منافع پر بیچ کر روسی جنگی مشین کو تقویت پہنچا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حل واقعی آسان ہے۔ اگر انڈیا روسی تیل کی خریداری بند کر دے، تو وہ فوری طور پر محصولات میں 25 فیصد رعایت حاصل کر سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ کے حکم پر امریکی حکومت نے بدھ کے روز انڈیا سے درآمد ہونے والی تمام مصنوعات پر تقریباً 50 فیصد محصولات نافذ کر دیے، جن میں سے آدھے کو روسی تیل کی خریداری کے ‘سزا’ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔
50 فیصد کی شرح تک پہنچنے کا عمل گزشتہ ہفتوں میں تیز ہوا۔ ٹرمپ نے 30 جولائی کو ہندوستانی مصنوعات پر 25 فیصد محصولات عائد کرنے کا اعلان کیا تھا اور 6 اگست کو اعلان کیا تھا کہ روس سے تیل کی خریداری جاری رکھنے پر 27 اگست سے مزید 25 فیصد اضافی محصولات عائد کیے جائیں گے۔ وائٹ ہاؤس نے اس دوسرے حصے کو ماسکو کے لیے تیل کی آمدنی تک رسائی مشکل بنانے کے لیے ‘ثانوی محصولات’ قرار دیا ہے۔
امریکی صدر برسوں سے انڈیا کو ‘محصولات کا بادشاہ’ کہتے رہے ہیں اور نئی دہلی پر گھریلو مارکیٹ کی محافظت کا الزام لگاتے ہیں، جس میں سخت محصولات اور معیارات شامل ہیں، یہ ایسے مسائل ہیں جن کا پہلے کچھ امریکی مصنوعات جیسے موٹرسائیکل اور گولف کے سامان کی برآمدات پر اثر پڑا ہے۔ اس سال دونوں ممالک کے درمیان تجارتی مذاکرات سست رہے اور ہندوستانی کسانوں کے تحفظ کو ایک حساس مسئلہ قرار دیا گیا۔
نئی دہلی کی واشنگٹن کو راضی کرنے کی کوششیں، جس میں توانائی اور امریکی دفاعی سامان کی خریداری میں اضافہ شامل تھا، بشمول 2025 کی پہلی سہ ماہی میں امریکا سے توانائی کی درآمدات میں 70 فیصد اضافہ ہو کر 6.6 بلین ڈالر ہو گیا، ٹرمپ کے محصولاتی فیصلے کو روک نہ سکیں۔
Short Link
Copied
مشہور خبریں۔
مولانا فضل الرحمٰن نے انتخابات میں تاخیر کا ذمہ دار پیپلز پارٹی کو ٹھہرا دیا
?️ 8 ستمبر 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی-ف) کے امیر اور
ستمبر
افریقی عوام فرانس اور غیر ملکی ایجنٹوں کا انخلاء کیوں چاہتی ہے؟
?️ 16 اگست 2023سچ خبریں:حالیہ دنوں میں، نائیجر نے ملک کے صدر محمد بازوم کی
اگست
یوکرین نے روسی کتابوں اور موسیقی پر پابندی لگائی
?️ 20 جون 2022سچ خبریں: یوکرین کی پارلیمنٹ نے اتوار کو دو بلوں کے
جون
عمران خان سیاست دان ہیں وہ سب جانتے ہیں:آرمی چیف
?️ 26 اپریل 2021لاہور(سچ خبریں)چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے 2ہ سے
لاہور میں عمران خان کی سیکیورٹی خیبرپختونخوا پولیس کے سپرد، پنجاب پولیس نالاں
?️ 15 نومبر 2022لاہور:(سچ خبریں) لاہور میں سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف
نومبر
روس کا بی بی سی کے نامہ نگار کو نکال کر برطانوی تخریب کاری کا جواب
?️ 14 اگست 2021سچ خبریں:روسی صحافیوں کے خلاف لندن کی لاپرواہی اور تخریبی کاروائی کے
اگست
ترکی میں براہ راست نشریات کے دوران صہیونی صحافی گرفتار
?️ 16 نومبر 2021سچ خبریں:ترک سکیورٹی فورسز نے استنبول میں ایک صیہونی صحافی کو لائیو
نومبر
ثاقب نثار کے بیٹے کی آڈیو لیک کی تحقیقات ایف آئی اے سے کرانے کا فیصلہ
?️ 9 مئی 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی نے سابق چیف
مئی