?️
ٹرمپ نے روس کے ساتھ جنگ شروع کر دی ہے:روسی سلامتی کے نائب سربراہ
روس کی سلامتی کونسل کے نائب سربراہ دیمتری مدویدف نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نئی پابندیاں عائد کر کے اور بوڈا پیسٹ میں ولادیمیر پوٹن سے ملاقات منسوخ کر کے دراصل روس کے ساتھ جنگ شروع کر دی ہے۔ ان کے بقول، امریکہ روس کا دشمن ہے اور "امن کا شور مچانے والا” ملک بن گیا ہے۔
مدویدف نے جمعرات، یکم نومبر 2025 کو اپنے ٹیلیگرام پیغام میں لکھا ٹرمپ نے بوڈا پیسٹ اجلاس منسوخ کر دیا، امریکہ نے روس پر نئی پابندیاں لگا دیں اب باقی کیا رہ گیا ہے؟ کیا وہ ٹام ہاک میزائلوں کے علاوہ نئے ہتھیار بھی استعمال کرے گا؟
انہوں نے مزید کہا کہ اگر کسی تجزیہ کار کو اب بھی امریکہ سے تعلقات بہتر ہونے کا گمان تھا تو اب اسے حقیقت سمجھ لینی چاہیے امریکہ ہمارا دشمن ہے اور اس نے مکمل طور پر روس کے خلاف جنگ چھیڑ دی ہے۔
مدویدف کے مطابق، اگرچہ ٹرمپ براہ راست کیف کے باندرائی گروہ کے ساتھ نہیں لڑ رہا، لیکن یہ جنگ اب اس کی ہے، "بوڑھے بائیڈن” کی نہیں۔ انہوں نے امریکی جوازات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کے اقدامات کو کانگریس کے دباؤ یا داخلی سیاست کے بہانے چھپایا نہیں جا سکتا۔
روسی رہنما نے کہا یہ تمام فیصلے روس کے خلاف جنگی اقدام ہیں۔ ٹرمپ اب مکمل طور پر یورپ کے ’دیوانے‘ رہنماؤں کے ساتھ صف آرا ہو چکا ہے۔
مدویدف نے کہا کہ اس صورت حال کا ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ روس اب "باندرائی” ٹھکانوں کو بغیر کسی غیرضروری مذاکرات کے ہدف بنا سکتا ہے۔ ان کے بقول، روس کی کامیابی میز پر نہیں بلکہ میدانِ جنگ میں دشمن کو ختم کر کے حاصل ہوگی۔
مدویدف کا اشارہ استپان باندرہ کی طرف تھا، جو دوسری جنگ عظیم میں یوکرین کا ایک انتہا پسند قوم پرست رہنما اور نازی جرمنی کا حامی تھا۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب امریکی وزارت خزانہ نے روس کی دو بڑی تیل کمپنیوں روسنیفت (Rosneft) اور لوک آئل (Lukoil) پر نئی پابندیاں عائد کیں۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بسنت نے کہا کہ "اب وقت آ گیا ہے کہ روس اس بے معنی جنگ کو ختم کرے۔ جب تک صدر پوٹن جنگ جاری رکھیں گے، امریکہ ان کمپنیوں کو نشانہ بناتا رہے گا جو روس کی جنگی مشین کو مالی مدد فراہم کرتی ہیں۔”
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی وائٹ ہاؤس میں نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے کے ساتھ ملاقات کے دوران کہا کہ وہ امید کرتے ہیں روس اور یوکرین دونوں رہنماؤں میں "عقل مندی” پیدا ہو تاکہ جنگ کا خاتمہ ممکن ہو۔ تاہم، انہوں نے وضاحت کی کہ ہم فی الحال پوٹن سے ملاقات کے لیے تیار نہیں ہیں، لیکن مستقبل میں یہ ممکن ہے۔”
یاد رہے کہ ٹرمپ نے اپنے دوسرے دورِ صدارت (فروری 2025 سے) کے آغاز پر وعدہ کیا تھا کہ وہ روس-یوکرین جنگ کا خاتمہ کریں گے، مگر اب تک یہ وعدہ پورا نہیں ہو سکا۔
روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے بھی حال ہی میں کہا تھا کہ مغرب اپنی پالیسیاں بدلنے کے بجائے توانائی کی عالمی منڈی میں مصنوعی بحران پیدا کر رہا ہے، لیکن روس نے اس کے مقابلے کے لیے نئے تجارتی راستے اور مالیاتی نظام قائم کر لیے ہیں۔
جنگِ یوکرین 2022 میں اس وقت شروع ہوئی جب روس نے نیٹو کی مشرقی توسیع کے خلاف اپنے سلامتی خدشات”کو نظرانداز کیے جانے پر حملہ کیا۔ مغربی ممالک نے اس کے جواب میں یوکرین کو بڑے پیمانے پر فوجی امداد فراہم کی اور اب تک روس پر 30 ہزار سے زائد پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
پاکستان امریکہ کو اپنے ہوائی اڈے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا
?️ 19 جون 2021اسلام آباد (سچ خبریں) تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے غیر
جون
بن سلمان کے لیے تخت تک پہنچنے کی سب سے بڑی رکاوٹ
?️ 19 جنوری 2022سچ خبریں:ایک برطانوی ویب سائٹ نے اپنی ایک رپورٹ میں محمد بن
جنوری
صیہونی حکومت کے جال میں پھنسنے سے بچنے میں حزب اللہ کی ہوشیار پوزیشن
?️ 26 نومبر 2025سچ خبریں: رائی ال یوم کے چیف ایڈیٹر نے یہ بیان کرتے
نومبر
کیا ٹیکس اہداف کے حصول میں ناکامی پر منی بجٹ آئے گا؟
?️ 3 نومبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) عالمی مالیاتی فنڈ پاکستان کی معاشی پیش رفت
نومبر
امن ایسا ہونا چاہیے جو عزت کے ساتھ ہو
?️ 25 نومبر 2025امن ایسا ہونا چاہیے جو عزت کے ساتھ ہو یوکرین کے صدر
نومبر
پنجاب میں تعلیمی ادارے بند نہیں ہوٕں گے
?️ 22 جنوری 2022لاہور (سچ خبریں) وزیرتعلیم پنجاب کا کہنا ہے کہ پنجاب میں فی
جنوری
سید حسن نصراللہ کی دھمکیوں کا صیہونیوں پر اثر؛صیہونی وزیر داخلہ کی زبانی
?️ 16 اکتوبر 2022سچ خبریں:صیہونی وزیر داخلہ نے اعتراف کیا ہے کہ لبنان کے ساتھ
اکتوبر
ایرانیوں نے عین الاسد پر حملہ میں جہاں چاہا مارا: سینٹ کام کے کمانڈر
?️ 28 دسمبر 2021سچ خبریں:سینٹ کام دہشت گرد فورسز کے کمانڈر کا کہنا ہے کہ
دسمبر