?️
وینزویلا پر حملے کا مقصد دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر تک رسائی ہے
جرمنی کے روزنامہ فوکس نے امریکا کی جانب سے وینزویلا پر فوجی حملے کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ منشیات کے خلاف کارروائی محض ایک بہانہ ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اصل ہدف دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر پر کنٹرول حاصل کرنا ہے۔
ایرنا کے مطابق جرمن اخبار نے لکھا کہ اگرچہ وائٹ ہاؤس وینزویلا پر حملے کو منشیات کی اسمگلنگ پر قابو پانے سے جوڑ رہا ہے، تاہم اس اقدام کے پیچھے کہیں زیادہ پیچیدہ معاشی اور سیاسی محرکات کارفرما ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہفتے کی صبح دنیا نے سانس روکے جنوبی امریکا کی طرف دیکھا، جب امریکا نے وینزویلا میں مختلف اہداف پر بڑے پیمانے پر حملے کیے۔ سی بی ایس نیوز کی صحافی جینیفر جیکبز کے مطابق، امریکی حکام نے تصدیق کی کہ صدر ٹرمپ نے فوجی تنصیبات کے خلاف ہدفی حملوں کا حکم دیا تھا۔
فوکس کے مطابق، منشیات کے خلاف جنگ کے سرکاری بیانیے کے پیچھے دراصل امریکی تجارتی مفادات چھپے ہوئے ہیں۔ جرمن انسٹی ٹیوٹ برائے عالمی و علاقائی مطالعات کے لاطینی امریکا امور کے ماہر خسوس رینسویو کا کہنا ہے کہ وینزویلا دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر کا حامل ملک ہے، جہاں اندازاً 303 ارب بیرل تیل موجود ہے۔ یہ ذخائر زیادہ تر بھاری تیل پر مشتمل ہیں، جن کی پیداوار اور صفائی کے لیے جدید اور خصوصی ٹیکنالوجی درکار ہوتی ہے۔
اخبار کے مطابق، وسیع تیل کے ذخائر کے باوجود وینزویلا کی موجودہ پیداوار انتہائی کم ہو چکی ہے اور اس وقت یومیہ تقریباً 10 لاکھ بیرل تیل پیدا کیا جا رہا ہے، جبکہ بیس سال قبل یہ پیداوار قریب 30 لاکھ بیرل یومیہ تھی۔ اس کمی کی وجوہات میں امریکی پابندیاں، سرکاری تیل کمپنی PDVSA کی بدانتظامی اور بدعنوانی شامل ہیں۔
فوکس نے مزید لکھا کہ امریکی تیل کمپنی شیورون نے رواں سال وینزویلا میں دوبارہ تیل کی پیداوار شروع کی ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ فوجی کارروائی طویل عرصے سے منصوبہ بندی کا حصہ تھی۔ ٹرمپ کے دور میں وینزویلا میں امریکا کے سابق سفیر جیمز اسٹوری کے مطابق، تعینات امریکی فوجی وسائل محض منشیات کنٹرول کے لیے نہیں بلکہ کہیں زیادہ تباہ کن مقاصد کے حامل ہیں۔
جرمن اخبار کے مطابق، اس حملے کے پیچھے ایک اور محرک ٹرمپ کی اپنی سیاسی وراثت کو مضبوط بنانا ہے۔ اگرچہ وہ خود کو عالمی سطح پر ایک “ڈیل میکر” کے طور پر پیش کرتے ہیں جو جنگوں کا خاتمہ چاہتا ہے، مگر وینزویلا انہیں ایک تیز اور نمایاں کامیابی کا موقع دکھائی دیتا ہے۔ نیکولس مادورو کی حکومت کا خاتمہ خطے میں طاقت کے مظاہرے کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔
تاہم خسوس رینسویو کے مطابق، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو جو مادورو کے سخت مخالف سمجھے جاتے ہیں، اس موقع کو کیوبا پر دباؤ بڑھانے کے لیے بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کیوبا اس وقت شدید معاشی بحران کا شکار ہے اور اس کی توانائی کی فراہمی بڑی حد تک وینزویلا کے تیل پر منحصر ہے۔
رپورٹ کے مطابق، اگر وینزویلا میں حکومت کا خاتمہ ہوتا ہے تو کیوبا شدید معاشی دباؤ میں آ جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی، وینزویلا سے امریکا کی جانب بڑھتی ہوئی ہجرت بھی ٹرمپ کے لیے ایک داخلی سیاسی دلیل ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، وینزویلا سے امریکا جانے والے تارکین وطن کی تعداد 1980 میں 33 ہزار تھی جو 2023 میں بڑھ کر 7 لاکھ 70 ہزار تک پہنچ گئی۔
فوکس کے مطابق، ٹرمپ اس مسئلے کو اپنی سخت گیر پالیسیوں کے جواز کے طور پر پیش کرتے ہوئے داخلی سیاست میں فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔


مشہور خبریں۔
امریکی پولیس کا گھٹنہ اس بار 12 سالہ لڑکی کی گردن پر
?️ 20 مارچ 2022سچ خبریں:امریکی ریاست وسکونسن کے ایک اسکول میں ایک امریکی پولیس افسر
مارچ
لاہور: این سی سی آئی اے کے 6 افسران کا مزید 3 روزہ جسمانی ریمانڈ، سوا 4 کروڑ روپے برآمد
?️ 31 اکتوبر 2025 لاہور: (سچ خبریں) ضلع کچہری لاہورنے رشوت لینے کے مقدمے میں
اکتوبر
پیجرز کا حملہ اور جدید جنگ میں ڈیٹرنس کی بنیادی تبدیلیاں
?️ 26 ستمبر 2024سچ خبریں: لبنانی شہریوں کے خلاف حالیہ دنوں میں صیہونی حکومت کی سائبر،
ستمبر
پیپلز پارٹی کا آرمی چیف کے حوالے سے اعتزاز احسن کے بیان سے اظہار لاتعلقی
?️ 13 اکتوبر 2022 اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنے بزرگ رہنما اعتزاز
اکتوبر
گوگل میں صیہونیوں کی خدمات
?️ 2 ستمبر 2022سچ خبریں: صہیونی فوج کے ساتھ کمپنی کے معاہدے کے خلاف
ستمبر
لبنان حزب اللہ کے خلاف اسرائیل کے مطالبات کو کبھی تسلیم نہیں کرے گا
?️ 30 جنوری 2024سچ خبریں:لبنان کا جنوب اس وقت تک آرام سے نہیں بیٹھے گا
جنوری
امریکہ میں کورونا وائرس کی اصل کی تحقیقات کا مطالبہ
?️ 1 مئی 2025سچ خبریں: گزشتہ کل چین کی ریاستی کونسل کے انفارمیشن آفس نے
مئی
سوڈانی اعلیٰ عہدیدار کا تل ابیب کے ساتھ سکیورٹی تعاون کا اعتراف
?️ 13 فروری 2022سچ خبریں:سوڈانی گورننگ کونسل کے سربراہ نے اعتراف کیا کہ اس ملک
فروری