نیتن یاہو کے خلاف مقبوضہ علاقوں میں مظاہروں کی نئی لہر شروع

نیتن یاہو

?️

نیتن یاہو کے خلاف مقبوضہ علاقوں میں مظاہروں کی نئی لہر شروع
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی جانب سے غزہ پر مکمل قبضے اور فوجی کارروائیوں میں توسیع کے منصوبے کے بعد مقبوضہ علاقوں میں ان کے خلاف ایک نئی احتجاجی لہر اٹھ کھڑی ہوئی ہے، جس میں فوجی، سیکیورٹی شخصیات، اپوزیشن رہنما اور عام شہری شامل ہیں۔
ایرنا نے خبر ایجنسی سما کے حوالے سے بتایا کہ اسرائیلی کابینہ نے حال ہی میں غزہ شہر پر قبضے کا منصوبہ منظور کیا، جس نے اسرائیلی سیاسی، فوجی اور سیکیورٹی حلقوں میں گہری مخالفت کو جنم دیا ہے۔ سابق شاباک چیف یورام کوہن نے کہا کہ قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ کافی عرصے سے ممکن تھا لیکن اس میں سب سے بڑی رکاوٹ خود نیتن یاہو تھے۔
عبری میڈیا کے مطابق، بن گوریون یونیورسٹی کی اعلیٰ انتظامیہ آئندہ ہفتے اسرا کے اہل خانہ کے احتجاجی اعتصاب میں شامل ہوگی۔ اس کے علاوہ، سیکڑوں ریٹائرڈ اور ریزرو ایئر فورس پائلٹس نے اعلان کیا ہے کہ وہ فوجی کمانڈ ہیڈکوارٹر کے باہر مظاہرہ کریں گے تاکہ جنگ میں توسیع کی مخالفت اور قیدیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا جا سکے۔
سابق وزیر آویگدور لیبرمین نے الزام لگایا کہ نیتن یاہو اپنے اتحادیوں کو خوش رکھنے کے لیے قیدیوں اور فوجیوں کی جانوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ اپوزیشن لیڈر یائیر لاپید نے بھی کہا کہ نیتن یاہو کے پاس نہ حماس کو شکست دینے کا منصوبہ ہے اور نہ ہی صلاحیت، اور وہ انتہاپسند عناصر کے دباؤ میں ہیں جو غزہ میں کسی اور حکومت کو برداشت نہیں کریں گے۔
اسرائیلی فوج کے ریٹائرڈ جنرل اسحاق بریک نے اخبار ہاآرتص میں لکھا کہ نیتن یاہو اپنی بقا کے لیے لڑ رہے ہیں اور اس مقصد کے لیے فوج، قیدیوں اور ریاست کو قربان کرنے پر تیار ہیں۔
قیدیوں کے اہل خانہ نے 17 اگست کو بڑے پیمانے پر احتجاج کا اعلان کیا ہے، جس میں تمام معاشی مراکز کو بند کر دیا جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو کی پالیسی جنگ کو طول دے رہی ہے اور اس سے زندہ قیدیوں کی جان خطرے میں ہے۔
سابق جنرل یسرائیل زیف نے خبردار کیا کہ کابینہ فوج پر وہ منصوبہ مسلط کر رہی ہے جس پر خود فوج کو اعتماد نہیں، اور یہ پالیسی غزہ میں مزید تباہی کا باعث بنے گی۔
روزنامہ یدیعوت آحارنوت نے بھی انتباہ دیا کہ غزہ پر قبضہ اسرائیل کے بجٹ پر بھاری پڑے گا، جس سے تعلیم اور صحت کے شعبوں کے فنڈز میں بڑی کٹوتیاں ہوں گی اور سالانہ 49 ارب ڈالر تک کا اضافی بوجھ پڑ سکتا ہے۔

مشہور خبریں۔

سلامتی کونسل کے بیان پر صنعاء کے مختلف حکام کا رد عمل

?️ 6 اکتوبر 2022سچ خبریں:   سلامتی کونسل نے ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ مذاکرات

حماس کے فیصلہ کن ردعمل پر صہیونی حلقوں کا غصہ

?️ 7 فروری 2024سچ خبریں:معاریو اخبار کے مطابق حماس گروپ نے ایک بار پھر معاندانہ

واشنگٹن ہوائی حادثے کے بارے میں ٹرمپ کا عجیب اظہار خیال

?️ 30 جنوری 2025سچ خبریں:امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن میں فوجی ہیلی کاپٹر

سویڈن نے باضابطہ طور پر نیٹو کی رکنیت کے لیے درخواست دی

?️ 17 مئی 2022سچ خبریں: نیٹو کے عدم پھیلاؤ پر روسی احتجاج اور مغربی فوجی

سعودی عرب اور روس کے درمیان پولیس تعاون بڑھانے کا معاہدہ

?️ 28 مئی 2023سچ خبریں:روسی وزیر داخلہ نے ریاض کے دورے کے بعد اس بات

وزیر اعظم کا قوم سے جلد خطاب متوقع

?️ 19 مئی 2022اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف کا کل قوم سے خطاب کا امکان

حکومت سندھ کا صوبے بھر میں 22 سے زائد میگا اسپورٹس ایونٹ منعقد کرانے کا فیصلہ

?️ 21 اکتوبر 2025کراچی: (سچ خبریں) حکومت سندھ نے رواں ماہ کے آخری ہفتے سے

ایرانی صدر کی شہادت پر متعدد ممالک کے حکام کی جانب سے تعزیت کا سلسلہ جاری

?️ 20 مئی 2024سچ خبریں: اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر، وزیر خارجہ اور بعض اعلیٰ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے