نیتن یاہو ٹرمپ سے ملاقات کے بعد پارلیمنٹ تحلیل کرنے کا فیصلہ کریں گے

نیتن یاہو

?️

 نیتن یاہو ٹرمپ سے ملاقات کے بعد پارلیمنٹ تحلیل کرنے کا فیصلہ کریں گے

صہیونی حکومت میں انتہاپسند یہودیوں کی لازمی فوجی بھرتی کے قانون پر اختلافات ایک غیر معمولی سیاسی بحران کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ ایسے میں اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کو امید ہے کہ امریکا کا دورہ اور سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات انہیں سیاسی تعطل سے نکلنے اور آئندہ انتخابات سے متعلق راستہ متعین کرنے میں مدد دے گی۔

اسرائیلی ٹی وی چینل چینل 12 نے ہفتے کے روز رپورٹ کیا کہ نیتن یاہو پیر کے روز امریکی ریاست فلوریڈا میں واقع ٹرمپ کی رہائش گاہ مارالاگو میں ان سے ملاقات کریں گے۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب صہیونی کابینہ اندرونی اختلافات، بالخصوص فوجی بھرتی کے قانون پر شدید دباؤ کا شکار ہے۔

صہیونی میڈیا کے مطابق، اس ملاقات میں ایران، حزب اللہ، شام کی صورتحال اور غزہ میں جنگ بندی کے دوسرے مرحلے جیسے اہم علاقائی اور سکیورٹی امور زیرِ بحث آئیں گے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ ملاقات اسرائیل کے سیاسی مستقبل پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے۔

باخبر ذرائع نے بتایا ہے کہ نیتن یاہو امریکا سے واپسی کے بعد کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمان) کو تحلیل کرنے اور نئے انتخابات کی تاریخ کے بارے میں حتمی فیصلہ کریں گے۔ یہ فیصلہ بڑی حد تک اس بات پر منحصر ہوگا کہ نیتن یاہو کو اس دورے کے دوران کیا سیاسی یا سفارتی کامیابیاں حاصل ہوتی ہیں اور ٹرمپ ان کے سوالات پر کیا ردعمل دیتے ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو کے خلاف تل ابیب کی عدالت میں جاری مقدمات اور ممکنہ معافی کا معاملہ بھی دوبارہ زیرِ بحث آ سکتا ہے، اور امکان ہے کہ ٹرمپ اس سلسلے میں اسرائیلی صدر اسحاق ہرتزوگ پر دباؤ ڈالیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حریدی یہودیوں کی فوجی بھرتی کا مسئلہ نیتن یاہو کے لیے سب سے بڑا سیاسی چیلنج بن چکا ہے۔ کنیسٹ کی خارجہ اور دفاعی کمیٹی کے سربراہ بوعز بیسموت کی جانب سے حریدی نوجوانوں کو فوج میں شامل کرنے سے متعلق پیش کردہ مسودہ قانون کو مذہبی جماعتوں کی سخت مخالفت کا سامنا ہے۔ ان جماعتوں نے عندیہ دیا ہے کہ وہ اتوار کے روز اس بل کے خلاف ووٹ دینے اور ممکنہ طور پر حکومتی اتحاد سے علیحدگی پر غور کریں گی۔

نیتن یاہو کی کوشش تھی کہ ایسا قانون منظور کروایا جائے جو ایک طرف ان کے اتحادی مذہبی گروہوں کو مطمئن رکھے اور دوسری جانب سیکولر جماعتوں اور عوامی دباؤ کو بھی کم کرے، تاہم وہ اب تک اس میں ناکام رہے ہیں۔ اس ناکامی نے نہ صرف سیاسی خلیج کو گہرا کر دیا ہے بلکہ حکومتی اتحاد کے ٹوٹنے کے خدشات کو بھی بڑھا دیا ہے۔

حریدی جماعتیں اپنے پیروکاروں کے لیے مکمل فوجی استثنا کا مطالبہ کر رہی ہیں، جبکہ اپوزیشن جماعتیں اور اسرائیلی عوام کی بڑی تعداد اس مطالبے کو امتیازی اور ناقابلِ قبول قرار دیتی ہے۔ ایسے میں کسی بھی قسم کا سمجھوتہ مشکل دکھائی دیتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، نیتن یاہو پر مذہبی اتحادیوں اور سیاسی مخالفین دونوں کی جانب سے دباؤ بڑھ چکا ہے، جس سے ان کی حکومت کی بقا خطرے میں پڑ گئی ہے اور قبل از وقت انتخابات کے امکانات میں اضافہ ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نیتن یاہو اور ٹرمپ کی ملاقات کو اسرائیلی سیاست کے لیے ایک فیصلہ کن موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔

مشہور خبریں۔

بھارت نے آزادی کے مطالبے کی پاداش میں کشمیریوں کا جینا حرام کررکھا ہے، حریت کانفرنس

?️ 22 مئی 2024سرینگر: (سچ خبریں) بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں

صیہونیوں کا ایرانی سائبر حملوں میں اپنی ناکامی کا اعتراف

?️ 8 مارچ 2023سچ خبریں:صیہونی حکام نے سرکاری طور پر ایک بیان میں ایران سے

اسرائیلی وزارت جنگ کی سپلائی اور سپورٹ چین مزاحمتی محاذ کے ہیکرز کا بنیادی مرکز ہے

?️ 31 جولائی 2025سچ خبریں: اسرائیلی وزارت جنگ کی سپلائی اور سپورٹ چین ریزسٹنس فرنٹ

غزہ کے مہاجرین کی واپسی سے دشمن کا خواب چکنا چور

?️ 27 جنوری 2025سچ خبریں: شمالی غزہ کی پٹی میں پناہ گزینوں کی واپسی پر

شہباز شریف کی پریس کانفرنس پر فوادچوہدری کا ردعمل

?️ 29 ستمبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے شہباز

سربراہ کو تمام اختیارات دینے سے متعلق پیمرا کا فیصلہ کالعدم قرار

?️ 5 نومبر 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) سپریم کورٹ نے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا)

مصر کی میزائل اور ڈرون طاقت سے صیہونی حکومت خوفزدہ 

?️ 17 فروری 2025 سچ خبریں:باخبر ذرائع نے مصری فوج کی میزائل اور ڈرون کی

عدالتی اصلاحات نہ کی گئی تو ملک اقتصادی بحران کا شکار رہے گا

?️ 30 جون 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کہتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے