ممکن ہے بن سلمان امریکہ سے خالی ہاتھ واپس لوٹیں:صہیونی میڈیا

بن سلمان

?️

 ممکن ہے بن سلمان امریکہ سے خالی ہاتھ واپس لوٹیں:صہیونی میڈیا

عبرانی زبان کے ایک میڈیا ادارے نے پیشگوئی کی ہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا حالیہ دورۂ واشنگٹن جنگی طیاروں ایف-35 کی خریداری میں کامیابی کے بغیر ختم ہوسکتا ہے، اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس اہم درخواست کو منظور کرنے کا امکان کم ہے۔

رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی اخبار یدیعوت آحارانوت نے امریکی حکومتی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ پینٹاگون کو ان جدید ترین لڑاکا طیاروں کی ٹیکنالوجی کے چین تک پہنچنے کا خدشہ ہے، یہی وجہ ہے کہ معاہدے کی فوری منظوری مشکل نظر آتی ہے۔

اخبار کے مطابق، اگرچہ حالیہ دنوں میں ایسی اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ محمد بن سلمان کے دورۂ واشنگٹن کے دوران ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دی جاسکتی ہے، مگر حکومتی ذرائع نے واضح کیا کہ ٹرمپ اس دورے کے دوران اتنی بڑی ڈیل کی توثیق کرنے کے حق میں نہیں۔

ماہرین نے بھی اس امکان کا اظہار کیا کہ ٹرمپ کی غیر متوقع فیصلوں کی تاریخ کو دیکھتے ہوئے، اگر سعودی ولی عہد انہیں قائل کرنے میں کامیاب ہوجائیں تو صورتحال بدل سکتی ہے۔ اسرائیل کو تشویش ہے کہ سعودی عرب کو یہ جدید طیارے ملنے سے مشرقِ وسطیٰ میں اس کی فضائی ’’معیاری برتری‘‘ متاثر ہوسکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ٹرمپ کو غزہ پٹی سے متعلق اپنے 20 نکاتی منصوبے کے لیے اسرائیلی تعاون درکار ہے۔

رپورٹ کے مطابق پینٹاگون کی ایک انٹیلی جنس رپورٹ نے خبردار کیا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدوں یا چین کے ساتھ ممکنہ سیکیورٹی تعاون کے باعث ایف-35 کی حساس ٹیکنالوجی بیجنگ کے ہاتھ لگ سکتی ہے۔ امریکی دفاعی حکام اسی وجہ سے اس معاہدے پر شدید تحفظات رکھتے ہیں۔

اس ڈیل کو وائٹ ہاؤس میں جاری مذاکرات کے ساتھ ساتھ اس بات سے بھی جوڑا جارہا ہے کہ واشنگٹن چاہتا ہے کہ ریاض توافقِ ابراہیم میں شامل ہو جائے۔

صدر ٹرمپ نے گزشتہ دنوں دورانِ پرواز صحافیوں سے گفتگو میں کہا،امید ہے سعودی عرب جلد ہی ابراہیم معاہدے کا حصہ بنے گا۔ وہ بہت سی خریداری کرنا چاہتے ہیں، جن میں ایف-35 طیارے بھی شامل ہیں اور میں اس کا جائزہ لے رہا ہوں۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکہ چاہتا ہے کہ سعودی عرب جلد اس معاہدے کا حصہ بنے، لیکن اس کے فوری امکان کم ہیں۔ البتہ انہیں امید ہے کہ ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کے اختتام تک، یعنی 2029 کے اوائل میں، ریاض اس معاہدے میں شامل ہوسکتا ہے۔

مشہور خبریں۔

پاکستانی حدود سے 6 بھارتی ’اسمگلرز‘ گرفتار کرلیے گئے، آئی ایس پی آر

?️ 22 اگست 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان رینجرز نے بھارت کی جانب سے اسمگلنگ

مغربی کنارہ اسرائیل کے لیے مستقل ڈراؤنا خواب :صیہونی اخبار

?️ 13 فروری 2022سچ خبریں:عبرانی زبان کے ایک ذریعہ ابلاغ نے مغربی کنارے میں دھماکے

ہیگ کی عدالت کا چ کی مذمت کرتے ہوئے نیا حکم جاری 

?️ 22 اکتوبر 2025سچ خبریں: بین الاقوامی عدالت انصاف آج بدھ کے روز غزہ پٹی پر

امریکا کی زیر قیادت ڈیموکریسی کانفرنس، چین کو ناراض کیے بغیر پاکستان کی شرکت کا امکان

?️ 27 مارچ 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) واشنگٹن میں رواں ہفتے ہونے والی ڈیموکریسی سربراہی کانفرنس

مریم نواز وزیر اعلٰی پنجاب منتخب، عہدے کا حلف اٹھالیا

?️ 26 فروری 2024لاہور: (سچ خبریں) پاکستان مسلم لیگ (ن) کی چیف آگنائرز اور سینئر

نجکاری کے کیسز نمٹانے کیلئے خصوصی ٹربیونل بنانے کی منظوری

?️ 9 دسمبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) نگران وفاقی کابینہ نے صدارتی آرڈیننس کی حتمی

خطے کے امن کے لیے فلسطین کے مسئلے کا عادلانہ حل ضروری: سعودی عرب

?️ 30 اپریل 2025سچ خبریں: جدہ میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی صدارت

پاکستان نے ہمیشہ امن کو جنگ پر فوقیت دی ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر

?️ 19 جون 2025کراچی (سچ خبریں) ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے