مزاحمتی تحریک کی سائٹوں کو بند کرنے کا امریکہ کا مقصد

امریکہ

?️

سچ خبریں:ایک لبنانی اسٹریٹجسٹ نے مزاحمتی تحریک کے محور سے تعلق رکھنے والی ویب سائٹس کو بندکرنے میں امریکہ کے اہداف کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ اس کاروائی سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں ایک نیا فتنہ کھڑا ہونے والاہے۔
امریکہ نے حال ہی میں مشرق وسطی میں مزاحمتی تحریک کے محور سے وابستہ ذرائع ابلاغ کے خلاف نیا مخالفانہ مؤقف اپنایا ہے جس کے تحت امریکی محکمہ انصاف نے ایک بیان جاری کیا جس میں اسلامی نشریاتی یونین کے زیر استعمال 33 ویب سائٹس اور عراق میں کتائب حزب اللہ سے متعلق تین ویب سائٹوں پر پابندی عائد کردی گئی جو کہ اظہار رائے کی آزادی کی صریح خلاف ورزی ہے، تاہم امریکی محکمہ انصاف نے اپنے اس اقدام کا جواز پیش کرتے ہوئے ایک بیان جاری کیاجس میں یہ دعوی کیا گیا کہ مختلف ویب سائٹوں کو بلاک کرنے اور امریکی کاروائی قانون کے مطابق تھی اس لیے انھوں نے امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کی تھی۔

امریکیوں نے جن ویب سائٹوں کو بند کیا ہے ان میں العالم ، المسیری ، النبا ، الفرات ، کربلا ، اللؤلؤ ، الکوثر ، النعیم ، فلسطین الیوم ،آفاق،الاشراق،المعلومہ، اورالمسار الاولی شامل ہیں،امریکی محکمہ انصاف کے اس اقدام نے علاقائی رد عمل کو ہوا دی۔

اس سلسلے میں المسیرہ چینل کے تعلقات عامہ نے اس چینل کی سائٹ کو بند کرنے کے امریکی حکومت کے حالیہ اقدام سے متعلق ایک بیان جاری کیاجس میں کہا گیا کہ المسیرہ کی ویب سائٹ کو مسدود کرنے کا کوئی جواز نہیں ہےنیز اس سلسلے میں لبنانی ممتاز اسٹریٹجسٹ اور تجزیہ کار امین حطیط نے بھی اپنے ایک تجزیہ میں لکھا کہ خطے میں مزاحمتی تحریک کے محور سے وابستہ ویب سائٹوں کو مسدود کرکے امریکہ نے اپنے ایجنڈے میں تین اہم اہداف رکھے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ امریکہ کا پہلا مقصد گذشتہ مہینوں کے دوران خطے میں امریکیوں کی متعدد اور اسٹریٹجک شکستوں کو مزاحمتی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ منظر عام پر آنے سے روکنا ہےاس لیے کہ امریکی بخوبی واقف ہیں کہ خطے اور دنیا میں عوام کو ان ناکامیوں کے بارے میں معلوم ہونے کے ان کے لیے سنگین نتائج برآمد ہوں گے،امریکہ کا دوسرا مقصد خطے میں نئی حکمت عملیوں کے نفاذ کے لئے گراؤنڈ تیار کرنا ہے، امریکیوں نے خطے کے مختلف ممالک کو غیر مستحکم کرنے کے لئے متعدد منصوبے اور منظرنامے وضع کیے ہیں اور یہ بات واضح ہے کہ ان منظرناموں کے نفاذ کے بعد ابتدا میں میڈیا کو خاموش کرنے کی ضرورت ہوگی، ایسا لگتا ہے کہ اس خطے میں امریکیوں کی طرف سے ایک نیا فتنہ اٹھنے جارہا ہے ۔

لبنانی تجزیہ کار نے مزید کہا کہ امریکہ نےاس فتنے کو چھپانے کے لئے مزاحمتی میڈیا کے خلاف کاروائی کی، امریکہ کا تیسرا مقصد انتقام لینا ہوسکتا ہے،در حقیقتامریکی خطے میں متعدد دھچکوں کا سامنا کرنے کے لئے مزاحمتی میڈیا کو مورد الزام قرار دیتے ہیں لہذا انہوں نے مزاحمت سے وابستہ ویب سائٹوں کو بند کرنا ایک طرح کا انتقام سمجھا۔

 

مشہور خبریں۔

امریکہ کو ایران پر حملہ نہ کرنے کے کی ضمانت دینا ہو گی:روس

?️ 11 جون 2026سچ خبریں:روسی نمائندہ میخائل اولیانوف نے کہا ہے کہ ایران کی جوہری

امریکی یونیورسٹیوں میں مسلح تشدد کا تسلسل / انڈیانا یونیورسٹی میں 9 افراد زخمی

?️ 26 اپریل 2026 سچ خبریں: امریکہ کی یونیورسٹیوں اور دیگر تعلیمی مراکز میں مسلح تشدد

برسلز-واشنگٹن معاہدہ؛ امریکہ جیو پولیٹکس جیت گیا

?️ 23 ستمبر 2025سچ خبریں: یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین اور امریکی

بھارت کو آبی جارحیت کے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔ بیرسٹر سیف

?️ 29 اگست 2025اسلام آباد (سچ خبریں) مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا

فلسطینی قیدیوں کے ساتھ صیہونیوں کا نسل پرستانہ سلوک

?️ 23 مئی 2022سچ خبریں:فلسطینی قیدیوں کے امور کی نگراں کمیٹی کے ذرائع ابلاغ نے

فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے ٹرائل، 90 روز میں عام انتخابات کرانے سے متعلق درخواستیں سماعت کیلئے مقرر

?️ 20 اکتوبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں میں عام شہریوں

پاکستانی متعدد رہنماؤں کا مغربی ممالک کو پیغام

?️ 11 دسمبر 2023سچ خبریں: پاکستان کی سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے سربراہوں نے صیہونی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے